صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کی بقول اُن کے ناکام جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بعد ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کی بنا پر غیرملکی کمپنیوں نے ایران کے ساتھ موجودہ ٹھیکوں کو ختم کرنے اور نئے منصوبے لینے سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے کمپنیوں کو ایران میں اپنے کاروبار سمیٹنے کے لیے 180 دن یعنی چار نومبر تک کا وقت دیا ہے۔ بصورت دیگر اُن کمپنیوں پر مالی اداروں سمیت امریکہ کے میں کسی بھی ادارے کے ساتھ  یا امریکہ میں کاروبار کرنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔

دہشت گردی و مالیاتی انٹیلی جنس سے متعلق محکمہ خزانہ کی انڈر سیکرٹری، سیگل مینڈلکر کا کہنا ہے کہ “ایرانی حکومت نے دہشت گردی کو ہوا دینے کے لیے دنیا بھر سے غیرقانونی طور پر جہازوں کے پرزہ جات حاصل کرنے کے لیے برائے نام کمپنیوں کا استعمال کیا ہے اور دھوکہ دہی سے کام لیا ہے۔” انہوں نے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران کے گمراہ کن جال میں پھنسنے سے بچنے کے لیے اپنی کمپنیوں کا خاطرخواہ طور پر خاص خیال رکھیں۔”

ایرانی تیل و گیس کی صنعت پر پابندیوں کی فوری بحالی کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس صنعت کو اپنی پیداوار میں اضافے کے لیے غیرملکی شراکت داروں کی تلاش ہے۔ 2016 میں ایران تیل برآمد کرنے والا دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک تھا جو روزانہ 40 لاکھ بیرل خام تیل پیدا کر رہا تھا۔

ذیل میں چند ایسی غیرملکی کمپنیوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو ایران کے ساتھ معاہدے ختم کر رہی ہیں:

  • ٹوٹل ایس اے: فرانس سے تعلق رکھنے والی تیل و گیس کی بڑی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے ‘نیشنل ایرانین آئل کمپنی’ کے ساتھ 2 ارب ڈالر کی مالیت کا دنیا میں گیس کے کنووں کے سب سے بڑے منصوبے کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ کسی ایسی ثانوی پابندی کی متحمل نہیں ہو سکتی جس کے باعث اسے دنیا بھر میں منصوبوں پر کام کے لیے امریکی بینکوں کے ساتھ مالیاتی لین دین سے محروم ہونا پڑے۔ یہ کمپنی محکمہ خزانہ سے اس ٹھیکے کے سلسلے میں چھوٹ کی خواہش مند ہے مگر اسے اندازہ ہے کہ ایسا ہونے کا امکان نہیں۔
  • ایئر بس: یورپی طیارہ ساز کمپنی نے ایران کو 98 جیٹ جہاز فراہم کرنے کے لیے 19 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔ وزیرخزانہ سٹیون منوچن نے کہا ہے کہ اس فروخت کے لیے امریکی لائسنس منسوخ کر دیا گیا ہے۔ طیاروں کی فروخت کے لیے لائسنس کا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ فرانسیسی کمپنی جیٹ جہازوں کے پرزہ جات امریکہ میں بناتی ہے۔ ایئربس کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال اور گاہکوں پر اس کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے تاہم کمپنی پابندیوں اور برآمدی انضباط کی پوری تعمیل کرے گی۔ یہ کمپنی ایران کو تین طیارے پہلے ہی فراہم کر چکی ہے۔
  • میئرسک لائن: دنیا میں کنٹینروں کی سب سے بڑی اِس شپنگ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ عملے کے 12 ارکان سمیت ایران میں اپنا کاروبار ختم کر دے گی۔ ڈنمارک سے تعلق رکھنے والی کمپنی نے ایک بیان میں کہا، “ایران میں ہماری موجودگی محدود ہے۔” یہ متحدہ عرب امارات میں جبل علی سے ایرانی بندرگاہ بندر عباس اور بوشہر میں کنٹینر پہنچانے کے لیے تیسرے فریق کے جہاز استعمال کر رہی ہے۔
  • یورپ میں گاڑیاں بنانے والی دوسری سب سے بڑی گروپ پی ایس اے نامی فرانسیسی کمپنی، ایران کو’پییو’ اور ‘سِترون’ کی فروخت کے دو مشترکہ کاروبار معطل کر رہی ہے جبکہ  یہ کمپنی فرانسیسی حکومت سے پابندی میں چھوٹ کی خواہاں بھی ہے۔
  • جرمنی کے دوسرے سب سے بڑے مالیاتی ادارے ڈی زیڈ بینک کا کہنا ہے کہ وہ یکم جولائی سے ایران کے ساتھ مالیاتی لین دین معطل کر دے گا۔
  • روسی تیل کمپنی لوک آئل نے ایران میں اپنا کام آگے بڑھانے کے منصوبے روک دیے ہیں۔
  • خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت میں تیل صاف کرنے والی بڑی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز ایران سے تیل کی خریداری روکنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

 

ncy Reuters.