لنکن کے ورثے میں یکم جنوری کی کیا اہمیت ہے؟

غلاموں کی آزادی کے اعلان کا شمار ممکنہ طور پر امریکی تاریخ کی اہم ترین دستاویزات میں ہوتا ہے۔

ابراہام لنکن نے خود کہا کہ وہ اسے اپنا سب سے بڑا ورثہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “میں نے اپنی زندگی میں اپنے آپ کو اتنا زیادہ  پراعتماد کبھی بھی محسوس نہیں کیا کہ میں ایک صحیح کام کر رہا ہوں جتنا میں نے اس وقت محسوس کیا جب میں اس کاغذ پر دستخط کر رہا تھا۔ اگر کبھی میرا نام تاریخ میں زندہ رہا تو وہ اسی کام کی وجہ سے ہوگا، اور اس میں میری پوری روح موجود   ہے۔”

شمال کی متحدہ ریاستوں اور جنوب کی ریاستوں کے وفاق کے درمیان ہونے والی خانہ جنگی کے دوران صدر لنکن نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ اعلان کیا۔ ابتدائی شکل میں پہلا اعلان 22 ستمبر 1862 کو کیا گیا جس میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ اگر جنوبی ریاستوں نے یکم جنوری 1863 تک بغاوت ختم نہ کی تو یہ اعلان اس تاریخ سے نافذ ہو جائے گا۔

جب ریاستوں کے وفاق نے اسے ماننے سے انکار کردیا تو لنکن نے یکم جنوری 1863 کو غلاموں کی آزادی کا دوسرا اور آخری اعلان جاری کیا اور اس وفاقی قانون کے تحت علیحدگی پسند ریاستوں کے وفاق میں موجود غلام بنائے گئے 35 لاکھ سے زائد افریقی نژاد امریکیوں کی غلامی کی حیثیت کو آزادی میں تبدیل کر دیا گیا۔

تاہم، یہ اعلان مکمل نہیں تھا۔ اس کا اطلاق غلام بنائے گئے تقریبا اُن پانچ لاکھ افریقی نژاد امریکیوں پر نہیں ہوتا تھا جو یونین یعنی اتحاد کی سرحدی ریاستوں (مسوری، کنٹیکی، میری لینڈ اور ڈیلویئر)  یا ریاست ٹینیسی میں موجود تھے کیونکہ موخرالذکر ریاست کے زیادہ تر حصے کا کنٹرول یونین کے ہاتھوں میں آ گیا تھا۔ بعد میں ریاستی اور وفاقی اقدامات کے ذریعے اِن سب غلاموں کو  رہا کر دیا گیا۔

اس سے بڑھکر، دوسرے اعلان کے اجرا کے بعد کچھ ریاستیں، علاقے اور جاگیروں کے مالکان کئی مہینوں بلکہ برسوں تک اس اعلان کو نظرانداز کرتے رہے۔

اس اعلان سے امریکہ میں غلامی کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار ہوئی اور اس سے جنگ کی سمت تبدیل ہوگئی۔ ابتدا میں لنکن کا بڑا مقصد ملک کا اتحاد قائم رکھنا تھا مگر اس اعلان کے ذریعے انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ جنگ غلامی ختم کرنے کے لیے بھی لڑی جائے۔

اس اعلان میں لنکن نے یہ اعلان بھی کیا کہ “موزوں [صحت کے حامل] افریقی نژاد امریکیوں کو امریکہ کی مسلح افواج میں بھرتی کیا جائے گا۔” دو لاکھ افریقی نژاد امریکیوں نے جن میں ریاستوں کے وفاق سے فرار ہو کر آنے والوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی، امریکی یونین کی بری اور بحری افواج میں خدمات انجام دے کر اپنی آزادی کی جنگ لڑی۔ اس سے یونین کی افواج کو ایک فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی اور جیسا کہ امریکہ کے قومی دستاویزات کے ادارے میں موجود دستاویزات سے پتہ چلتا ہے، یونین کی بری اور بحری افواج کے سیاہ فام سپاہیوں نے پوری جنگ باصلاحیت طریقے سے لڑی۔

امریکی آئین میں کی جانے والی 13ویں ترمیم سے (جس کی توثیق 6 دسمبر 1865 کو ہوئی اور اعلان 18 دسمبر کو ہوا) پورے امریکہ میں باضابطہ طور پر غلامی کا خاتمہ ہوگیا۔ تاہم لنکن کو آزادی دلانے والے کا مقام اُن کے اعلان جاری کرنے اور یونین کی ریاستوں کے وفاق پر فتح حاصل کرنے سے طے پایا۔