مارچ کے مہینے کاجنون کیا ہے؟

امریکہ میں ہر مارچ میں ایک عجیب کام ہوتا ہے۔ پورے ملک میں لاکھوں لوگ کالج باسکٹ بال کے دیوانے بن جاتے ہیں۔

اس کیفیت کا ایک نام بھی ہے یعنی مارچ کا پاگل پن

اس کی وجہ یہ ہے کہ مارچ وہ مہینہ ہے جس میں نیشنل کالجیٹ ایتھلیٹک ایسوسی ایشن (این سی اے اے) کے باسکٹ بال ٹورنامنٹ کھیلے جاتے ہیں۔

مردوں کا ٹورنامنٹ

مردوں کا ٹورنامنٹ 1939 میں شروع ہوا۔ اس میں ہونے والے مقابلوں میں صرف آٹھ ٹیموں نے حصہ لیا اور یونیورسٹی آف اوریگون نے فائنل میں اوہائیو سٹیٹ کو 46-33 سے شکست دے کر پہلا ٹورنامنٹ جیتا۔

پہلا این سی اے اے ٹورنامنٹ ایک معمولی واقعہ تھا۔ چیمپئن شپ کا کھیل نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں آدھے خالی میدان میں کھیلا گیا جس میں 9,000 شائقین سما سکتے تھے۔

تاہم، ٹیلی ویژن کی کوریج کی وجہ سے رفتہ رفتہ یہ ٹورنامنٹ بڑا ہوتا چلا گیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس ٹورنامنٹ کے میچوں میں کریم عبدالجبار، مائیکل جارڈن، لیری برڈ اور سٹیفن کری جیسے باسکٹ بال کے عظیم کھلاڑیوں کو بھی کھیلتے ہوئے  دیکھا جا سکتا تھا۔

اس سال کا فائنل میچ نیو اورلینز کے سیزر سپرڈوم میں کھیلا جائے گا جس میں باسکٹ بال کے 73,000 سے زائد شائقین سما سکتے ہیں۔

کالج کے کھیل اور خاص طور پر کالج باسکٹ بال اور (امریکی) فٹ بال کو امریکہ میں بڑے بڑے کاروباروں کی حیثیت حاصل ہے۔ اس لحاظ سے امریکی کھیلیں دنیا کے دوسرے ممالک کی کھیلوں سے مختلف ہیں جہاں نوجوان کھلاڑی کلب ٹیموں میں کھیلتے ہیں۔ وہ کالجوں یونیورسٹیوں سے جڑیں ٹیموں میں نہیں کھیلتے۔

مارچ کے جنون کے باسکٹ بال ٹورنامنٹ کے میدان میں اترنے والی ٹیموں کی تعداد بڑھکر اب 68 ہو گئی ہے۔ بتیس ٹیمیں اپنی کانفرنس چیمپئن شپ جیت کر “بریکٹ” میں اپنی جگہ بناتی ہیں۔ میچوں کا ایک درخت نما خاکہ “بریکٹ” کہلاتا ہے۔ باقی 36 ٹیموں کا انتخاب این سی اے اے کی سلیکشن کمیٹی کرتی ہے۔

اس ٹورنامنٹ کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ ہر سال ٹورنامنٹ کے آغاز میں، ڈویژن I کی باسکٹ بال کی لگ بھگ 350 ٹیموں میں سے سبھی کو اپنے کوالیفائنگ میچ کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ امریکہ میں یہ عمل “بگ ڈانس” کہلاتا ہے۔ مارچ جنون کے دوران، شائقین کو اپنے سکول یا اپنی ریاست کی ٹیم کی حمایت کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

 باسکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں اور کوچ نے ٹرافی اٹھا رکھی ہے (© Nick Wass/AP Images)
رچمنڈ کے کوچ کرس مونی اور کھلاڑی جیکب گیلارڈ مارچ کے جنون ٹورنامنٹ کا فائنل جیتنے کے بعد ٹرافی پکڑے تصویر کھچوا رہے ہیں۔ 2022 کے ٹورنامنٹ میں کھیلنے والی ٹیم، رچمنڈ کو سنڈریلا سکول کا نام بھی دیا گیا ہے کیونکہ اس نے بہت زیادہ مضبوط سمجھی جانے والی ٹیموں کو ہرایا ہے۔ (© Nick Wass/AP Images)

اس ٹورنامنٹ کی ترتیب فٹ بال کی عالمی کپ چیمپین شپ کی طرز کے ناک آؤٹ راؤنڈز کی طرح ہوتی ہے جس کے تحت ہارنے والی ٹیم مقابلے سے باہر ہو جاتی ہے۔ یہ ترتیب لوگوں میں مقبول ہے۔ ہر میچ کی فاتح ٹیم آگے بڑھ جاتی ہے، جبکہ ہارنے والی ٹیم گھر چلی جاتی ہے۔ “جیتو یا کھیل سے باہر ہو جاؤ” کی بنیاد پر ہر میچ ایک ڈرامائی مقابلہ ہوتا ہے۔

ٹورنامنٹ میں عام طور پر ایسے بڑے  کالجوں یا یونیورسٹیوں کو غلبہ حاصل ہوتا ہے جو اِس کھیل کی سہولتوں اور ٹیم کے چوٹی کے کوچوں کی تنخواہوں پر لاکھوں کروڑوں خرچ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اس سال کے ٹورنامنٹ میں باسکٹ بال کی روایتی طور پر ایریزونا، کنساس اور کینٹکی جیسی یونیورسٹیوں کی مردوں کی مضبوط ٹیموں سے اچھی کارکردگی کی توقع کی جا رہی ہے۔

تاہم، بعض اوقات عرف عام میں “سنڈریلا” کہلانے والی چھوٹے کالجوں یا یونیورسٹیوں کی ٹیمیں  بڑے اور اعلی تعلیمی اداروں کی ٹیموں کو ہرا دیتی ہیں جس کے نتیجے میں کچھ کچھ “جنون” پیدا ہو جاتا ہے۔ 2018 میں یونیورسٹی آف میری لینڈ، بالٹی مور کاؤنٹی نے ملک کی پہلے نمبر کی ٹیم، یونیورسٹی آف ورجینیا کو ٹورنامنٹ کے پہلے راؤنڈ میں شکست دے کر ہر ایک کو حیران کر دیا۔

عورتوں کا ٹورنامنٹ

حالیہ برسوں میں خواتین کا باسکٹ بال زیادہ مقبول ہوا ہے۔ خواتین کا قومی چیمپئن شپ ٹورنامنٹ کا آغاز 1972 میں ہوا اور اُس وقت اسے ایسوسی ایشن فار انٹر کالجیٹ ایتھلیٹکس فار ویمن (اے آئی اے ڈبلیو) کے نام سے ایک تنظیم چلایا کرتی تھی۔

امیکیولاٹا کالج نے جو کہ اب امیکیولاٹا یونیورسٹی کہلاتا ہے، اے آئی اے ڈبلیو کی پہلی تین چمپین شپس جیتیں۔ اُس وقت اس کالج میں طلبا کی تعداد 500 ہوا کرتی تھی اور اس کی کوچ، کیتھی رش کی پورے سیزن کی تنخواہ 450 ڈالر ہوا کرتی تھی۔

 چِلاتا ہوا باسکٹ بال کا ایک کوچ (© Jessica Hill/AP Images)
یونیورسٹی آف کنیٹی کٹ کے کوچ، جینو اوریما کو امید ہے کہ وہ اس سال خواتین کی باسکٹ بال کی اپنی ٹیم کو بارھویں مرتبہ قومی چیمپئن شپ میں لے کر جائیں گے جو کہ ایک ریکارڈ ہوگا۔ (© Jessica Hill/AP Images)

خواتین کے این سی اے اے ٹورنامنٹ میں اب 68 ٹیمیں کھیلتی ہیں اور مردوں کے ٹورنامنٹ کی طرح یہ ٹورنامنٹ بھی بڑے میدانوں میں کھیلا جاتا ہے اور اس میں بھی بڑے کالجوں اور بڑی یونیورسٹیوں کا غلبہ ہے۔ کنیٹی کٹ یونیورسٹی نے این سی اے اے کے 11 ٹورنامنٹ جیتے ہیں جبکہ  یونیورسٹی آف ٹینیسی نے آٹھ ٹورنامنٹ جیتے ہیں۔ اس سیزن میں جنوبی کیرولائنا، کنیٹی کٹ اور آئیووا کی یونیورسٹیوں سے خواتین کے مارچ  کے جنون کے ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کی توقع ہے۔

اس کے علاوہ، خواتین کی ٹیموں کے کوچز کو ماضی کے 450 ڈالر کے مقابلے بہت زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال تین بار کے گولڈ میڈلسٹ اور ساؤتھ کیرولائنا یونیورسٹی کے، کوچ ڈان سٹیلی ہیں۔

مارچ میں باسکٹ بال کے شائقین کالج کی بہترین ٹیموں اور ان کے مشہور کوچز کے درمیان ہونے والے کھیلوں کے مقابلوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن وہ انہیں حیران کر دینے والے کسی  نامعلوم کھلاڑی کے غیرمعمولی کھیل کی وجہ سے یا کسی سنڈریلا ٹیم کی تمام مشکلات کے باوجود فتوحات کی وجہ سے تھوڑے بہت جنونی بھی ہو سکتے ہیں۔

فری لانس مصنف فریڈ بوون نے یہ مضمون لکھا۔