مذہبی ظلم و ستم ایک مستقل مسئلہ بنا ہوا ہے: سفیر براؤن بیک

دنیا میں بے شمار لوگ اپنے مذہبی اعتقادات کی وجہ سے زیادتیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ہٹ کر 25 ستمبر کے ایک علیحدہ اجلاس میں، ویغور امریکی زیبا مراد نے کہا کہ اُن کی والدہ کو دو برس قبل چین کے مغربی علاقے شنجیانگ کے ایک حراستی کیمپ لے جایا گیا۔

انہوں نے بتایا، "ہمارے مذاہب کی معمول کی تمام عبادات کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا ہے اور انہیں غیرقانونی مذہبی سرگرمیاں کہا جاتا ہے۔ بے گناہ لوگوں کو اغوا کیا جا رہا ہے۔”

اس اجلاس کا موضوع "مذہبی آزادی کے تحفظ کی پکار کا جواب:  گزرے ہوئے سال کا ایک جائزہ” تھا۔ اجلاس کے مقررین نے عالمی سطح پر مذہب یا عقیدے کی آزادی کو آگے بڑھانے کے لیے، امریکہ کی شراکت سے کیے جانے والے بین الاقوامی برادری کے کام پر روشنی ڈالی۔ اس کام میں کینیڈا، ایستونیا، پولینڈ اور ہالینڈ کے نمائندوں کی کوششیں بھی شامل رہیں۔

امریکہ کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے عمومی سفیر، سیم براؤن بیک نے اپنے آن لائن خطاب میں سامعین کو بتایا کہ مذہبی ظلم و ستم کے خلاف جنگ میں بعض حالیہ کامیابیوں کے باوجود، مراد جیسے واقعات بہت عام ہیں۔

عوامی جمہوریہ چین نے دس لاکھ سے زیادہ ویغوروں اور دیگر مذہبی اور نسلی اقلیتوں کو اِن حراستی کیمپوں میں ڈالا ہوا ہے جہاں انہیں اپنی مذہبی شناختیں ترک کرنے اور چینی کمیونسٹ پارٹی کی پاسداری کا حلف اٹھانے  پر مجبور کیا جاتا ہے۔

دوسرے ممالک میں بھی مذہبی ظلم و ستم جاری ہیں۔ ایک روہنگیا مسلمان پناہ گزین نے اس اجلاس کو بتایا کہ وہ 2017 میں برما سے اپنی جان بچانے کے لیے برما سے فرار ہونے والوں میں شامل تھا۔ برمی فوج اور نجی جتھوں نے اگست 2017 میں روہنگیا مسلمانوں پر گھناؤنے حملے کرنے شروع کر دیئے۔ یہ حملے نسلی صفائی کے مترادف تھے اور ان حملوں کے نتیجے میں  سات لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر چھوڑ کر ہمسایہ ملک بنگلہ دیش جانے پر مجبور ہوئے۔

برما میں 90 فیصد لوگ بدھ مذہب کے ماننے والے ہیں۔ زیادہ تر روہنگیا مسلمان ہیں اور برما انہیں ملک کی نسلی اقلیت کی حیثیت سے تسلیم  نہیں کرتا۔

امریکہ نے پوری دنیا میں مذہبی آزادی کے تحفظ کاعزم کر رکھا ہے۔ فروری کے بعد سے اب تک 31 ممالک بین الاقوامی مذہبی آزادی یا عقیدے کے اتحاد میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے یہ اتحاد تشکیل دیا اور اس میں مذہبی آزادی کی تمام زیادتیوں یا خلاف ورزیوں کی مخالفت کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

براؤن بیک نے مذہبی آزادی کے فروغ میں بعض حالیہ کامیابیوں کا ذکر بھی کیا۔ اِن میں سے ایک سوڈان کی اپنے ارتدادی قانون کی منسوخی بھی تھی جس کے تحت اسلام کو ترک کرنے کی سزا موت ہوا کرتی تھی۔

سال 2019 میں امریکی محکمہ خارجہ نے  سوڈان اور ازبکستان، دونوں کو خصوصی تشوییش کے حامل ممالک کی فہرست سے نکال کر کم تشویش والے ممالک میں شامل کیا۔ اِن دونوں ممالک کو خصوصی تشویش کی فہرست میں مذہبی آزادی کی شدید خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے یا برداشت کرنے کی بنا پر ڈالا گیا تھا۔

براؤن بیک نے کہا، "اب بھی دنیا بھر میں بہت ساری ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں جہاں مذہب یا عقیدے کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔”

انہوں نے اس بات کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہ مذہبی آزادی ہر ایک کے مفاد میں ہے، کہا کہ امریکہ اور اس کے شراکت دار دنیا بھر میں مذہبی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

براؤن بیک نے کہا، "جہاں مذہب کی آزادی کے حق کو فروغ دیا جاتا ہے، وہاں معاشی مواقع بڑھتے ہیں، سکیورٹی بہتر ہوتی ہے اور لوگ پھلتے پھولتے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے نزدیک "ہر جگہ ہر وقت ہر ایک کے اس حق کو فروغ دینا اور اس کو تحفظ فراہم کرنا، خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی ترجیحات” ہیں۔