مارچ کے جنون کی وضاحت

اگر آپ امریکہ میں تعلیم کے لیے آئیں تو آپ دیکھیں گے کہ یہ سال کا وہ وقت ہوتا ہے جب کالجوں کے بہت سے طالب علم — اور ہر شعبہِ زندگی سے تعلق رکھنے والے امریکیوں کے سر پر— مارچ کے مہینے کا جنون سوار ہو جاتا ہے کیونکہ اس وقت نیشنل کالجیئٹ اتھلیٹک ایسوسی ایشن (این سی اے اے) ڈویژن I کی باسکٹ بال چیمپیئن شپ ہو رہی ہوتی ہے۔  یہ سلسلہ مارچ کے وسط سے اپریل کے اوائل تک جاری رہتا ہے۔

مارچ کے جنون کے مہینے میں انٹرنیٹ کی رفتاریں سست پڑ جاتی ہیں کیوں کہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد آن لائن یہ مقابلے دیکھ رہی ہوتی ہے۔ دستیاب شدہ  تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ٹیلیویژن پر دکھائے جانے والے میچوں سے 2018ء  میں ہونے والی آمدنی 1.32 ارب ڈالر تھی۔ گزشتہ سال نو کروڑ 70 لاکھ افراد نے یہ ٹورنامنٹ دیکھا۔

مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات سے آپ کو امریکی زندگی کے اس انوکھے پہلو کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اور اگلے سال، اگر آپ خود کسی امریکی کیمپس پر ہوں گے تو ہو سکتا ہے کہ آپ بھی اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہے ہوں۔

A basketball player dribbling past another on the court (© Jeff Swinger/AP Images)
این سی اے اے کے مردوں کے باسکٹ بال کے ٹورنامنٹ کے دوسرے مرحلے میں23 مارچ کو سالٹ لیک سٹی میں کھیلے جانے والے میچ کے دوران، گونزاگا کا گارڈ زیک نورویل (23) گیند فرش پر مارتے ہوئے بیلر کے گارڈ ماکائی میسن (10) سے آگے نکل رہا ہے۔ (© Jeff Swinger/AP Images)

کھیلوں کے یہ مقابلے اتنے مقبول کیوں ہیں؟

امریکہ میں لوگ اپنے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ ناقابل یقین حد تک وفادار ہوتے ہیں۔ چاہے کسی نے اپنے کالج یا یونیورسٹی میں دو ماہ قبل پڑھائی شروع کی ہو، یا اسے گریجوایشن کیے ہوئے 30 سال بیت چکے ہوں، ہر کوئی اپنے کالج کی ٹیم کو بہترین ٹیم سمجھتا ہے اور جیتنے کا پوری طرح مستحق گردانتا ہے۔

یہ بڑا ولولہ انگیز وقت ہوتا ہے۔ پیشہ ورانہ باسکٹ بال کے مقابلوں کے برعکس، کالجوں میں کھیلے جانے والے میچوں کی تعداد کم ہوتی ہے، ان میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے، اور یہ سارے مقابلے نسبتاً مختصر مدت کے دوران ہوتے ہیں۔ لہٰذا، اگر کسی مداح کی پسندیدہ ٹیم ٹورنامنٹ تک نہ بھی پہنچ پائے، تو بھی وہ اس ٹورنامنٹ کے میچ ضرور دیکھتا ہے۔ ناظرین کے سامنے یہ حقیقت ہوتی ہے کہ پیشہ ور کھلاڑیوں کے برعکس کالجوں کے کھلاڑی پیسے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے کالجوں اور کھیل سے اپنی محبت کی خاطر کھیلتے ہیں۔

کھیلنے کا موقع کسے ملتا ہے؟

کالجوں کی 300 سے زیادہ ٹیمیں این سی اے اے ڈویژن 1 میں کھیلتی ہیں۔ اس سال 17 مارچ کو پڑنے والے “سلیکشن سنڈے” کو [کھلاڑیوں کے انتخاب کا اتوار] ایک کمیٹی نے اُن 68 ٹیموں کا اعلان کیا جو مردوں کی بریکٹ یعنی مردوں کے مقابلوں میں حصہ لیں گی۔ بریکٹ ٹورنامنٹ میں ہونے والے میچوں کی ترتیب درخت کی شکل کی طرح ہوتی ہے۔ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے آٹھ  ٹیموں نے اُن چار پوزیشنوں کے لیے میچ کھیلے جو حتمی 64 ٹیموں میں شامل ہوں گی۔ ایک اور کمیٹی ان 64 ٹیموں کا اعلان کرتی ہے جو عورتوں کی بریکٹ میں مقابلہ کریں گی۔

بہر کیف، اُن 32 ٹیموں کو منتخب کیا جاتا ہے جو اپنی اپنی کانفرنس چمپیئن شپس جیت چکی ہوتی ہیں۔ (کانفرنس سے مراد کسی مخصوص جغرافیائی علاقے کے کالجوں کے گروپ سے ہے۔) یہ سلیکشن کمیٹی بقیہ ٹیموں کا انتخاب ان کی میچوں کی کارکردگیوں اور ان کے کھیلنے کے نظام الاوقات کی دشواریوں کی بنیاد پر کرتی ہے۔ اس کے بعد یہ کمیٹی تمام ٹیموں کو چار علاقوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔

ہر علاقے کی چوٹی کی ٹیموں کو “فرسٹ سیڈ” یعنی اول درجہ دیا جاتا ہے باقی ٹیموں کی درجہ بندی بھی اُن کی پوزیشنوں کے حساب سے اسی انداز سے کی جاتی ہے۔ ٹورنامنٹ کے پہلے راؤنڈ میں، ایک فرسٹ سیڈ ٹیم سولہویں سیڈ ٹیم کے ساتھ، اور سیکنڈ سیڈ ٹیم ایک پندرہویں سیڈ ٹیم کے ساتھ کھیلتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، مضبوط ترین ٹیمیں، کمزور ترین ٹیموں کے ساتھ کھیلتی ہیں۔ درمیانے درجے کی ٹیموں کے مقابلے، ٹورنامنٹ کے ابتدائی مراحل میں نسبتاً زیادہ برابر کی ٹیموں کے درمیان ہوتے ہیں۔

A female basketball player jumping for joy on the court (© Ron Schwane/AP Images)
این سی اے اے کے عورتوں کے باسکٹ بال کے ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں چوٹی کی چار ٹیموں میں پہنچنے کے لیے ہونے والے میچ میں نوٹرے ڈیم کی ارائیک اوگن بولے، کنیٹی کٹ کے خلاف میچ میں فالتو وقت میں گیند باسکٹ میں ڈالنے کی خوشی منا رہی ہے۔ (© Ron Schwane/AP Images)

کون جیتے گا؟

مارچ کے مہینے کے اس جنون کے اتنے زیادہ مقبول ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یقین کے ساتھ کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کون سی ٹیم جیتے گی۔

اس موسمِ بہار کی مردوں کی دو چوٹی کی ٹیموں میں ڈیوک یونیورسٹی اور چیپل ہِل کی یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کی وہ مشہور ٹیمیں شامل ہیں جو باسکٹ بال کی تاریخ کے لحاظ سے جیت کے لیے ایک دوسرے کے مد مقابل ہوتی ہیں۔ یونیورسٹی آف ورجینیا اور گونزاگا یونیورسٹی چوٹی کی ایسی پسندیدہ ٹیمیں ہیں جنہوں نے مارچ کے جنون کی چمپیئن شپ کبھی نہیں جیتی۔ لیکن مارچ کے جنون کے جوش و جذبے کی ایک وجہ “سنڈریلاز”  کہلانے والی ٹیموں کا سامنے آنا ہے۔ کمزور تصور کی جانے والی یہ ٹیمیں اُن ٹیموں سے جیتتی ہیں جنہیں شائقین ناقابل تسخیر سمجھتے ہیں۔

گزشتہ برس شکاگو کی 11ویں نمبر کی لویولا یونیورسٹی چوٹی کی چار ٹیموں میں پہنچی۔ بہت زیادہ حیرانگی اُس وقت سامنے آئی جب مجموعی طور پر پہلے نمبر کی یونیورسٹی آف ورجینیا کی ٹیم 16ویں نمبر کی یونیورسٹی آف میری لینڈ، بالٹی مور کاؤنٹی کی ٹیم سے ہار گئی۔ (اِس ٹورنامنٹ کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا۔) اس سال یونیورسٹی آف اوریگن کی کمزور سمجھی جانے والی ٹیم سے توقع ہے کہ مارچ کے جنون میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے “بریکٹ توڑنے” والی ٹیم کہلائے گی۔ اسی اثنا میں ڈیوک یونیورسٹی کی مجموعی لحاظ سے پہلے نمبر کی ٹیم جس کے بارے میں بہت سوں نے اس سال کا ٹّورنامنٹ جیتنے کی پیش گوئی کر رکھی ہے بڑی مشکل سے یونیورسٹی آف سنٹرل فلوریڈا سے جیت پائی۔ باالفاظ دیگر اس ٹورنامنٹ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

عورتوں کے ٹورنامنٹ میں چوٹی کی چار ٹیموں میں یونیورسٹی آف لوئی وِل کی ‘کارڈینلز’، یونیورسٹی آف نوٹرے ڈم کی ‘فائٹنگ آئرش’، بیلر یونیورسٹی کی ‘لیڈی بیئرز’ اور مسس سپی کی ‘سٹیٹ بلڈوگ’ شامل ہیں۔ جن کمزور ٹیموں کی جیت کی توقع کی جا رہی ہے اُن میں انڈیانا یونیورسٹی کی ‘ہوزیئرز’ اور مزوری سٹیٹ یونیورسٹی کی ‘لیڈی بیئرز’ شامل ہیں۔

امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں منصوبہ بندی کرنے اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے شیئر امریکہ دیکھیے۔

اس مضمون کی تیاری میں فری لانس مصنف لین میکولا نے مدد کی۔

یہ مضمون ایک مختلف شکل میں 13 مارچ 2018 کو شائع ہو چکا ہے۔