فلم ونڈر وومین: کامیابی کے نئے ریکارڈ اور صنفی دقیانوسیوں کا خاتمہ

ایک افسانوی اور دو حقیقی — تین عورتوں نے 2 جون کو ہالی ووڈ کو چونکانے اور توجہ دینے پر مجبور کر دیا۔

پہلی ونڈر وومین یعنی حیرت انگیز عورت ڈایانا پرائس ہیں جو کومِک کے مداحوں میں اپنے سپر ہیرو کے کردار کی وجہ سے ایک علیحدہ تشخص رکھتی ہیں۔ دوسری دو — یعنی ونڈر وومین کا کردار ادا کرنے والی اسرائیلی اداکارہ، گال گیڈاٹ اور ونڈر وومن کی کہانی کو سکرین پر منتقل کرنے والی امریکی فلم ڈائریکٹر، پیٹی جینکنز ہیں۔

Man and woman standing and talking (© Alberto E. Rodriguez/CinemaCon/Getty Images)
فلم ڈائریکٹر پیٹی جینکنز ونڈر وومین کے مرد ہیرو، کرس پائن کے ساتھ۔ (© Alberto E. Rodriguez/CinemaCon/Getty Images)

اِن تینوں کے اکٹھے ہونے سے ایک متحرک گروپ بن گیا ہے۔

ونڈر وومین نے جون کے پہلے ویک اینڈ یعنی اختتام ہفتہ اپنے افتتاح کے موقع پر فلمی شائقین میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی۔ اِس فلم نے آئرن مین، تھور اور  کیپٹن امیریکا سمیت مردوں کی سربراہی میں اور مرد ڈائریکٹروں کی بنائی جانے  والی بہت سی فلموں کو شمالی امریکہ میں 10 کروڑ 50 لاکھ  ڈالر اور بین الاقوامی مارکیٹ میں 12 کروڑ 25 لاکھ  ڈالر کما کر،  مات دے دی۔

عورتوں نے جتنی فلمیں بھی ڈائریکٹ کیں، اُن کے مقابلے میں جینکنز کی اس فلم کو کامیاب ترین افتتاحی ویک اینڈ کی حامل فلم کا اعزاز حاصل ہوا۔

ونڈر وومین کے کردار میں گیڈاٹ دوسری عالمی جنگ میں بدی کی قوتوں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ جینکنز نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ گیڈاٹ کو ہدایات دینا "میرے لیے خوش قسمت ترین کام تھا کیونکہ گال گیڈاٹ کی شخصیت طلسماتی اور حیرت انگیز ہے۔ اُنہوں نے دنیا کے ایک بہترین انسان کو پا لیا ہے۔”

اکتوبر 2016 میں اقوام متحدہ نے ونڈر وومن [گال گیڈاٹ] کو عورتوں اور لڑکیوں کی با اختیاری کے لیے عورتوں کی اعزازی سفیر مقرر کیا۔ زندگی کے اپنے اس دوسرے رخ کے بارے میں بات کرتے ہوئے گیڈاٹ نے — جو اسرائیلی فوج میں دو سال خدمات انجام دے چکی ہیں — کہا، "ونڈر وومین بہت سے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایک بہتر جنگجو ہے۔ لیکن اہمیت اُس مقصد کو حاصل ہے جس کے لیے وہ جد وجہد کر رہی ہے۔ یہ اُس کا امن بھرے مستقبل کا تصور اور قبولیت ہے جو اسے ہر ایک کے نزدیک درست سفیر بناتے ہیں۔”

ونڈر وومن کی وجہ سے مشہور ہونے والے زیورات

ونڈر وومن نے صرف باکس آفس پر ہی کامیابی کے جھنڈے نہیں گاڑے بلکہ یہ فلم سیلواڈور کی زیورات کی ڈیزائنر، لوُلا مینا کے نئے زیورات ڈیزائن کرنے کا باعث بھی بنی ہے۔

 

Copper cuff bracelet (© Elsy Quijada)
بجلی کے میٹر سے لی گئی تانبے کی تاروں کے دوبارہ استعمال سے کلائی پر باندھنے والا تیار کیا گیا، مینا کا ایک کڑا۔ (© Elsy Quijada)

مینا اپنے ڈیزائن کردہ زیورات کی تیاری کے لیے سیلواڈور کی ضرورت مند عورتوں کو تربیت دیتی ہیں اور اُنہیں ملازمت دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے وارنر برادرز نے مینا سے زیورات کا ایک ایسا سلسلہ ڈیزائن کرنے کا کہا جو ونڈر وومن کی جرأت، حیرت اور طاقت کی صفات کا عکاس ہو۔

وارنر سٹوڈیو کو مینا کے جدید جمالیاتی انداز کے ساتھ ساتھ اُن کی کمپنی کے ماحول دوست اور تجارت کے منصفانہ طریقہائے کار بھی پسند ہیں۔

لہذا مینا نے کلائی پر پہننے والے اُسی طرح کے کڑوں کے تین سٹائل ڈیزائن کیے جنہیں فلم میں پہنا گیا ہے۔ انہوں نے  ونڈر وومن  کے کردار کے کڑوں میں استعمال کی جانے والی اشیا کی تشریح اس طرح کی کہ پتھر اور کرسٹل ("حیرت”)، ٹائروں کی ٹیوب کی ربڑ ("جرأت”) اور تانبے کے بجلی کے تار("طاقت”)  کی نمائندگی کرتے ہیں۔

مینا کا کہنا ہے کہ یہ بڑی خوشی کی بات تھی۔ ” اور سب سے بڑھکر” یہ  کہ وارنر برادرز کے ساتھ "کام کرکے لطف آیا۔”

ونڈر وومن کے افتتاحی شو کے لیے مینا کے  ڈیزائن کردہ  اصلی کڑوں پر گال گیڈاٹ نے اپنے دستخط ثبت کیے۔ اِن کڑوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ایلسلویڈور مین خواتین کاریگروں کو تربیت  کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

– لارین مونسین