ملڈرڈ اور رچرڈ لوونگ کو آپس میں محبت تھی اور انہوں نے وہی کچھ کیا جو بہت سے جوڑے کرتے ہیں۔ انہوں نے شادی کر لی۔

یہ 1958ء کا زمانہ تھا۔ ملڈرڈ چونکہ سیاہ فام تھیں اور رچرڈ سفید فام تھے، لہذا ورجینیا کی ریاست نے اُن کی شادی کو غیرقانونی قرار دیدیا۔

 رچرڈ لوونگ، ملڈرڈ لوونگ کے گرد بازو رکھے ہوئے، کتابوں کی الماریوں کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں (© Francis Miller/The LIFE Picture Collection/Getty Images)
ملڈرڈ اور رچرڈ، ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا میں اپنے وکیل کے دفتر میں۔ (© Francis Miller/The LIFE Picture Collection/Getty Images)

لوونگز اپنی قانونی جنگ امریکہ کے سپریم کورٹ تک لڑتے رہے۔ اور سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ریاستی حکومتیں بین النسلی شادیوں پر پابندی نہیں لگا سکتیں۔ یاد رہے کہ امریکہ میں شادیوں سے متعلق قوانین ریاستیں بناتی ہیں۔

لوونگز جوڑے کی محبت

لوونگز جوڑا ڈسٹرکٹ آف کولمبیا (واشنگٹن) میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوا جہاں اس وقت بین النسلی شادیوں کو قانونی حیثیت حاصل تھی۔ تاہم وہ ورجینیا میں رہتے تھے جہاں کے قوانین نے اُن کے ملاپ کو ایک جرم بنا دیا۔ جب اُن پر فرد جرم عائد کی گئی تو لوونگز نے اقبال جرم کیا اور ایک مقامی جج نے اُن کی ایک سالہ قید کی سزا کو معطل کر دیا بشرطیکہ وہ ورجینیا چھوڑ دیں۔ لہذا انہوں نے ورجینیا چھوڑا اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں رہنے کا انتخاب کیا۔

چند سال بعد، امریکی وزیر انصاف، رابرٹ کینیڈی اور شہری آزادیوں کی امریکی یونین کی مدد سے اس جوڑے نے ملک کی اعلٰی ترین عدالت کی جانب اپنے قانونی سفر کا آغاز کیا۔

امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت تمام امریکیوں کو حاصل مساوی قانونی تحفظ کی ضمانت کا حوالہ دیتے ہوئے، سپریم کورٹ نے ورجینیا کے جج کے فیصلے کو کالعدم  اور “نسلی خالص پن کے قوانین” کو غیر آئینی قرار دیدیا۔

چیف جسٹس ارل وارن نے اس فیصلے میں جس نے پورے امریکہ میں بین النسلی شادیوں کو قانونی بنا دیا تھا، لکھا، “ہمارے آئین کے مطابق کسی دوسری نسل کے شخص کے ساتھ شادی کرنے کی آزادی، یا نہ کرنے کی آزادی، اُس شخص کا انفرادی فیصلہ  ہے اور ریاست اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتی۔”

کشادہ دل

35 سالہ لوکس ارون ایک شیف ہیں اور وہ عنقریب واشنگٹن میں ایک جاپانی ریستوران کھولنے والے ہیں۔ ارون نے کہا، “اُن کا ہمت نہ ہارنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔”

ارون نے کہا اگر لوونگز ایسا نہ کرتے تو اُن کی سفید فام والدہ اور نصف جاپانی نژاد والد 1980 کی دہائی میں شادی نہیں کر سکتے تھے۔

1967ء کے فیصلے سے لے کر آج تک امریکہ میں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے دو افراد کے درمیان شادیوں میں تسلسل سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ اضافہ 17 فیصد امریکی شادیوں کا تین فیصد ہے اور اس میں تیز ترین اضافہ ہسپانوی اور غیرہسپانوی سفید فاموں کے درمیان ہونے والی شادیوں میں دیکھنے میں آیا ہے۔

 گراف پر سرخ رنگ کے دکھائے جانے والے دلوں والے چارٹ میں امریکہ میں بین النسلی شادیوں میں اضافہ دکھایا گیا ہے۔ (State Dept./D. Thompson | Source: Census Bureau, Pew Research Center)
1980ء سے پہلے کے اعداد و شمار مرتب کرنے کی بنیاد تخمینوں پر ہے۔ ماخذ:مردم شماری کا بیورو، پیو ریسرچ سنٹر (State Dept./D. Thompson)

امریکہ کی ہر ایک ریاست میں بین النسلی/بین الثقافتی شادیوں کے حامل گھرانوں میں اضافہ ہوا ہے۔

پیو ریسرچ سنٹر کی کِم پارکر کہتی ہیں کہ لوونگ کے مقدمے نے اس طرح کی شادیوں کی قبولیت کے ایک نئے دور کے آغاز کا “لوگوں پر دروازہ کھولا۔” انہوں نے کہا کہ جب لوگوں کو “اپنے خاندان یا برادری یا عمومی طور پر معاشرے” سے مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تو اُن کے لیے اپنی نسل سے باہر شادی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

امریکی سماجی رجحانات پر تحقیق کی راہنمائی کرنے والی، پارکر نے کہا لوونگ مقدمے کے علاوہ دیگر دو عناصر بھی کارفرما ہوتے ہیں۔

1965ء کے امیگریشن اور شہریت کے قانون کے تحت لاکھوں ایشیائی اور لاطینی امریکی تارکین وطن امریکہ آئے اور اس کے نتیجے میں یورپی لوگوں کے حق میں جانے والا کوٹے کا نظام ختم ہو گیا۔ آج کے امریکی زیادہ متنوع ہیں۔

اور پارکر نے کہا کہ آج کے نوجوان بین النسلی شادیوں کو نہ صرف قابل قبول سمجھتے ہیں بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ امریکہ کے حق میں بھی اچھی ہیں۔