دنیا کے دیگر ممالک کی طرح امریکہ کے اُن ممالک میں سفارت خانے اور قونصل خانے ہیں جن کے ساتھ امریکہ کے باضابطہ سفارتی تعلقات ہیں۔

سفارت خانہ میزبان ملک کے دارالحکومت میں یا اس کے نزدیک ہوتا ہے اور سفیر اس کا سربراہ ہوتا ہے۔ سفارت خانے بیرونی ممالک میں امریکی شہریوں کی مدد کرتے ہیں، امریکہ آنے کے لیے ویزے جاری کرتے ہیں اور تجارتی اور ثقافتی روابط کو فروغ دیتے ہیں۔

بڑے ممالک میں، قونصلیٹ سفارت خانے کے ہی ایک حصے کی حیثیت سے دارالحکومت سے باہر دوسرے شہروں میں قائم کیے جاتے ہیں ۔ وہ وہی سہولتیں فراہم کرتے ہیں جو سفارت خانہ فراہم کرتا ہے اور سفیر سے ہدایات لیتے ہیں۔

سفارت خانے اور قونصلیٹ اُس ملک کے خود مختار علاقے ہوتے ہیں جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔

24 جولائی کو چینی حکومت نے چین کے شہر چینگڈو میں امریکی قونصلیٹ کو بند کرنے کا حکم دیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیئے جانے والے ایک بیان میں محمکہ خارجہ نے کہا، “ہمیں چینی کمیونسٹ پارٹی کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔ ہم چین میں موجود اپنی دیگر (سفارتی) پوسٹوں کے ذریعے اس اہم خطے میں لوگوں تک پہنچنے کے کوشش کرنا جاری رکھیں گے۔”

چینگڈو قونصلیٹ

چینگڈو قونصلیٹ عوامی جمہوریہ چین میں امریکہ کے پانچ قونصلیٹوں میں سے ایک قونصلیٹ ہے۔ یہ جنوب مغربی چین میں چونگ چنگ، گیزاؤ، یونان، سیچوان اور تبت میں خدمات انجام دیتا تھا۔

چینگڈو میں قونصلیٹ 1985ء میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے سربراہ جم ملینیکس نے کہا کہ اس قونصلیٹ نے “چینی معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ تعلقات قائم کیے جس سے ہمیں ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی۔”

قونصلیٹ نے 200 ملین افراد کو خدمات فراہم کیں۔ اس نے امریکہ آنے یا امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند چینی شہریوں کی 150,000 درخواستیں نمٹائیں۔ اس نے امریکہ اور چین کی مشترکہ تاریخ پر بات کرنے کے ایک فورم سمیت ثقافتی اور کھیلوں کی تقریبات کی میزبانی کی۔ اس کے علاوہ یہ فٹ بال سکھانے کے لیے امریکہ کی قومی ٹیم کو یہاں پر لایا اور عورتوں کی با اختیاری کی حمایت کی۔

تبت کی ممتاز ثقافت، زبان اور مذہب کو محفوظ بنانے کے لیے چینگڈو میں قونصلیٹ نے تبتی کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کیا۔

21 جولائی کو امریکہ نے ہیوسٹن میں چینی قونصلیٹ کو بند کرنے کا حکم دیا۔ وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے اس قونصلیٹ کو “جاسوسی اور املاکِ دانش کی چوری کا گڑھ” قرار دیا۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کی ایک شاخ، اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق، سی سی پی نے چینگڈو کا قونصلیٹ امریکی اقدام کے خلاف انتقامی کاروائی کے طور پر بند کیا ہے۔

ملینیکس نے کہا کہ جنوب مغربی چین کے عوام کے “ساتھ تعلقات قائم کرنا اور خدمات فراہم کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ہمیں جنوب مغربی چین کے لوگ اور جو دوستیاں ہم نے قائم کی ہیں وہ یاد آئیں گیں۔”