مادورو کے دورمیں وینیزویلا کا ہر شہری غربت کا شکار

ایک نئے سروے کے مطابق نکولس مادورو کی غیرقانونی حکومت نے وینیزویلا کے 96 فیصد شہریوں کو غربت کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔

کراکس کی آندریس بیلو کیتھولک یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے 2019-2020 کے دوران زندگی کے حالات کے بارے میں سروے (ای این سی او وی آئی) سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2019ء میں وینیزویلا میں غربت کی سطحوں میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں سرکاری طور پر وینیزویلا لاطینی امریکہ اور کیریبین کے خطے کا سب سے غریب ملک بن گیا ہے۔

2019ء میں، وینیزویلا میں اوسط آمدنی کی یومیہ شرح 72 امریکی سینٹ تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خالصتاً آمدنی کی بنیاد پر وینیزویلا کے 96 فیصد شہری غربت میں اور 70 فیصد انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

قانونی عبوری صدر خوان گوائیڈو نے کہا، ” ای این سی او وی آئی کے نتائج وینیزویلا کے عوام کو درپیش حقیقت کی ایک افسوسناک تصویر ہیں۔ یہ تعداد نہ تو اتفاقیہ اور نہ ہی انہونی ہے۔ دراصل یہ اُس حقیقت کی عکاس ہے جس کا ہم وینیزویلا کے لوگ سامنا کر رہے ہیں۔”

 کچرے کے قریب بیٹھا ہوا ایک آدمی (© Ronaldo Schemidt/AFP/Getty Images)
کراکس کے علاقے لاس میناس دو بروٹا میں کچرا کنڈی کے قریب بیٹھا ایک آدمی کھانے کی چیزوں کا انتظار کر رہا ہے (© Ronaldo Schemidt/AFP/Getty Images)

اس رپورٹ میں آمدنی کے علاوہ تعلیم اور عوامی سہولتوں تک رسائی  جیسے غربت کے دیگر کئی ایک عناصر کے حوالے سے کثیرالجہتی غربت کا بھی شمار کیا گیا ہے۔ اِن حوالوں کے حساب سے وینیزویلا کے گھرانوں کی مجموعی تعداد کا 64.8 فیصد حصہ غربت میں رہ رہا ہے۔ 2018ء میں یہ تعداد 13 فیصد سے کم تھی۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ مادورو نے گزشتہ ایک سال میں  وینیزویلا کی معیشت کو کس قدر گہرے گڑھے میں پھینک دیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے، "وینیزویلا جنوبی امریکہ کے اپنے ساتھی ممالک سے بہت دور پیچھے رہ گیا ہے اور ایسی صورت حال کے قریب پہنچ رہا ہے جیسی کہ براعظم افریقہ کے بعض ممالک کو درپیش ہے۔”

رپورٹ کے مطابق 2018ء میں وینیزویلا میں 10 فیصد گھرانوں کو خوراک کے حوالے سے محفوظ سمجھا جاتا تھا اس کے مقابلے میں موجودہ شرح 3 فیصد ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ وینیزویلا کے 97 فیصد شہریوں کو اس غیریقینی صورت حال کا سامنا ہے کہ اُن کا اگلے وقت کا کھانا کہاں سے آئے گا اور کب آئے گا۔