Patient wearing a health mask lying on a bed in a hospital (© Rodrigo Abd/AP Images)
وینیز ویلا کے شہر کراکس کے وارگاس ہسپتال میں ایک مریض۔ (© Rodrigo Abd/AP Images)

ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ نکولس مادورو کی حکومت نے حالیہ انتخابات میں کس طرح ووٹروں کو اِس کی حمایت کرنے پر مجبور کرنے کے لیے بھوک کے بحران کو استعمال کیا۔

وینیز ویلا کے بھوک کے شکار لوگوں کے سامنے کھانوں کو دکھانا ہی  وہ  واحد ترغیب نہیں تھی جو مادورو نے اقتدار سے چمٹے رہنے کو یقینی بنانے کے لیے جعلی انتخاب میں  استعمال کی۔  نیویارک ٹائمز کے ایک حالیہ مضمون میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت نے ڈاکٹروں کو ایسے مریضوں کے علاج اور دواؤں سے اُس وقت تک رکے رہنے پر مجبور کیا جب تک مریضوں نے مادورو کی حمایت نہیں کی۔

Hand holding box of ballots with another hand holding ballot above it (© Carlos Becerra/AFP/Getty Images)
20 مئی 2018 کو الیکشن والے دن سرکاری اہل کار ووٹ گن رہے ہیں۔ (© Carlos Becerra/AFP/Getty Images)

کیوبا کی بین الاقوامی میڈیکل کور کے وینیز ویلا میں تعینات ڈاکٹروں نے بتایا کہ مادورو کی سابقہ حکومت نے اُن کی خدمات کو برسراقتدار سوشلسٹ پارٹی کے لیے ووٹ حاصل کرنے کی خاطر استعمال کیا۔ اِن میں غریب آبادیوں میں گھر گھر جا کر لوگوں کو یہ بتانا بھی شامل تھا کہ اگر وہ مادورو اور اُس کے حمایتی امیدواروں کو ووٹ نہیں دیں گے تو اُن کی  طبی سہولتیں ختم کر دی جائیں گیں۔

ایک ایسے وقت میں مادورو دواؤں کے ذریعے ووٹ خرید رہا تھا جب کام کرنے والے 75 فیصد ہسپتالوں میں بنیادی دوائیوں کی قلت تھی اور خناق جیسی انفیکشن والی بیماریاں پھیل رہی تھیں۔

نائب صدر پینس نے کہا، "وینیز ویلا میں جدوحید آمریت اور اور جمہوریت کے درمیان ہے اور آزادی زور پکڑ رہی ہے۔ نکولس مادورو آمر ہے اور اس کا اقتدار پر کوئی جائز حق نہیں ہے اور نکولس مادور کو بہر صورت جانا ہے۔"