مذہبی آزادی کی آوازیں: ہولوکاسٹ سے بچ جانے والی ایک خاتون کی داستان [وڈیو]

13 سال کی عمر میں آئرین ویس کو لاکھوں دیگر یہودیوں کے ہمراہ اُن کے آبائی ملک ہنگری سے زبردستی آشوٹز برکیناؤ کے مشقتی کیمپ میں منتقل کیا گیا۔ اگرچہ ویس کے ساتھ ان کے مذہب کی بنا پر کی جانے والی زیادتیوں کو نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے تاہم آج بھی دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کے نزدیک مذہبی زیادتی زندگی کی ایک حقیقت ہے۔

ویس کہتی ہیں، "ہمیں ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو سب لوگوں کے لیے مذہبی آزادی کی حمایت کرے۔"

مذہبی آزادی کے 27 اکتوبر کےعالمی دن کے موقع پر مذہبی زیادتیوں کے شکار ہونے والے افراد کی کہانیوں کے سلسلے کا یہ پہلا حصہ ہے۔

جولائی میں محکمہ خارجہ میں ہونے والے مذہبی آزادی کے وزارتی اجلاس کے موقع پر وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکہ کے نزدیک مذہبی آزادی ایک ترجیحی پالیسی ہے کیونکہ یہ "خدا کا عطا کردہ ایک ایسا آفاقی حق ہے جو پوری انسانیت کو ودعیت کیا گیا ہے۔"