جب بیرونی ممالک میں امریکہ کے سفارتی مشن فائیو جی ٹکنالوجی اپنائیں گے تو امریکی محکمہ خارجہ، امریکہ اور بیرونی ممالک میں سفارتی مشنوں کے درمیان ٹریفک کے لیے ‘کلین پاتھ’ (محفوظ راستہ) کو لازمی قرار دینے کا آغاز کر دے گا۔

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے 29 اپریل کو کہا، "آسان الفاظ میں آئندہ آنے والے فائیو جی نیٹ ورکس میں، امریکی سفارتی نظام میں داخل ہونے والی موبائل ڈیٹا ٹریفک کو، اگر یہ ہواوے کی مشینوں اور آلات کے ذریعے آئے گی تو نئی، سخت شرائط کے تحت پرکھا جائے گا۔”

گو کہ بتایا جاتا ہے کہ ففتھ جنریشن ( فائیو جی) وائرلیس انٹرنیٹ حیرت انگیز طور پر تیز رفتار ہو گا، تاہم یہ ٹیلی کمیونیکیشن کے آلات بنانے والی عوامی جمہوریہ چین (پی آر سی) سے تعلق رکھنے والی ہواوے اور زیڈ ٹی ای جیسی ناقابل بھروسہ کمپنیوں کی وجہ سے اپنے ساتھ اچھے خاصے خطرات بھی لے کر آئے گا۔

پی آر سی کی کمپنیاں ملک کے قومی انٹیلی جنس قانون کے تحت "قومی انٹیلی جنس کی کوششوں میں مدد کرنے، اعانت کرنے اِن میں تعاون کرنے” اور اس تعاون کو خفیہ رکھنے کی پابند ہیں۔

پومپیو نے کہا، "ہم وہ سب کچھ کرنا جاری رکھیں گے جو کچھ ہم اپنے انتہائی اہم ڈیٹا اور نیٹ ورکوں کو چینی کمیونسٹ پارٹی سے محفوظ رکھنے کے لیے کر سکتے ہیں۔”

محکمہ خارجہ کی "فائیو جی کلین پاتھ” پالیسی کا مقصد بے اعتبار آئی ٹی کمپنیوں کو محکمہ خارجہ کے نظاموں تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا ہے۔

محکمہ خارجہ فائیو جی سکیورٹی نیٹ ورکوں کے بارے میں ، بالخصوص ایسے نیٹ ورک جن میں پی آر سی کی کمپنیوں کے آلات یا سوفٹ ویئر شامل ہیں، پہلے ہی خدشات کا اظہار کر چکا ہے۔

اِن خدشات کی بنیاد چین کے اپنے قوانین ہیں۔ قانون کے تحت پی آر سی کی ٹیلی کام کمپنیاں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی اور چین کے انٹیلی جنس اداروں کے مفادات پورے کریں۔ اگر ہوواوے یا آلات بنانے والی دیگر کمپنیاں کسی ملک کے فائیو جی کے اہم بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کریں گی تو اس صورت میں چینی حکومت کے پاس اِن نیٹ ورکوں پر اپنا اختیار استعمال کرنے کے طاقت ہوگی۔

ایک بے اعتبار کمپنی کسی دوسرے ملک کے فائیو جی نیٹ ورک پر جانے والے ڈیٹا کو چوری کر سکتی ہے، اس ڈیٹا پر انحصار کرنے والی سہولتوں میں گڑبڑ کر سکتی ہے یا خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ اس کمپنی کو اِن انتہائی اہم سہولتوں کو درہم برہم کرنے یا اِن سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے بھی مجبور کیا جا سکتا ہے۔

پومپیو نے کہا کہ بالکل اسی طرح جیسے کہ امریکہ "اپنی زمینی سرحدوں کے دفاع کے لیے اقدامات اٹھاتا ہے اُسی طرح ہم سائبر سرحدوں پر بھی امریکہ کا دفاع کر رہے ہیں.”