ٹرک سے تھیلے اتارتے ہوئے لوگ (© Sameh Rahmi/NurPhoto/Getty Images)
2 جون کو فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی کاموں کے ادارے کے کارکن غزہ شہر میں پناہ گزین خاندانوں کو کھانے کا سامان پہنچانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ (© Sameh Rahmi/NurPhoto/Getty Images)

امریکہ فلسطینیوں کی کووڈ-19 سے نمٹنے اور طویل مدتی امن، استحکام اور خوشحالی کی تعمیر میں مدد کر رہا ہے۔

وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے 7 اپریل کو فلسطینیوں کے لیے انسان دوست، اقتصادی اور ترقیاتی امداد بحال کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی غیر ملکی امداد “ضرورت مند ترین افراد کو انتہائی اہم مدد فراہم کرتی ہے، معاشی ترقی کو فروغ دیتی ہے، اور اسرائیلی – فلسطینی افہام و تفہیم، سلامتی کی رابطہ کاری اور استحکام میں مدد کرتی ہے۔”

بلنکن نے مغربی کنارے اور غزہ میں معیشت اور ترقی کے لیے 75 ملین ڈالر اور امن کے قیام کے پروگراموں کے لیے 10 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔ یہ امداد امریکہ کے ترقیاتی ادارے (یو ایس ایڈ) کے ذریعے دی جائے گی اور کانگریس کی منظوری سے مشروط ہے۔

اسی اعلان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ مشرق قریب میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی کاموں کے ادارے (یو این آر ڈبلیو اے یا انروا)  کو 150 ملین ڈالر کی امداد بھی فراہم کر رہا ہے۔ انروا پانچ لاکھ فلسطینی بچوں کی تعلیم سمیت، ہنگامی ضروریات اور بنیادوی سہولتیں فراہم کرنے کا بندوبست کرے گا۔

 ایک عورت ایک طالبہ کے ہاتھ پرسینیٹائزر ڈال رہی ہے جبکہ باقی طالبات اپنی نشستوں پر بیٹھیں انہیں دیکھ رہی ہیں۔ (© Adel Hana/AP Images)
ایک ٹیچر 8 اگست 2020 کو اقوام متحدہ کی جانب سے غزہ شہر میں پناہ گزینوں کے کیمپ میں قائم سکول میں کلاسیں شروع ہونے کے پہلے دن بچوں کو جراثیم کش سینیٹائزر دے رہی ہے۔ (© Adel Hana/AP Images)

بلنکن نے کہا، “انروا کووڈ-19 کے سلسلے میں انتہائی اہم مدد بھی فراہم کرتا ہے۔ اس میں صحت کی سہولتوں، دوائیوں، اور طبی سامان کے ساتھ ساتھ اُن گھرانوں کو نقد رقم بھی دی جاتی ہے جو کووڈ-19 سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ امریکہ نے یہ یقینی بنانے کا پختہ عزم کیا ہوا ہے کہ انروا کے ساتھ ہماری شراکت کاری غیرجانبداریت، احتساب، اور شفافیت کو فروغ دے۔”

امریکہ سکیورٹی میں مدد کے وہ انتہائی اہم پروگرام بھی دوبارہ شروع کر رہا ہے جو امریکی قوانین کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں۔

امریکہ 1949ء میں جب سے اقوام متحدہ نے انروا کا ادارہ قائم کیا ہے، انروا کو چھ ارب ڈالر کی امداد دے چکا ہے۔ انروا اردن، لبنان، شام، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں کام کرتا ہے۔

یو ایس ایڈ کے ذریعے معیشت اور ترقی کے لیے دی جانے والی 75 ملین ڈالر کی نئی امداد سے کووڈ-19 سے متاثرہ کاروباروں کی مدد کی جائے گی اور اس سے وبا سے متاثر ہونے والی معیشت کی بحالی کو استحکام حاصل ہوگا۔ اس امداد سے ضرورتمند خاندانوں کو خوراک اور صاف پانی فراہم کیا جائے گا اور مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کو زندگی بچانے والے علاج فراہم کرنے والے ہسپتال کے نیٹ ورک کی مدد کی جائے گی۔ یو ایس ایڈ کے ذریعے 10 ملین ڈالر کی اضافی امداد سے امن کے قیام کے پروگراموں میں مدد کی جائے گی۔ یہ امداد 15 ملین ڈالر کی فلسطینی عوام کے لیے دی جانے والی کووڈ-19 اور غذائی سلامتی سے نمٹنے کی اس امداد کے علاوہ ہے جس کا اعلان مارچ میں کیا گیا تھا۔

امریکہ کووڈ-19 کے خلاف جنگ میں دنیا کا سب سے زیادہ عطیات دینے والا ملک ہے اور کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ویکسینیں تقسیم کرنے کی عالمگیر کوششوں میں مدد کرنے کے لیے چار ارب ڈالر کا وعدہ کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ  حال ہی میں امریکی کانگریس نے دنیا کے ممالک کی مدد کے لیے 11 ارب ڈالر کی منظوری دی ہے تاکہ یہ ممالک کووڈ-19 سے نمٹنے اور بھوک اور وبا کے دیگر ثانوی اثرات کا مقابلہ کر سکیں۔

بلنکن نے کہا کہ فلسطینی عوام کی مدد کرنا، امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے مفادات اور اقدار سے مطابقت رکھتا ہے اور انہوں نے خطے میں استحکام اور ترقی کے لیے عطیات دینے کے لیے دوسروں پر زور دیا۔

انہوں نے کہا، ” امریکہ نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لیے، خوشحالی، سلامتی، اور آزادی کو فروغ دینے کا عزم کر رکھا ہے۔”