لاکھوں لڑکیوں کو “اُن کے دن لوٹانے”

ریاست واشنگٹن کی سیلیسٹے مرگنز انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کی ایک امدادی کارکن ہیں۔ 2008ء میں کینیا کے ایک یتیم خانے کے دورے کے دوران اُنہیں پتہ چلا کہ اکثر ہر مہینے کئی دنوں تک لڑکیاں کھانے کے بغیر گتوں پر بیٹھی رہتی ہیں اور کسی کے کھانا لا کر دینے کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔

مارگنز بتاتی ہیں کہ یہی وہ وقت تھا جب ان کے علم میں یہ بات آئی کہ ترقی پذیر ممالک میں بہت سی ایسی لڑکیاں اور عورتیں ہیں جن کو نسوانی حفظان صحت کی اشیا تک رسائی حاصل نہیں۔

مرگنز کہتی ہیں، “میں سمجھ گئی کہ ہمیں اس کے بارے میں کچھ کرنا ہے تاکہ اُن کی پڑھائی کا حرج نہ ہو اور وہ کمروں میں الگ تھلگ نہ بیٹھی رہیں۔”

اسی سال مرگنز نے ‘ ڈیز فار گرلز‘ (لڑکیوں کے دن) نامی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ یہ تنظیم دھلنے والے، دوبارہ استعمال ہونے والے اور صفائی کے جاذب پیڈ سینے اور انہیں رنگ برنگی فیتے والی کِٹوں میں پیک کرنے کے لیے رضاکاروں کو بھرتی کرتی ہے۔

Girls sitting together laughing (© Devin Mergens)
گوئٹے مالا میں نئی کٹیں لیے ہوئے سکول کی لڑکیاں۔ © Devin Mergens)

مرگنز نے بتایا کہ پہلے انہوں نے عورتوں کی حفظان صحت میں استعمال ہونے والی اشیا کو ایسے بنانے کا سوچا کہ اُنہیں ایک مرتبہ استعمال کرکے  پھینک دیا جائے۔ مگر انہیں فورا ہی یہ احساس ہوگیا کہ لڑکیوں کو ایسی پائیدار اشیا کی ضرورت ہے جنہیں وہ “کئی مہینوں تک بار بار استعمال کر سکیں۔”

آج چھ  براعظموں پر پھیلے 60,000 رضاکاروں پر مشتمل ایک ایسا نیٹ ورک موجود ہے جو 127 ممالک میں عورتوں اور لڑکیوں کو کٹوں کے ساتھ ساتھ اُن کے خصوصی ایام سے متعلق صحت کا تعلیمی مواد بھی تقسیم کر رہا ہے۔ یہ کِٹیں “اوپن سورس” ہیں یعنی انہیں ہر کسی کو بنانے کی اجازت ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں ہر جگہ لوگ دوبارہ استعمال ہونے والی کِٹیں بنا سکیں.

“اُن کے دن لوٹانے” کا اثر

مرگنز کا کہنا ہے کہ انہوں نے “لڑکیوں کے لیے دن” کے نام کا اس لیے انتخاب کیا تھا کیونکہ “یہ اُن کو اُن کے دن واپس لوٹاتا ہے — تعلیم کے دن، مواقع، صحت اور وقار۔”

مرگنز نے بتایا، “جب تک مجھے لڑکیوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ایک مرتبہ استعمال کرکے پھینک دینے والے پیڈ کے بدلے اُن کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے، مجھے یہ احساس نہیں تھا کہ اِس بنیادی حیاتیاتی ضرورت کے لیے جو چیز آپ کو درکار ہوتی ہے اُس کے نہ ہونے سے آپ پر کتنا بڑا اثر پڑتا ہے۔”

ٹوئٹر کی عبارت کا ترجمہ: – مکمل کامیابی کا ایک اہم جزو تعلیم ہے۔ تعلیم یافتہ لڑکیاں بڑی ہوکر اپنے معاشرے کی کامیاب عورتیں بنتی ہیں۔ ‘ڈیز فار گرلز گھانا’ میں ہمارا یقین ہے کہ دنیا کی ہر ایک لڑکی کو تعلیم یافتہ ہونے کا حق حاصل ہے۔

‘ڈیز فار گرلز’ اس مسئلے پر کام کرنے والی اکیلی تنظیم نہیں ہے۔

مثال کے طور پر لاس اینجلیس میں ہائی سکول کی طالبات کے ایک گروپ نے کھانے کی چیزیں پکا کر بیچیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ صفائی کے پیڈ بنانے کے لیے بھارت کے دیہی علاقوں کے سکولوں کی مدد کی جاسکے جس سے لڑکیوں کو تعلیم جاری رکھنے میں آسانی ہو۔ لاس اینجلیس کے ہائی سکول کی انگلش کی ٹیچر، ملیسا برٹن کی مدد سے چلائے گئے اس پراجیکٹ نے ایک نوجوان ایرانی نژاد امریکی، رایکا زہتابچی کی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کرائی اور انہوں نے پیڈ بنانے والی مشین کے  بارے میں ایک چھوٹی سی دستاویزی فلم بنائی۔

فلم کا نام تھا: “پیریڈ۔ انڈ آف سینٹینس” یعنی ایامِ مخصوصہ۔ سزا کا خاتمہ۔ اس فلم کی وجہ سے زہتابچی کو فروری کے آخر میں اکیڈمی ایوارڈ ملا جس کی وجہ سے وہ آسکر جیتنے والی اولین ایرانی نژاد امریکی خاتون بن گئیں۔

Two women in gowns holding Oscar statuettes (© Chris Pizzello/Invision/AP Images)
ملیسا برٹن، بائیں اور رائیکا زہتابچی ” پیریڈ۔ انڈ آف سینٹینس” نامی بہترین چھوٹی دستاویزی فلم بنانے پر آسکرز میں ایمی ایوارڈ لے رہی ہیں۔ (© Chris Pizzello/Invision/AP Images)

فلم کے مکمل کیے جانے کے بعد دا پیڈ پراجیکٹ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی گئی جس کا مقصد دنیا بھر کی خواتین کا مشینوں سے پیڈ بنانے اور انہیں تقسیم کرنے کا اپنا کاروبار شروع کرنے کا ذریعہ بننا ہے۔

“ایام مخصوصہ کا خاتمہ سزا کا خاتمہ ہونا چاہیے نہ کہ کسی لڑکی کی تعلیم کا” یہ الفاظ اس پراجیکٹ کا نعرہ ہیں اور زہتابچی نے اپنی آسکر کی تقریر انہی الفاظ سے ختم کی۔