گلاب اور نیلے رنگ میں دکھائی دینے والے ایکس ریز اور ریڈیو اخراجوں کی فلکیاتی تصویر۔ (© X-ray: Chandra: NASA/CXC/NRL/S. Giacintucci, et al., XMM-Newton: ESA/XMM-Newton; Radio: NCRA/TIFR/GMRT; Infrared: 2MASS/UMass/IPAC-Caltech/NASA/NSF)
کائنات میں دیکھے جانے والے سب سے بڑے دھماکے کے شواہد: (© X-ray: Chandra: NASA/CXC/NRL/S. Giacintucci, et al., XMM-Newton: ESA/XMM-Newton; Radio: NCRA/TIFR/GMRT; Infrared: 2MASS/UMass/IPAC-Caltech/NASA/NSF)

ناسا نے بتایا کہ کائنات میں ہونے والے سب سے بڑے دھماکے کا پتہ چل گیا ہے۔

ناسا نے 27 فروری کو کہا، "ریکارڈ توڑ یہ انتہائی زوردار دھماکہ کروڑوں نوری سال کی دوری پر واقع کہکشاوًں کے ایک دور دراز مجموعے میں واقع بلیک ہول میں ہوا۔

فلکیات کے ماہرین ایسی دریافتوں کے لیے زمین پر نصب اور خلا میں چھوڑی گئی دوربینوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس مقصد کے لیے ناسا کی چندرا فلکیاتی رصدگاہ کے ایکس رے ڈیٹا اور ای ایس اے کے ایکس ایم ایم-نیوٹن، آسٹریلیا کی مرچیسن وائڈ فیلڈ ایرے کے ریڈیو ڈیٹا اور نیچے دکھائی گئی بھارت کی ‘جائنٹ ریڈیو ٹیلی سکوپ’ نامی دوربین کو بھی استعمال میں لایا جاتا ہے۔

فلکیاتی تصویر جس میں ایکس ریز، ریڈیو اور انفرا ریڈ شعاعوں کو دکھایا گیا ہے: (© X-ray: Chandra: NASA/CXC/NRL/S. Giacintucci, et al., XMM-Newton: ESA/XMM-Newton; Radio: NCRA/TIFR/GMRT; Infrared: 2MASS/UMass/IPAC-Caltech/NASA/NSF)
(© X-ray: Chandra: NASA/CXC/NRL/S. Giacintucci, et al., XMM-Newton: ESA/XMM-Newton; Radio: NCRA/TIFR/GMRT; Infrared: 2MASS/UMass/IPAC-Caltech/NASA/NSF)

محققین کے تخمینے کے مطابق اس دھماکے سے سابقہ ریکارڈ کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ اور کہکشاوًں کے ایک عمومی مجموعے کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ توانائی خارج ہوئی۔ اس سے پیدا ہونے والی توانائی بلیک ہول کے مخالف قطبین سے اٹھنے والی لہروں کے ذریعےسفر کرتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ یہ دھماکہ اب ختم ہو چکا ہے کیونکہ انہیں ریڈیو ڈیٹا میں اٹھنے والی لہروں کے شواہد نہیں مل رہے۔