فلسطینی عوام اور مشرق وسطی کے لیے منصوبہ

امریکہ نے 50 ارب ڈالر مالیت کا "امن سے خوشحالی” کے نام سے ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کے لیے ملازمتیں پیدا کرنا اور خطے میں سرمایہ کاری کرنا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے 22 جون کو اس منصوبے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر صدر کے معاون جیرڈ کشنر نے کہا، "ایک طویل مدت سے فلسطینی عوام ماضی کے ناکارہ ڈھانچوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔” کشنر نے اس منصوبے کو "فلسطینی عوام اور خطے کے لیے روشن تر اور خوشحال تر مستقبل کی بنیاد” قرار دیا۔

Right click to save and share

امن کے ذریعے خوشحالی کے منصوبے کی تصویروں، اور عبارت کے ذریعے وضاحت کرنے والا تصویری خاکہ۔ (State Dept./Photos © Shutterstock)
(State Dept./Photos © Shutterstock)

یہ منصوبہ سلطنت بحرین کی مشترکہ میزبانی میں 25 اور 26 جون کو ہونے والی ایک ورکشاپ کا مرکزی موضوع ہو گا۔ اس ورکشاپ میں علاقائی حکومتیں، کاروباری اور سول سوسائٹی کے لیڈر شرکت کریں گے۔ امن کے ذریعے خوشحالی میں مندرجہ ذیل امور شامل ہیں:

  • نجی شعبے کی نمو اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے کی خاطر ایک بہتر کاروباری ماحول۔
  • نجی شعبے میں کامیابی کے لیے فلسطینیوں کو درکار تعلیم اور افرادی قوت کی تربیت پر توجہ کا ارتکاز۔
  • املاک کے حقوق کی بہتری، قانون کی حکمرانی کی مضبوطی، قابل اعتبارعدلیہ کا قیام اور بدعنوانی کے خلاف حفاظتی اقدامات جیسے حکومتی مسائل کا حل۔

امریکہ کا یہ منصوبہ دو حصوں پر مشتمل ہے اور اقتصادی ورکشاپ اس کا پہلا حصہ ہے۔ صدر ٹرمپ کے بین الاقوامی مذاکرات کے نمائندے، جیسن گرین بیلٹ نے بتایا کہ دوسرے حصے میں سیاسی مسائل اور اُن کے حل پر کام کیا جائے گا اور منصوبے کا یہ حصہ اس سال کے اواخر میں پیش کیا جائے گا۔

Right click to save and share

16 جون کو ایک تبصرے میں گرین بیلٹ نے کہا، "ہم یہ نہیں ظاہر کرنا چاہتے کہ کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لیے دونوں فریقوں کو مشکلات سے سمجھوتہ نہیں کرنا پڑے  گا۔ اور نہ ہی ہم یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ فریقین کے سوا کسی اور کو سمجھوتے پر پہنچنے کے لیے مشکلات سے سمجھوتہ کرنے کا حق حاصل ہے۔”

وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا، ” امن کے ذریعے خوشحالی فلسطینی عوام کے لیے آج تک جتنی بھی کوششیں کی گئی ہیں اُن میں سب سے زیادہ اعلٰی مقاصد کی حامل ایک جامع بین الاقوامی کوشش ہے۔ یہ منصوبہ مغربی کنارے اور غزہ کو انقلابی طور پر تبدیل کر سکتا ہے اور فلسطینی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر سکتا ہے۔ ایک ایسا باب جو دشمنی اور نقصان سے نہیں بلکہ آزادی اور وقار سے عبارت ہو۔”