مادورو کا انتخابی منصوبہ: نہ شرکت اور نہ انتخاب

مادورو کی غیرقانونی حکومت وینیزویلا کی قومی اسمبلی کے اراکین کے انتخاب میں اپنی غیرآئینی تبدیلی کو سوشل میڈیا کے ٹیگ #ParticipaYElige (شریک ہوئیے اور منتخب کیجیے) کے ذریعے فروغ دے رہی ہے۔

وینزویلا کے لیے امریکی محکمہ خارجہ کے خصوصی نمائندے، ایلیٹ ابراہمز نے کہا کہ نکولس مادورو  کا قومی اسمبلی کے اراکین کے انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کرنے کی کوشش کرنا، اس حکومت کی گہری ہوتی جڑوں کا مزید ایک اور ثبوت ہے۔

ابراہمز نے 28 جولائی کو کہا، “درحقیقت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے آج  کے حالات مئی 2018 کے حالات کی نسبت بہت زیادہ خراب ہیں جب مادورو نے دنیا بھر کی جمہوریتوں کی طرف سے جعلی قرار دیئے جانے والے صدارتی انتخابات کا انعقاد کیا تھا۔”

آئندہ انتخابات کی اہمیت اور اس حکومت کی انتخابی دھوکے بازی کے پیش نظر، اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ مادورو کے نزدیک “شریک ہوئیے” اور “منتخب کیجیے” کا کیا معانی ہیں۔

 گتے کی بنی رکاوٹ کے پیچھے ووٹ ڈالتے ہوئے مادورو (© Ariana Cubillos/ AP Images)
غیرقانونی صدر نکولس مادورو 9 دسمبر 2018 کو کراکس، وینیزویلا میں مقامی انتخابات میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ (© Ariana Cubillos/ AP Images)

مادورو کے دور میں انتخابات میں حصہ لینا

حالیہ تاریخ سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اگر وینیزویلا کے عوام کسی ایسے امیدوار کو منتخب کرنے کے اپنے حق کو استعمال کریں جو مادورو یا اس کے حامیوں کا حمایت یافتہ نہ ہو تو انہیں انتقامی کاروائیوں کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حالیہ انتخابات میں مادورو نے:

  • ‘کلیپ’ نامی پروگرام کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کھانے پینے کی اشیا کے ڈبے صرف اُن لوگوں میں تقسیم کیے جنہوں نے مادورو کی حمایت کرنے کے وعدے کیے۔ ‘کلیپ’ سپلائی اور پیداوار کی مقامی کمیٹیوں کا مخفف ہے۔
  • یہ جاننے کے لیے کہ مادورو کو کس نے ووٹ دیئے، فادر لینڈ کارڈ کا استعمال کیا گیا۔ بعد میں مادورو کو ووٹ دینے والوں کو حکومت کی طرف سے کھانے پینے کی اشیا سے بھرے ڈبوں سے نوازا گیا۔
  • کیوبا کی بین الاقوامی میڈیکل کور کے ڈاکٹروں کو غریب بستیوں میں بھیجا اور وہاں کے مکینوں کو بتایا کہ اگر انہوں نے مادورو کو ووٹ نہ دیئے تو وہ طبی سہولتوں سے محروم ہو جائیں گے۔

باوجود اس کے کہ وینیز ویلا کے انتخابی قوانین پریس کی تمام سرگرمیوں کی آزادی اور منصفانہ پن کو لازمی قرار دیتے ہیں، مادورو کے پراپیگنڈہ کو چھوڑ کر میڈیا کی خبروں کو دبایا۔ سنسرشپ اور خود کی عائد کردہ سنسرشپ کی وجہ سے، حزب مخالف کی شخصیات کو میڈیا تک یکساں رسائی حاصل نہیں ہوتی۔

جب انتخاب کے  لیے کچھ نہ ہو تو پھر کس کو منتخب کریں

مادورو پہلے ہی اُن جمہوری اداروں کو تباہ کرنے کے لیے انتہائی اقدامات اٹھا چکے ہیں جنہیں وہ پسند نہیں کرتے۔ وہ ادارہ جاتی قوانین سے چھٹکارا حاصل کرکے ماضی کے انتخابات میں دھاندلی کر چکے ہیں۔

مادورو اور اُن کے کاسہ لیسوں نے:

  • 2018 کے صدارتی انتخابات میں ووٹروں کے ووٹ ڈالنے کے بعد اُن کی انگلیوں پر انمٹ روشنائی کا نشان لگانے کے طریقے کو ختم کیا۔ یہ طریقہ شہریوں کو ایک سے زیادہ مرتبہ ووٹ ڈالنے سے باز رکھتا تھا۔ ایسا ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں مادورو کے حق میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد زیادہ ہوئی ہو۔
  • ووٹروں کو دبانے کا کام کیا۔ 2018 میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح 46 فیصد کے لگ بھگ تھی جبکہ ماضی میں یہ شرح 80 فیصد کے قریب ہوتی تھی۔ یہ فرق ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کی ایک منظم کوشش کا پتہ دیتی ہے۔
  • ملک کے مقبول ترین سیاست دانوں اور پارٹیوں کو نا اہل قرار دیا۔
  • سپریم کورٹ میں ایسے حکومتی حامیوں کو تعینات کیا جنہوں نے بعد میں غیرقانونی طور پر قومی انتخابی کونسل کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں کو بھی تبدیل کیا۔
  • 20 فیصد سے زائد قومی اسمبلی کے ممبروں کو حراست میں لیا، جلاوطن کیا یا اُن کے آئینی استثنا کو ختم کیا۔

ابراہمز نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ دسمبر میں ہونے والے قومی اسمبلی کے انتخابات نہ تو آزادانہ یا منصفانہ ہوں گے اور نہ ہی وہ جمہوری ہوں گے۔

ابراہمز نے مزید کہا، “یہ بات اس امر کا ایک اور ثبوت ہے کہ مادورو کے اقتدار میں رہتے ہوئے اور انتخابات اور اُن کے نتائج میں گڑبڑ کرنے سے وینیزویلا میں آزادانہ اور منصفانہ انتخاب ہو ہی نہیں سکتے۔”