مذہبی ظلم و زیادتیوں کا شکار ہونے والے افراد کی متاثرکن کہانیاں

تبت کے مذہبی راہنما ٹینزن ڈیلیک رن پوچے کی بھانجی نائیمہ لاہمو 2015ء میں چینی حراست میں اپنے خالو کی ہلاکت کے بارے میں سچ جاننے کی تلاش میں ہیں۔ اس وجہ سے سرکاری حکام نے انہیں اور اُن کے خاندان کو زیر حراست رکھا اور وہ آج بھی انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں۔

اُن کا شمار مذہبی ظلم و زیادتیوں کا سامنا کرنے والے اُن افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے واشنگٹن میں محکمہ خارجہ میں مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے ہونے والی دینی علما کی دوسری سالانہ کانفرنس میں اپنی کہانیاں سنائیں۔ اِن میں سے بعضوں کو اپنے ملکوں میں سزاؤں کے خطرات کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود وہ دنیا بھر میں مذہبی آزادی پر عائد پابندیوں کے خلاف جدوجہد کرنے کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ لاہمو نے کہا، "یہ کانفرنس جس کا اہتمام محکمہ خارجہ نے کیا ہے اور اس میں بہت سی حکومتیں شرکت کر رہی ہیں، مجھے امید دلاتی ہے۔"

جیفری مائر، پٹس برگ میں واقع "ٹری آف لائف" نامی اُس یہودی عبادت گاہ میں ربائی یعنی یہودی عالم ہیں جہاں 2018ء میں 11 عبادت گزاروں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں، "یہ صرف … شفقت، ہمدردی اور انفرادی تعلقات کے ذریعے ہی ممکن ہے کہ ہم اُن مصنوعی رکاوٹوں کو ختم کریں جنہیں ہم لوگوں کو علیحدہ کرنے کی خاطر اس لیے کھڑا کر دیتے ہیں کیونکہ وہ ہم جیسے نہیں ہیں۔"

اس کانفرنس کے شرکاء میں سے ذیل میں دیئے گئے چند ایک افراد سے ملیے:

Couple in crowd holding hands (© Emre Tazegul/AP Images)
(© Emre Tazegul/AP Images)

اناجیلی عیسائی پادری، اینڈریو برنسن کو "ایک مسلح دہشت گرد تنظیم کی رکنیت" کے الزام کے تحت دو برس تک ترکی میں زیرحراست رکھا گیا۔ برنسن امریکی شہری ہیں اور وہ اپنی گرفتاری کے وقت ترکی میں گزشتتہ 23 برس سے زائد عرصے سے مقیم تھے۔ شدید بین الاقوامی دباؤ اور امریکہ کی طرف سے اعلٰی سطحی رابطوں کے بعد برنسن کو امریکہ واپس آنے کی اجازت ملی۔

Man talking on mobile phone outside (© Mohammad Ponir Hossain/Reuters)
(© Mohammad Ponir Hossain/Reuters)

محب اللہ برما میں 2017ء میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا نشانہ بنے۔ وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر پناہ گزینوں کے کیمپوں میں روہنگیا مسلمانوں کی برما کی فوج کی طرف سے کی جانے والی ہلاکتوں، آبرو ریزیوں اور آگ لگانے کے واقعات  کی گنتی پر کام کر رہے ہیں۔ محب اللہ اس وقت 'امن اور انسانی حقوق کی اراکان روہنگیا سوسائٹی' کے چیئر پرسن ہیں۔ کاکسز بازار، بنگلہ دیش میں عوامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے قائم کی جانے والی روہنگیا پناہ گزینوں کی یہ سب سے بڑی تنظیم ہے۔

 

Man and woman carrying children leaving aircraft (© Riccardo De Luca/AP Images)
(© Riccardo De Luca/AP Images)

مریم ابراہیم سوڈانی عیسائی خاتون ہیں۔ اُن کو اپنا مذہب چھوڑنے سے انکار کرنے پر موت کی سزا سنائی گئی۔ جیل میں مریم کو پتہ چلا کہ وہ حاملہ ہیں جس کی وجہ سے اُن کی پھانسی کو 2014ء میں اُن کی بیٹی کی پیدائش تک موخر کر دیا گیا۔ بین الاقوامی اپیلوں کی مدد سے ان کی رہائی بچی کی پیدائش کے بعد عمل میں آئی۔ آخرکار وہ اپنے گھر والوں کے ہمراہ امریکہ منتقل ہوئیں۔ اپنی رہائی کے بعد سے مریم اُن لوگوں کی حمایت میں کام کر رہی ہیں جنہیں اُن کے مذہب کی وجہ سے ظلم و زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Woman in crowd (© Joel Mason-Gaines/U.S. Holocaust Memorial Museum)
(© Joel Mason-Gaines/U.S. Holocaust Memorial Museum)

آئرین ویس خود تو ہولوکاسٹ سے بچ گئیں مگر انہوں نے اپنے خاندان کے بہت سے افراد نازیوں کے آشوٹز – برکاناؤ کے موت کے کیمپوں میں کھو دیئے۔ اِن کیمپوں میں اپنے تجربات کے بارے میں وہ اکثر مختلف گروپوں کے سامنے تقریر کرتی رہتی ہیں۔ گزشتہ سال کی دینی علما کی کانفرنس میں ویس نے کہا، "ہمیں ایسی حکومت بنانے کی ضرورت ہے جو سب لوگوں کی مذہبی آزادی کی حمایت کرے۔"

People walking behind man in wheelchair past house (© Edgar Su/Reuters)
(© Edgar Su/Reuters)

اس سال مارچ میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مسجد پر کیے جانے والے دہشت گردانہ  حملے میں ڈاکٹر فرید احمد محفوظ رہے۔ مگر اِن کی اہلیہ اس حملے میں ماری گئیں۔ اُنہیں اس وقت گولی ماری گئی جب وہ اپنے شوہر کی مد کو پلٹیں۔ چونکہ اُن کے شوہر وہیل چِیئر استعمال کرتے تھے اس لیے انہیں مسجد سے باہر نکلنے میں مدد کی ضرورت تھی۔ اس دن النور مسجد اور لن وڈ اسلامک سنٹر میں یکے بعد دیگرے کی جانے والی فائرنگ سے اکیاون افراد ہلاک ہوئے۔ 29 مارچ کی ایک دعائیہ تقریب میں ڈاکٹر فرید نے کہا کہ انہوں نے گولیاں مارنے والے شخص کو معاف کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "میں ایسا دل نہیں رکھنا چاہتا جو کسی آتش فشاں کی طرح ابلتا رہے۔ آتش فشاں میں ناراضگی، قہر، اور غصہ ہوتا ہے؛ اس میں امن نہیں ہوتا، اس میں نفرت ہوتی ہے۔ … یہ اپنی آگ میں خود جلتا ہے اور یہ ارد گرد کی چیزوں کو بھی جلا کر رکھ  دیتا ہے۔ میں ایسا دل نہیں رکھنا چاہتا اور مجھے یقین ہے کہ کسی کا دل ایسا نہیں ہے۔"