مذہبی آزادی پر پومپيو کا بيان : دنيا کو سچ سننا ہو گا

امريکی وزير خارجہ مائيکل آر پومپيو نے “دنيا بھر ميں مذہبی آزادی کی خوفناک صورتحال” واضح کی اور انسانی وقار کے تحفظ کے ليے ٹرمپ انتظاميہ کی کاوشوں کو اجاگر کيا۔

 پومپيو کی تصوير کے ساتھ مذہبی آزادی سے متعلق امريکی تاريخ کے حوالے سے بيان (State Dept./Ron Przysucha)

اکتوبر 11 کو نيشويل، ٹينيسی ميں امريکی ايسوسی ايشن آف کرسچن کونسلرز سے خطاب کرتے ہوۓ امريکی وزير خارجہ نے کہا کہ دنيا بھر ميں “80 فيصد سے زائد انسان ايسے علاقوں ميں رہ رہے ہيں جہاں مذہبی آزادی کو کچلا جا رہا ہے يا اس پر مکمل قدغن ہے”۔

مثال کے طور پر:

  • چين ميں، چين کی کميونسٹ پارٹیدس لاکھ سے زائد ويغور مسلمانوں کو قيد کر کے ان پر مظالم ڈھا رہی ہے۔
  • ايران ميں عيسائی پادريوں کو غير قانونی طور پر گرفتار کر کے انھيں نظربند اور زدوکوب کيا جا رہا ہے۔
  • شمالی عراق ميں، دہشت گرد گروہ، داعش مذہبی اقليتوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔

پومپيو نے کہا کہ امريکی وزارت خارجہ “ہماری سفارت کاری کے ذريعے ان حالات کو درست کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو ان برائيوں کو پنپنے کا ذريعہ بنتے ہيں”۔

گزشتہ دو برسوں سے پومپيو نے امريکی وزارت خارجہ ميں  مذہبی آزادی کو فروغ دینے کی دینی علما کی کانفرنس کے نام سے ایک  کانفرنس کا انعقاد کيا ہے۔ اس کانفرنس ميں دنيا بھر سے نمايندگان کو مدعو کيا گيا تا کہ مذہبی آزادی کے ضمن ميں درپيش چيلنجز سے نبرد آزما ہونے کے ليے مختلف طريقوں پر گفتگو کی جا سکے اور مذہبی طبقوں پر ہونے والے جبر کے ساتھ ساتھ دنيا بھر ميں مذہب کی بنياد پر ہونے والے مظالم اور واقعات کو اجاگر کيا جا سکے۔

پومپيو نے اپنے بيان ميں کہا کہ امريکی وزارت خارجہ نے چين ميں انسانی حقوق کی صريح خلاف ورزی کے ذمہ دار افراد پر ويزے کی قدغنیں بھی لگا دی ہیں۔

اکتوبر 11 کے اپنے بيان ميں پومپیو نے کہا، “اور ہم نے امريکی کمپنيوں کو پابند کر ديا ہے کہ وہ چين کی ٹيکنالوجی سے منسلک کمپنيوں کو مخصوص اشياء کی برآمد سے باز رہيں جن کی بدولت انسانی حقوق کی يہ خلاف ورزياں ممکن ہو رہی ہيں۔ ہم جانتے ہيں کہ امريکی يہ نہيں چاہتے کہ ان کی کمپنياں “ايک مطلق العنان نگران رياست کے ليے مشينری کی تياری کا کام کريں۔