ماھشہر میں ایرانیوں کا قتل عام

نقاب پوش افراد۔ (© Vahid Salemi/AP Images)
اوپر دکھائے گئے افراد پر مشتمل ایرانی سکیورٹی فورسز پر نومبر میں غیرمسلح مظاہرین کو ہلاک کرنے کے الزامات ہیں۔ (© Vahid Salemi/AP Images)

ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ ایرانی حکومت کی پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی سپاہ (آئی آر جی سی) نے جنوب مغربی ایران کے شہر ماھشہر میں 100 افراد کا قتل عام کیا۔

ایران کے لیے امریکہ کے نمائندہِ خصوصی برائن ہک نے 5 دسمبر کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ گزشتہ ماہ آئی آر جی سی کے دستوں نے ماھشہر کی سڑکوں پر مظاہرین پر فائرنگ شروع کر دی جس سے بہت سے ہلاک ہوگئے اور بہت سوں نے بھاگ کر اپنی جانیں بچائیں۔ آئی آر جی سی کے دستوں نے مظاہرین کا پیچھا جن ٹرکوں میں بیٹھ کر کیا اُن پر مشین گنیں نصب تھیں اور اُنہوں نے مظاہرین کو ایک قریبی دلدل میں گھیرلیا۔

ہک نے کہا، ” اُس کے بعد انہوں نے مظاہرین پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ مشین گن کی فائرنگ کے وقفوں کے دوران گولیوں کا نشانہ بننے والوں کی چیخیں سنی جا سکتی تھیں۔”

لوگوں کے ایک پرہجوم مجمے میں بیٹھے اور کھڑے ہوئے لوگ۔ (© Mostafa Shanechi/ISNA/AP Images)
ایران میں حال ہی میں لوگوں نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیے ہیں۔ (© Mostafa Shanechi/ISNA/AP Images)

ماھشہر کا قتل عام ایرانی حکومت کے اپنے عوام کے خلاف کیے جانے تشدد کی صرف ایک مثال ہے جو اس وقت سامنے آئی جب انٹر نیٹ کا تقریباْ پورے ملک میں کیا جانے والا بلیک آؤٹ ختم کیا گیا۔

حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے شروع ہونے والے مظاہروں کے خلاف اپنے ردعمل پر پردہ ڈالنے کے لیے 16 نومبر کو انٹرنیٹ بند کر دیا۔ یہ مظاہرے حکومت کے عشروں پر محیط ظلم وجبر اور اقتصادی بدانتظامی کے خلاف بتدریج ایک ایسی فردِ جرم کی شکل اختیار کر گئے جو وسیع پیمانے پر پھیل چکی ہے۔

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ:

وزیر خارجہ پومپیو:

گزشتہ ہفتے میں نے ایران کے باہمت عوام سے کہا کہ وہ دستاویزی شکل میں ایرانی مظاہروں کے خلاف پُرتشدد حکومتی کاروائیوں کے شواہد بھیجیں۔ ابھی تک ہمیں کم و بیش 20,000 پیغامات موصول ہوچکے ہیں۔ پہلے ہی امریکہ ایران کے گمراہ کن اطلاعات کے وزیر کے خلاف کاروائی کر چکا ہے۔ مزید پابندیاں بھی لگائی جا رہی ہیں۔  

بلیک آؤٹ کے ردعمل میں امریکہ کے وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے ایرانی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی وڈیوز بھیجنے کا کہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اطلاع دی ہے کہ حکومت کی سکیورٹی فورسز نے عام شہریوں کو ہلاک کیا اور یہاں تک کہ اُن کے عزیزوں کو اُن کی میتیں واپس کرنے سے پہلے ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے پیسوں کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

برائن ہک نے کہا کہ ماھشہر کے قتل عام کے علاوہ ایران کے دارالحکومتی شہر، تہران اور اس کے گردونواح میں سینکڑوں مظاہرین کے ہلاک کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ہلاک کیے جانے والوں میں کم از کم ایک درجن بچے بھی شامل ہیں جن میں سے بعضوں کی عمریں 13 سال تھیں۔

انہوں نے کہا، ” ایرانی حکومت اپنے عوام کے ساتھ جیسا سلوک کرتی ہے اُس بارے میں ہمییں دن بدن ایک بڑھتی ہوئی تعداد میں معلومات موصول ہو رہی ہیں۔ جیسے جیسے خبریں ایران سے نکل کر باہر آ رہی ہیں ویسے ویسے یہ بات سامنے آ تی جا رہی ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ مظاہروں کے آغاز کے بعد سے حکومت نے ایک ہزار سے زائد افراد کو ہلاک کیا ہو۔”

کم از کم 7,000 مظاہرین کو بھی حکومت حراست میں لے چکی ہے۔ اِن میں سے بہت سوں کو اُن دو قید خانوں میں رکھا گیا جو ہک کے مطابق گنجائش سے زیادہ ایک جگہ قیدی رکھنے، چوہوں کی بھرمار ہونے، اور آبروریزی سمیت قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے جیسے غیرانسانی حالات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے بدنامِ زمانہ ہیں۔

ہک نے کہا، "امریکہ نے قید خانوں میں بند تمام مظاہرین کی فوری رہائی کے ساتھ ساتھ حکومت کے طرف سے گرفتار کیے گئے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ تمام ممالک کے لیے یہ وقت ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے، سفارتی طور پر حکوممت کو تنہا کرنے، اور اُن اہلکاروں پر پابندی لگانے کا ہے جو بے گناہ ایرانیوں کو قتل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔”