ماہر آبیات فاجی مینا کا نائجر سے ناسا تک کا سفر

فاجی مینا جب 10 برس کی تھیں تو انہیں یہ علم تھا کہ وہ پانی کی قلت کے مسائل کے حل تلاش کرنا چاہتی ہیں۔ یہ کام وہ نائجر کے شہر زنڈر کے لیے خاص طور پر کرنا چاہتی تھیں کیونکہ وہ اسی شہر میں پلی بڑھی تھیں۔

مینا نے ستمبر کے اوائل میں اپنی منزل کی جانب ایک لمبا سفر اُس وقت طے کر لیا جب انہوں نے ناسا کے خلائی پرواز کے گوڈارڈ مرکز میں شماریات کی آبی ماہرہ کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا۔ وہ خلائی ادارے میں کام کرنے والی نائجر کی پہلی سائنس دان ہیں۔

مینا کہتی ہیں، "میں سمجھتی ہوں کہ میرے کندھوں پر ایک ذمہ داری آن پڑی ہے جو یہ ہے کہ مجھے اپنے ملک کا چہرہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ اس کا تعلق نائجر کے لوگوں کے بارے میں تصور اور بالعموم عورتوں کے بارے میں تصور تبدیل کرنے سے ہے۔”

 فاجی نینا کی تصویر (Courtesy photo
فاجی مینا (Courtesy photo

29 سالہ مینا کو یہ کام آن لائن درخواست دینے کے بعد ملا۔ مینا ناسا میں پانی پر مرتب ہونے والے موسمی اثرات کا مطالعہ کرنے کے لیے، ریاضی کے نمونوں اور ریموٹ سینسنگ آلات استعمال کریں گی۔ وہ بتاتی ہیں کہ وہ ایشیا کے پہاڑوں پر پانی کو دیکھنا شروع کریں گی کیونکہ ایک ارب سے زائد افراد کا انحصار اسی پانی  پر ہے۔ لہذا اس حوالے سے موسمیاتی تبدیلی بڑی اہم ہے۔

پانی کے مسائل کے بارے میں اتنے گہرے احساس کی وجہ مینا کا زنڈر میں گزرنے والا بچپن ہے۔ اگرچہ زنڈر کا شمار نائجر کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے مگر زنڈر پانی کی قلت کے لیے مشہور ہے۔ مینا بتاتی ہیں کہ یہ مسئلہ بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔

اس سابقہ فرانسیسی نوآبادی میں بڑی ہونے والی مینا نے دیکھا کہ بہت سے گھروں میں پانی کے نل نہیں ہیں۔ اس کی وجہ سے بہت سے گھرانے لڑکیوں کو پانی لانے کے لیے کسی جھیل یا اُن لوگوں سے پانی خرید کر لانے کے لیے بھیجتے تھے جن کے گھروں میں پانی کے نلکے لگے ہوتے تھے۔

مینا کہتی ہیں کہ یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ پانی کی ذمہ داری لڑکیوں کے سر تھی۔

مینا کہتی ہیں، "لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکوں کو سکول جانا چاہیے یا کام پر جانا چاہیے اور لڑکیوں کو پانی ڈھونڈھ  کر لانا چاہیے اور کھانا پکانے اور صفائی [کا کام کرنا] چاہیے۔” یہ صورتحال [مینا] کی کامیاب ہونے کی خواہش کو مہمیز دیتی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ [لڑکیوں]  کے پاس سکول جانے کا وقت نہیں ہوتا۔ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والا ایک اور مسئلہ لڑکیوں کی تعلیم کا ہے۔ "میں یہ دیکھ چکی ہوں۔”

انہوں نے یونیورسٹی آف فیض سے ارضیاتی انجینئرنگ میں بیچلر ڈگری، سٹراسبرگ یونیورسٹی سے انجینئرنگ اور ماحولیاتی سائنس میں ماسٹر ڈگری اور اسی یونیورسٹی سے آبیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ فرانسیسی، انگریزی اور ہوسا زبانیں بولتی ہیں۔

 ایک بڑے کمرے میں لوگ کمپیوٹروں اور سکرینوں پر کام کر رہے ہیں (NASA)
ناسا کے بہت سے کاموں میں سائنس دان مدد کرتے ہیں۔ (NASA)

مینا اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہیں۔ چونکہ ان کے والدین کے ہاں پانی کا نلکہ لگا ہوا تھا اس لیے وہ اپنی تعلیم پر مکمل توجہ دینے کے قابل ہوئیں۔ لیکن انہیں قطار میں کھڑی 40 سے زیادہ لڑکیاں یاد ہیں جو خشک موسم اور چلچلاتی دھوپ میں ہاتھ میں بالٹیاں لیے اِن کے گھر کے باہر کھڑی ہوتی تھیں۔ چھوٹی عمر ہی سے، مینا لوگوں کی مدد کرنا چاہتی تھیں۔ جب وہ بڑی ہوئیں تو انہیں احساس ہوا کہ پوری دنیا میں پانی کے مسائل موجود ہیں اور ناسا انہیں عالمی سطح پر ان سے نمٹنے کا موقع فراہم کرے گا۔

اُن کے لیے (ناسا تک پہنچنے) کی راہ اتنی آسان نہ تھی۔ وہ کہتی ہیں، "میں پانی کے مسائل کے حل میں مدد کرنا چاہتی تھی مگر مجھے علم نہیں تھا کہ اس کے لیے آپ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری لینا اور سائنس کے شعبے میں کام کرنا ہوگا۔”

ناسا میں شامل ہونے سے پہلے مینا کے کام کی بہت تعریفیں کی گئیں۔ وہ برکلے، کیلی فورنیا میں واقع لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری میں پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ کے لیے فوربس کی 2020ء کی 30 سال سے کم عمر کی سائنس کی 30 افراد کی فہرست میں شامل تھیں۔ (فوربس ایک کاروباری رسالہ ہے جس میں مالیات، صنعت، سرمایہ کاری اور مارکیٹنگ کے موضوعات پر لکھا جاتا ہے۔ سائنسی شعبوں کے ماہرین کے ایک چار رکنی پینل نے اس سال کے فاتحین کا انتخاب کیا۔)

مینا کہتی ہیں، "جب میں نے یہ (فہرست) دیکھی تو میں ہکا بکا رہ گئی۔” کیونکہ منا کے بقول ہر سال جاری ہونے والی اِس فہرست میں وہ نائجیریا کے لوگوں کے نام دیکھنے کی عادی تو تھیں مگر اس میں نائجر سے تعلق رکھنے والےکسی فرد کا نام ہوتا تھا۔

چونکہ وہ نئی رکاوٹوں کو دور کرنے والی نائجر کی پہلی خاتون ہیں لہذا اُنہیں اس حقیقت کا عادی ہو جانا چاہیے۔ انہیں امید ہے کہ وہ اپنے ہموطنوں، بالخصوص عورتوں اور لڑکیوں پر یہ ثابت کرنے کے لیے اپنی زندگی کی مثالیں دے سکیں گی کہ وہ بھی ایسا کر سکتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں، "میں لوگوں کے حوصلے بڑھانا چاہتی ہوں۔”