مادورو کی وینیزویلا کی عورتوں کو چھ بچے پیدا کرنے کی نصیحت

مائیکروفون میں بات کرتے ہوئے نکولس مادورو دونوں ہاتھوں سے اشارے کر رہے ہیں۔ (© Ariana Cubillos/AP Images)
نکولس مادورو 14 فروری کو کراکس، وینیز ویلا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔ (© Ariana Cubillos/AP Images)

سابقہ صدر نکولس مادورو چاہتے ہیں کہ وینیز ویلا کی عورتیں زیادہ بچے پیدا کریں تاکہ ملک کی آبادی جس میں سے حالیہ برسوں میں ملکی معاشی بحران کی وجہ تقریباً 50 لاکھ افراد ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں، بڑھ سکے۔

مادورو نے یہ پرزور نصیحت 3 مارچ کو پیدائش کے مختلف طریقوں کو فروغ دینے کے ایک سرکاری پروگرام کی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریب کے دوران کی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، غیر قانونی حکمران نے اس تقریب میں ایک خاتون سے کہا، ” ملک کو چھ چھوٹے لڑکے اور لڑکیاں دینے پر خدا آپ پر رحمت کرے۔ بچے پیدا کریں، اور بچے پیدا کریں، تمام عورتوں کے چھ بچے ہوں، سب کے۔ اس سے ملک ترقی کرے گا!”

"میڈیکوز پور لا سالود” کے مطابق ملک کا سیاسی اور اقتصادی بحران شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ملک کا صحت کا نظام ٹھپ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ 2019ء سے 78 فیصد ہسپتالوں میں پانی جیسی بنیادی سہولت کی کمی ہے۔

اقوام متحدہ کے خوراک کے عالمی پروگرام نے حال ہی میں بتایا کہ وینیز ویلا کی تقریباً ایک تہائی آبادی یعنی 93 لاکھ افراد اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔

مگدالینا دو ماچادو نے اپنے دو اور چار سالہ بیٹوں کے لیے سُوپ بنانے کے لیے کراکس شہر کے وسط میں ایک مارکیٹ میں ٹوٹی پھوٹی سبزیوں میں سے سبزی چنتے ہوئے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، "آپ کو ہمیں چھ بچے پیدا کرنے کا کہنے کے لیے انتہائی خود غرض بننا ہوگا”

اس نے کہا، "ہفتے میں صرف دو دن ہم گوشت اور مرغی پکا سکتے ہیں۔ کئی برسوں سے ہم دیر سے بچے پیدا کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ہم نے اس وقت بچے پیدا کیے جب ہم نے سوچا کہ ہم خوش حال ہو گئے ہیں۔ درحقیقت گزشتہ سال سے ہم دن بدن کم سے کم خوراک خرید رہے ہیں۔”

دو ماچادو اور دیگر لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ عورتوں سے بچوں کی پیدائش بڑہانے کی ایسے حالات میں کیسے توقع کی جا سکتی ہے جب بچوں اور بڑوں، دونوں کے حوالے سے ملک کا صحت کا نظآم ابتری کا شکار ہے، اور نوزائیدہ بچوں اور ماؤں دونوں کی اموات کی شرحوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

اس مضمون کی تیاری میں ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔