مادورو کے بیٹے پر امریکی پابندیاں

Nicolas Maduro, Nicolas Maduro Guerra (© Ariana Cubillos/AP Images)
اپریل 2018 میں نکولس مادورو، بائیں جانب اور اس کا بیٹا نکولس کراکس، وینیز ویلا میں۔ (© Ariana Cubillos/AP Images)

28 جون کو امریکہ نے نکولس "نکولاسیتو" ارنیسٹو مادورو گویئرا پر پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کی وجہ وینیز ویلا میں اپنے  والد نکولس مادورو کی  سابقہ حکومت میں اس کا کردار ہے۔

2017ء میں مادورو گویئرا قانون ساز قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہوا۔ مادورو نے یہ ادارہ ملک کی قانونی قومی اسمبلی کی جگہ بنایا تھا اور اس کا مقصد ملک کے لیے نئے آئین کا مسودہ تیار کرنا تھا۔

امریکہ کے محکمہ خزانہ کے مطابق اس سال کے اوائل میں مادورو گویئرا نے وینیز ویلا کی فوج پر اس انسانی امداد کے ملک میں داخلے کو روکنے کے لیے وینیز ویلا کی فوج پر دباؤ ڈالنے میں مدد کی تھی جس کی وینیز ویلا کے عوام کو شدید ضرورت ہے۔

امریکہ کے وزیر خزانہ سٹیون منوچن کہتے ہیں، "وینیز ویلا کے عوام اور اس کی معیشت کا گلا گھوٹنے میں مادورو اپنے بیٹے نکولاسیتو اور اپنی مطلق العنان حکومت کے قریبی ساتھیوں پر انحصار کرتا ہے۔ مادورو کی حکومت جعلی انتخابات کے ذریعے قائم ہوئی اور اس کے اندرونی حلقے کے افراد بدعنوانی سے حاصل کی جانے والی دولت سے پُرتعیش زندگی گزارتے ہیں جب کہ وینیز ویلا کے عوام مصائب جھیل رہے ہیں۔"

ٹوئٹر کا خلاصہ:

امریکہ نے نکولس "نکولاسیتو" ارنیسٹو مادورو گویئرا پر غیر قانونی حکومت میں ایک اہل کار کی حیثیت سے اس کے کردار کی وجہ سے پابندیاں عائد کر دیں ہیں۔ وہ جو عوام  پر جبر و تشدد اور اُن کی چوری کرتے ہیں انہیں ہرصورت میں جواب دہ ٹھہرانا چاہیے۔ پورا وینیز ویلا آزادی اور خوشحالی کا مستحق ہے۔ 

28 جون کی پابندیوں کے بعد امریکہ میں واقع مادورو گویئرا کے اثاثوں کو منجمد کر دیا گیا ہے۔

منوچن نے کہا کہ امریکہ "مادورو کی بد عنوان حکومت سے فائدہ اٹھانے والے غیرقانونی حکومت کے اندرونی حلقوں کے افراد کے معاون کار رشتہ داروں کو نشانہ بنانا جاری رہے گا۔"