محنت کشوں کے دن کے موقع پر باہمت امریکی محنت کشوں کو خراج تحسین

حفاظتی لباس پہنے ایک نرس، ہسپتال کے بستر پر لیٹے ایک مریض کے سرہانے بیٹھی عورت کو تسلی دے رہی ہے (© Jae C. Hong/AP Images)
نرس، مشیل ینکن (کھڑی ہوئی) رومیلا ناوارو کو تسلی دے رہی ہیں جو فلرٹن، کیلی فورنیا کے سینٹ جوڈے میڈیکل سنٹر میں کووڈ-19 یونٹ میں اپنے خاوند، انتونیو کے سرہانے بیٹھی ہوئی ہیں۔ (© Jae C. Hong/AP Images)

امریکہ میں ستمبر کے پہلے پیر کو منائے جانے والے محنت کشوں کے دن بہت سے محنت کش آرام کریں گے اور  امریکہ بھر میں لوگ محنت کشوں کے حقوق کی اہمیت  پر غوروفکر کریں گے۔

اس برس، محنت کشوں کا دن خصوصی طور پر اُن پرعزم محنت کشوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا وقت ہے جو کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران امریکہ کو مستحکم رکھنے میں مدد کر رہے ہیں۔ وہ بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں، بیماروں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں اور امریکیوں کو زندگی کی ضروریات مہیا کر رہے ہیں۔ ذیل میں اِن میں سے چند ایک کی کہانیاں بیان کی جا رہی ہیں:-

‘آپ کو دیکھ بھال کرنا ہوگی”

 دو تصویریں: لیٹربکس میں ایک آدمی ڈاک ڈال رہا ہے؛ ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے ایک آدمی ٹرک کے باہر کھڑا ہے اور ٹرک کے اندر کھانا رکھا ہوا ہے۔ (© Irfan Khan/Los Angeles Times/Getty Images)
بائیں، جیمز ڈینیلز ڈاک تقسیم کر رہے ہیں۔ دائیں، ڈینیلز ڈاک تقسیم کرنے کے دوران دوپہر کے کھانے کے وقفے کے دوران کھانا کھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ (© Irfan Khan/Los Angeles Times/Getty Images)

ہر روز تیار ہو کر امریکی محکمہ ڈاک کے لیے ڈاک تقسیم کرنے کے اپنے کام پر نکلنے سے پہلے، جیمز ڈینیئلز بہت سی دعائیں مانگتے ہیں۔ 59 سالہ ڈینیئلز 16 سالوں سے ریاست کیلی فورنیا کے سان کلیمنٹے شہر کے ایک ہی حلقے میں 808 گھروں کے نام آنے والی ڈاک پہنچاتے چلے آ رہے ہیں۔ اُن کے حلقے کے لوگ اپنے بلوں کی ادائیگی، دواؤں  اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی کے لیے  ڈینیئلز پر انحصار کرتے ہیں۔

ڈینیئلز کہتے ہیں، "اِن چیزوں کا تعلق اُن کی زندگیوں سے ہے۔ میں یہ چیزیں اُن کے لیٹربکسوں میں ڈالتا ہوں۔ اگر آپ یہ کام کر رہے ہیں تو پھر آپ کو احتیاط سے کام لینا ہوگا۔”

کووڈ-19 نے اب زندگی بدل کر رکھ دی ہے۔ عام دنوں کے مقابلے میں، ڈینیئلز اب زیادہ مصروف رہنے لگے ہیں۔ وہ دفتروں کی بجائے گھروں سے کام کرنے والوں یا قرانطینہ کے قوانین کے تحت گھروں میں بند ہوجانے والے لوگوں کے لیے "ٹنوں” کے حساب سے پیکٹ اُن کے گھروں پر پہنچا چکے ہیں۔ وہ لوگوں کے ہاں میٹرس، فرنیچر اور بچہ گاڑیوں جیسی بڑی بڑی چیزیں پہنچا چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کام تو بڑھ گیا ہے مگر یہ ایک "اچھا کام ہے۔ اچھے کام سے میری مراد لوگوں کی مدد کرنے سے ہے۔ یہ کووڈ-19 سے لوگوں کو کامیابی سے نکلنے میں مدد کرنا ہے۔”

ڈاک لے جانے والے اپنے ٹرک کو ڈینیئلز جراثیم کش دواؤں سے صاف کرکے  اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اپنے حلقے میں ڈاک تقسیم کرتے وقت وہ منہ پر ماسک لگاتے اور ہاتھوں پر دستانے پہنتے ہیں۔ اپنے کام سے فارغ ہونے کے بعد وہ روزانہ نہاتے ہیں اور اپنی وردی دھوتے ہیں۔

اُن کے حلقے کے لوگ اُن کی راہ دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ پانی اور ‘گیٹوریڈ’ نامی شربت کے تحفوں سے ڈینیئلز کی پیاس بجھاتے ہیں۔ ان لوگوں کی طرف سے ڈینیئلز کو چہرے پر لگانے والے اتنے ماسک دیئے گئے ہیں کہ وہ اب مزید ماسک لینے سے معذرت کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنی ایک پرانی خاتون گاہک سے ہاتھ سے سلے اُس ماسک کو ضرور قبول کیا جس پر ڈاک تقسیم کرنے والے ٹرک کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ ڈینیئلز اِس خاتون کو "پوری دنیا کی سب سے اچھی خاتون” کہتے ہیں اور بتاتے ہیں اِس خاتون نے ان سے کہا کہ اُس نے یہ ماسک اس لیے بنایا کیونکہ "ہم نہیں چاہتے کہ جیمز تم کو کچھ ہو جائے۔ ہرگز یہ نہیں چاہتے۔”

‘حقیقی معنوں میں جدت طراز بنیں’

 ایک عورت کلاس روم میں لیپ ٹاپ کے سامنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب کی طرف اشارہ کر رہی ہے (© Andy Lyons/Getty Images)
ریاست کنٹکی کے شہر گوشن میں سینٹ فرانسس سکول کے خالی کلاس روم سے دوسری جماعت کی ٹیچر، جو این کولنز براک آن لائن بچوں کو پڑھا رہی ہیں۔ (© Andy Lyons/Getty Images)

کاکروچوں، مور کے پروں اور گتے کی بنی ہوئی اپنی ایک بڑی تصویر اور کافی ساری جدت طرازیوں کی مدد سے، جو این کولنز براک نے کورونا وائرس کے دوران دوسری جماعت کے اپنے طلبا کو پڑھانا شروع کیا۔

54 سالہ براک لوئی وِل، کنٹکی کے قریب گوشن میں سینٹ فرانسس سکول میں زبان کے فنون اور معاشرتی علوم پڑھاتی ہیں۔ اس سال کے اوائل میں ورچوئل کلاس روموں کی طرف منتقلی کی ابتدائی افراتفری کے بعد سکول کے 370 طلبا کو نئے قوانین سکھانے پڑے۔ براک کو شور مچاتے ہوئے بچوں کو مسلسل یاد دہانی کرانی پڑی کہ وہ اپنے مائیکروفونوں کو بند کریں۔

براک سکول گئیں اور اپنا کیمرہ استعمال کرتے ہوئے انہوں نے بچوں کو اُن کے گھروندے اور کلاس روم کی دیگر چیزیں دکھائِں جو انہیں یاد آتی تھیں۔ وہ  پڑھنے کے لیے کاپبوں کتابوں کی بجائے کھیلوں کا استعمال کرتی تھیں۔ انہوں نے جرابیں سجانے اور پتلی تماشے میں بچوں کی رہنمائی کی۔

18 سال سے پڑھانے والی براک کہتی ہیں، "ہمیں حقیقی معنوں میں تھوڑا سا جدت طراز ہونا پڑے گا۔ اپنی آن لائن کلاسوں کے بعد دوسری کلاس کے بچے سائن آف کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتے ہیں۔ لہذا وہ اکثر ویڈیو کے ذریعے، دوپہر کا کھانا اکٹھے کھاتے ہیں۔

انہیں اس کی فکر ہے کہ بعض بچوں کو سماجی میل جول یا مدد کی عدم دستیابی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مگر وہ کہتی ہیں کہ "یہ ایک باہم جڑا ہوا گروپ ہے” اور اس سے مدد ملتی ہے۔ طلبا اور اُن کے گھر والوں نے بھی براک کی مدد کرنے پر کام کیا ہے۔ ایک طالبعلم کی ماں نے گتے کو کاٹ کر براک کی ایک بڑی سی تصویر بنائی اور طلبا کے اس تصویر کے ساتھ انفرادی فوٹو بنوانے کا انتظام کیا۔

براک کے کلاس روم کے پالتو کیڑوں میں مڈغاسکر کے سائیں سائیں کرتے کاکروچ  ہیں۔ دوسری جماعت کے بچوں کی طرف سے ہرسال ‘روچ ریس’ (کاکروچوں کی دوڑ) ہوتی ہے۔ یہ دوڑ کنٹکی ڈربی سے پہلے آنے والی جمعرات کو منعقد کی جاتی ہے۔ اگرچہ اصلی کنٹکی ڈربی تو ملتوی کی جا چکی تھی، مگر براک نے مور کے پروں سے بنے ہوئے فیروزی رنگ کا تاج پہن کر اپنے کلاس روم کے دوڑ کے میدان میں ‘کاکروچوں کی دوڑ’ منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ (طلبا مشہور امریکیوں کے نام پر کیڑوں کے نام رکھتے ہیں۔ اس میں سپریم کورٹ کی جج روتھ  بیڈر گنزبرگ کا نام بھی شامل ہے۔)

براک کہتی ہیں، "میں دوڑ کا اعلان (گھوڑوں کی دوڑ کے مشہور میدان) چرچل ڈاؤنز میں ہونے والے اعلانات کی طرح ہی کرتی ہوں: ‘اُن کی دوڑ ختم ہونے والی ہے، کاکروچ بیڈر گنزبرک ایک پر کے فرق سے آگے ہے۔”

دوسری ٹیچروں کی طرح براک بھی کلاس روم میں واپس آنے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے لیے چہرے پر لگانے والی پلاسٹک کی ایک شفاف شیلڈ اور ماسک منگوایا ہے کیونکہ یہ ضروری ہے کہ طلبا براک کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھ سکیں تاکہ اُن کی کوششوں کی ہمت افزائی ہو سکے یا اُن کے شور وغل کی صورت میں براک کے بدلے ہوئے تیور دیکھ سکیں۔ وہ کہتی ہیں، "اس طرح، وہ ٹیچر کے تیوروں کو — آپ کو پتہ ہے نا وہ تیور — پوری طرح دیکھ سکتے ہیں۔”

‘ہم ابھی بھی محفوظ ہیں’

 کھڑکی کے پیچھے ایک عورت ٹائلٹ پیپروں کو مشروبات کی بوتلوں کے ساتھ ترتیب سے رکھ رہی ہے (© Manuel Balce Ceneta/AP Images)
اپریل کے ایک دن جب واشنگٹن میں "اینیز پیراماؤنٹ سٹیک ہاؤس” بند تھا، سارا ریواس اُن ٹائلٹ پیپروں کو ترتیب سے رکھ رہی ہیں جنہیں بعد میں کسی نے اٹھانے آنا تھا۔ (© Manuel Balce Ceneta/AP Images)

جب پہلے پہل کاروبار بند ہوئے تو سارا ریواس اپنے شوہر، 9 سالہ بیٹی اور دو سالہ بیٹے کے ساتھ  وقت گزار کر خوش ہوتی تھیں۔ مگر جلد ہی اُن کے لیے واشنگٹن میں ‘ اینیز پیراماؤنٹ سٹیک ہاؤس’ ریستوران میں اپنے کام پر نہ جانا اور گھر رہنا "واقعتاً ایک بیزاری بن گئی۔”

جون میں ریستوران کے کھلنے کے بعد، انہوں نے کام دوبارہ شروع کر دیا ہے اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے دوبارہ میل جول شروع ہو گیا ہے۔ وہ کچن کی صفائی ستھرائی کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ بعض اوقات وہ میزبان کا کام بھی کرتی ہیں جس سے پابندی سے ریستوران میں آنے والے گاہکوں سے ملاقاتیں ہونے لگی ہیں۔ ریواس کہتی ہیں، "میں شکرگزار ہوں کہ میں کام کر رہی ہوں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم محفوظ ہیں۔” ریواس کے شوہر تعمیرات کا کام کرتے ہیں۔ مگر اُن کا کام کم ہو گیا ہے۔

12 سال سے ریستوران پر کام کرنے والی ریواس کہتی ہیں، "ہر چیز ہی بدل گئی ہے مگر ہم خوش ہیں۔ ہم تمام قوانین پر عمل کر رہے ہیں۔”

نئے ماحول میں منہ پر ماسک لگانے اور ہاتھوں پر دستانے پہننے … اور ڈھیروں کے حساب سے ٹائلٹ پیپروں کی فروخت شامل ہے۔

‘موقعے سے فائدہ اٹھانا’

 فارم میں فصلوں کو پانی دیتا ہوا آدمی (© Jessica Rinaldi/The Boston Globe/Getty Images)
سی اینا فارمز کے مالک، کرس کرتھ فصلوں کو پانی دے رہے ہیں۔ (© Jessica Rinaldi/The Boston Globe/Getty Images)

کرس کرتھ،  سی اینا فارمز پر اس امید پر برسوں محنت کرتے رہے کہ وہ کچھ پیسے بچا لیں گے۔ بعض برسوں میں ایسا ہوتا تھا کہ کچھ پیسے بچ جاتے تھے اور وہ یہ بچت اپنی زمینوں پر لگا دیتے تھے۔ بعض میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔

پھر کووڈ-19 کی وبا سر پر آن پڑی۔ اُن کی 14 سالہ بیٹی کا سکول بند ہوگیا اور وہ اپنی سہیلیوں سے نہیں مل سکتی تھی۔ مشہور شیف اینا سورٹم، کرتھ کی بیوی ہیں۔ سورٹم نے بوسٹن کے علاقے میں اپنے تین ریستورانوں کے دروازے بند کیے اور انہیں ریستورانوں کے اندر بیٹھ کر کھانے کی بجائے وہاں سے گاہکوں کے لیے کھانا لے کر جانے کے لیے تیار کیا۔ اس کا مطلب کم سیل اور فارموں سے سبزیوں کی کم خریداری تھا۔

اپنی بیٹی، سی اینا کے نام پر سڈ بری، میساچوسٹس میں اپنے فارم کا نام رکھنے والے کرتھ کا کہنا ہے، "ایسے محسوس ہوا کہ ہماری زندگیوں میں ایک موقع  آیا ہے اور یہ وقت اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کا ہے۔”

کیونکہ اب زیادہ سے زیادہ لوگوں نے گھروں میں کھانا پکانا شروع کر دیا تھا، اس لیے مقامی مارکیٹوں کی سیل کم ہوگئی۔ نتیجتاً اس فارم کی اجناس کی فروخت میں بھی کمی آ گئی جس سے یہ خاندان مایوسی کا شکار ہونے لگا۔ تاہم جلد ہی سی اینا فارم کے کمیونٹی کی مدد سے چلنے والے ایک پروگرام کی خبر پھیلنے لگی۔ اس پروگرام کے تحت فارم ایسے گاہکوں کو براہ راست سبزیاں بیچنے لگا جو اس کے باقاعدہ گاہک بن جاتے تھے۔ لوگوں کا فارم میں جمگھٹا لگنا شروع ہوگیا۔ عام طور پر اس فارم سے سبزی کے  400 بکس گاہکوں کے گھروں پر پہنچائے جاتے تھے مگر اس سال 1,700 گھرانے اس پروگرام میں شامل ہو چکے ہیں۔ کرتھ نے فوری طور پر دوسرے کسانوں سے تازہ روٹیاں اور سٹرا بیری کے جام جیسی چیزیں خریدیں، زیادہ سبزیاں اگانا شروع کیں اور گاہکوں کے گھروں میں جلدی سے کھانے پینے کی اشیا پہنچانے اور اپنی کارکردگی بڑہانے کے لیے نیا ساز و سامان خریدا۔

جولائی کے آخر تک کرتھ کو سال 2019 میں ہونے والی کل آمدنی کے مقابلے میں تین گنا زیادہ آمدنی ہو چکی تھی۔ اُن کے کاروبار میں کورونا کی وبا سے قبل کمیونٹی کا حصہ 33 فیصد ہوا کرتا تھا جو کہ بڑھکر اب 90 فیصد ہو چکا ہے۔ کرتھ کو معلوم ہے کہ اس سال بہت سے لوگ اپنے کاروبار چلانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں اور یہ کہ اُن کا کنبہ خصوصی طور پر خوش قسمت ثابت ہوا ہے۔ مشکل وقت اُن کے فارم کو اُس سمت میں لے گیا جس میں وہ جانا چاہتے تھے۔ اب کمیونٹی کے لوگوں کے گھروں پر سبزیاں پہنچانے سے اُن کے کاروبار میں پیسہ آ رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں، "حقیقی معنوں میں ایک خواب سچا ثابت ہو گیا ہے۔”