قدرتی آفات کے دوران خلائی اداروں کا موسموں سے متعلق معلومات کا تبادلہ

امریکہ اور کریبیئن جزائر کے طوفانوں سے لے کے بھارت میں آنے والوں سیلابوں تک، ناسا اور امریکی سیٹلائٹوں نے موسمی پیشین گوئیوں اور شدید طوفانوں سے نمٹنے میں تمام ممالک کی مدد کی۔

آج کل امریکی سیٹلائٹ، خلا سے جمع کیے جانے والے ڈیٹا سے ہونے والی ایک وسیع تصویر کے ذریعے بحیرہ مشرقی چین میں ایک بڑے طوفان اور بحراوقیانوس میں اٹھنے والے ایک طوفان پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

حالیہ دنوں میں آنے والے ہاروی اور اِرما نامی طوفانوں کی جی او ای ایس -16 [گوز-16] کے نام سے جانے جانے والے ایک نئے سیٹلائٹ نے موسمی پیشین گوئیاں کرنے والوں کو ایسی تصاویر مہیا کیں جو اس سے پہلے کبھی بھی مہیا نہیں کی گئیں۔

گوز-16 نے ہر 30 سکینڈوں کے بعد درست معلومات اکٹھی کیں۔ سمندری اور فضائی قومی ادارے [این او اے اے] کے سٹیفن وولز کا کہنا ہے کہ یہ "حقیقی معنوں میں این او اے اے کی طرف سے چھوڑے جانے والے تمام سیٹلائٹوں کے مقابلے میں ایک بہت بڑی پیشرفت ہے۔ این او اے اے ایک وفاقی ادارہ ہے جو ناسا کے ساتھ مل کر نئے سیٹلائٹوں کو چلاتا ہے۔ گوز-16 سیٹلائٹوں کے ایک ایسے نیٹ ورک میں شامل ہوا ہے جس کا ڈیٹا 200 ممالک کو مہیا کیا جاتا ہے۔

موقعے پر سب سے پہلے پہنچنے والوں سے بھی پہلے

ناسا سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور تصاویر سے موسمی حالات کے ایک سلسلے کے بارے میں بین الاقوامی شراکت کاروں کو معلومات دستیاب ہوتی ہیں

  • چیپاس، میکسیکو میں آنے والا ایک زلزہ۔
  • مونٹینیگرو کے جنگلوں میں ہونے والی ایک حالیہ آتشزدگی۔
  • جنوبی افریقہ میں لگنے والی آگ۔
  • بھارت میں ہونے والا سیلات۔
Two satellite images of river system (NASA Earth Observatory)
اِس تصویر میں بھارت کی ریاست بہار کی، 2017ء کے مون سون کے سیلاب سے پہلے (دائیں) اور سیلاب کے بعد کی تصاویر دکھائی گئی ہیں۔ (NASA Earth Observatory)

زندگی بچانا

دوسرے لوگوں کو جیسے امریکہ موسمی ڈیٹا فراہم کرتا ہے اُسی طرح اسے دوسرے لوگوں سے ڈیٹا موصول بھی ہوتا ہے۔ امریکہ میں آنے والے ہاروی اور اِرما نامی طوفانوں کے بعد، یورپ، ‘کوپرنیکس ایمرجنسی مینیجمنٹ’ کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی انتہائی اہم پیشین گوئیوں اور اس کی مدد سے تیار کیے جانے والے نقشوں تک رسائی مہیا کرتا چلا آ رہا ہے۔ امریکہ کا کسی آفت سے نمٹنے کے نظام کا انحصار بھی یورپ کے خلائی ادارے کے سیٹلائٹوں پر منحصر ہے۔