مخففاً فائیو جی کہلانے والی پانچویں نسل کی ٹیلی کمیونیکیشن ٹکنالوجی سے تجارتی رازوں کو محفوظ رکھنے کے بارے میں پریشانیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

فائیو جی سے منسلک ہونے والے آلات اور افراد کی تعداد میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا جائے گا، ہواوے جیسی چین کی ملکیتی کمپنیوں اور اُن کے ذریعے چینی حکومت دنیا سے متعلق ڈیٹا تک ایسی رسائی حاصل کر سکے گی جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

مئی میں امریکہ کے سائبر سفارت کار سٹریئر نے کہا، “ملکوں کو چاہیے کہ وہ چین کو ہم سے ملکِ دانش حاصل کرنے کے لیے فائیو جی کو منتقلی کا ایک اور ذریعہ بننے کی اجازت نہ دیں۔”

املاکِ دانش کے حقوق: چین اور امریکہ میں

امریکہ نے ملکِ دانش کے تحفظ کے لیے جو نظام بنا رکھے ہیں اُن کا شمار دنیا کے مضبوط ترین نظاموں میں ہوتا ہے۔ یہ نظام جدت طرازی میں امریکی سرکردگی کو بڑہانے میں مدد گار ثابت ہوئے ہیں۔ ملکِ دانش (آئی پی) کا ہر حال میں تحفظ کیا جانا چاہیے۔ ورنہ تحقیق اور ترقی پر خرچ کیے جانے والے کروڑوں ڈالر ضائع ہو جائیں گے کیونکہ آپ کے خیالات اور طریقے چرا لیے جائیں گے اور  آپ کے مسابقین مارکیٹ میں آپ سے پہلے اُسی قسم کی چیز یا خدمات لے آئیں گے۔

اس کے برعکس، چین میں اوپر سے لے کر نیچے تک، حکومتی نگرانی میں چلنے والی معیشت، سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان فرق کو واضح کرنے والی لکیر کو دھندلا دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، امریکی فرد جرموں کے مطابق، پانچ سال سے زائد عرصے تک چینی حکومت اپنی ملکی سلامتی کی وزارت کو فرانسیسی خلائی کمپنی کے کمپیوٹروں کو ٹربو فین انجنوں کی ٹکنالوجی کو ہیک کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی۔

چینی حکومت کی مالکیت ایک خلائی کمپنی اُس وقت چین اور دوسری جگہوں پر بنائے جانے والے کمرشل طیاروں میں استعمال ہونے والے اسی طرح کے انجن بنانے پر کام  کر  رہی تھی۔

املاکِ دانش کیا ہیں؟

املاکِ دانش کا عالمی فورم املاکِ دانش کی تعریف اِن الفاظ میں کرتا ہے کہ یہ [املاک] “ایجادوں؛ ادب پاروں اور فن پاروں؛ ڈیزائنوں؛ اور تجارت میں استعمال کی جانے والی علامات، نام اور تصاویر جیسی ذہنی تخلیقات ہوتی ہیں۔”

اِن تخلیقات کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ اس سے تخلیق کار اپنے کاموں سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے منفرد نظریات کو کاروباروں، آرٹ اور ڈیزائن کے فروغ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

املاکِ دانش کی چوری کی قیمت

کاروباری رازوں کی چوری، ملازمین کو رشوت دینا اور غیرملکی کمپیوٹروں کو ہیک کرنا — یہ اُن تین طریقوں کی مثالیں ہیں جن سے ٹکنالوجی کی دنیا کا سب سے بڑا ہیرو بننے کی کوشش کرنے والے چین کی کمپنیوں نے غیر ملکی ایجادات اور ملکِ دانش کو چرایا ہے۔

سٹریئر نے بتایا، “ایسے موقعوں پر چین اپنے تجارتی مفادات کو فائدہ پہچانے کی خاطر ملکِ دانش کی چوری  کی ایک طویل تاریخ رکھتا  ہے جب وہ رسائی حاصل کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اس کا مقصد اپنے تجارتی مفادات کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے۔”

2017ء میں امریکہ کے تجارتی نمائندے نے پتہ چلایا کہ امریکہ کو، چین کی طرف سے چوری کی جانے والی اپنی ملکِ دانش کی قیمت 225 اور 600 ارب ڈالر سالانہ کے درمیان چکانا پڑتی ہے۔

اس کی ایک نمایاں مثال 2018ء میں اس وقت سامنے آئی جب بیجنگ میں قائم ہوائی ٹربائنوں کی ایک کمپنی کو ایک امریکی کمپنی کی ملکِ دانش چرانے کا امریکہ میں مجرم پایا گیا۔ مقدمے کے دوران پیش کیے جانے والے شواہد کے مطابق چینی کمپنی کی چوری سے میساچوسٹس کی اس کمپنی کی قیمت ایک ارب ڈالر سے زیادہ گری اور تقریباً سات سو ملازمتیں ختم ہوگئیں۔

بدقسمتی سے چین کی ملکِ دانش کی چوریاں امریکی کمپنیوں تک ہی محدود نہیں۔ 2018ء کی سائبر سے متعلق امریکہ کی قومی تزویراتی پالیسی کے مطابق چین دنیا بھر میں “کھربوں ڈالر مالیت کی ملکِ دانش کی چوریاں” کرتا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے اکثر وہ کمپنیوں کے کمپیوٹروں میں ہیکنگ کرتا ہے۔ پیچیدہ نوعیت کے اِن حملوں میں تجارتی پیٹنٹوں، ٹکنالوجی، ٹریڈ مارکوں اور اشاعتی حقوق کی چوریاں شامل ہوتی ہیں۔

مثلاً ہواوے نے جو کہ سمارٹ فون بنانے والی دنیا کی دوسری سب سے بڑی کمپنی ہے، ایک روبوٹ کا خاص قسم کا بازو چرایا۔ یہ بازو سمارٹ فونوں کی جانچ پڑتال کرنے کی خاطر ایک جرمن ذیلی کمپنی ٹی موبائل نے بنایا تھا۔ یہ بات امریکی حکومت نے 2018ء کی ایک فرد جرم میں کہی۔ ہواوے کمپنی اس کی نقل تیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔

اسی طرح، چینی حکومت کے دو ہیکروں پر 2018ء میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، جاپان، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور امریکہ کی مشہور خلائی، توانائی، ٹیلی کام، میڈیکل اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کے کاروباری راز چرانے کا الزام لگایا گیا۔

بدقسمتی سے ملکِ دانش کی چوری کا فیصلہ کرنے میں سالوں لگ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر 30 ماہ کی مقدمہ بازی کے بعد ایکس ٹی اے ایل نامی ایک چینی کمپنی کو 2019ء میں ہالینڈ کی ایک ٹکنالوجی کی کمپنی کے سورس کوڈوں، قیمتوں کے تعین کی حکمت عملیوں، سوفٹ ویئر، خفیہ الگورتھم اور صارفین کے لیے ہدایات کی کتابوں سمیت ایک لاکھ سے زائد فائلیں چوری کرنے کا مجرم پایا گیا۔