تحتہ سفید کے سامنے کھڑا ایک آدمی۔ (© Dan Addison/University of Virginia)
کمپیوٹر سائنسدان، مادہاو مراٹھے ورجینیا یونیورسٹی کے حیاتیاتی پیچیدگی کی ٹیم کے سربراہ ہیں۔ (© Dan Addison/University of Virginia)

ورجینیا یونیورسٹی کے بائیو کمپلیکسٹی (حیاتیاتی پیچیدگی) کے انسٹی ٹیوٹ کے محققین امریکی حکومت کی نیشنل فاؤنڈیشن سے پانچ سال کے عرصے پر محیط ایک کروڑ ڈالر کی کمپیوٹنگ (حساب کتاب لگانے) کے لیے امداد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ امداد کورونا وائرس کے نئے مریضوں سے متعلقہ حالات کی نقشہ نویسی اور اس بات کا جائزہ لینے پر خرچ کی جائے گی کہ اس وائرس سے لوگوں پر مستقبل میں کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

اس انسٹی ٹیوٹ کے محققین صحت عامہ کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے سرکاری اہل کاروں کی مدد کرنے کے لیے نئی ٹکنالوجیاں دریافت کرتے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کے ایک ڈویژن کے ڈائریکٹر اور کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر، مدہاو مراٹھے اس پراجیکٹ کی سربراہی کر رہے ہیں۔

اس امداد کو استعمال کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ کے کمپیوٹر کے سائنسدان اور وبائی امراض کے ماہرین بہت سے دیگر اداروں کے ڈیٹا کے کمپیوٹنگ (حساب کتاب) کے بڑے بڑے آلات استعمال کرنے والے اداروں کی ٹیموں کی سربراہی کریں گے۔ اس قسم کے ڈیٹا سے ماہرین یہ دیکھ سکتے ہیں کہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو انسانوں کے کس قسم کے رویے متاثر کرتے ہیں۔

مستقبل کی ضروریات کی پیشگوئی کے لیے بناوٹی نمونوں کی تیاری

شہروں یا یہاں تک کہ ممالک کا مطالعہ کرنے کے لیے، ورجینیا یونیورسٹی کے محققین پہلے کسی جگہ کی ہوبہو ڈیجیٹل "نقل” اُسی طرح تیار کرتے ہیں جس طرح سے ویڈیو گیموں کے کھلاڑی مقبول عام ‘سِم سٹی’ نامی گیم استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کمپیوٹر سائنس دانوں کی نقلوں میں ہر علاقے کے مخصوص بنیادی ڈھانچوں، آبادیوں کی نوعیت، اور رہائشی، خریداری اور کام کے مراکز کی بھی بالکل درست نشاندہی کی جاتی ہے۔

دو آدمی ایک سکرین پر دکھائے گئے ڈیٹا کو دیکھ رہے ہیں۔ (© Dan Addison/University of Virginia)
حیاتیاتی پیچیدگی کے محققین کووڈ-19 کے پھیلنے کے علاقوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ (© Dan Addison/University of Virginia)

مراٹھے کے مطابق "چند ایک مریضوں کے … ” بناوٹی نمونوں کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ” … یہ بیماری کس طرح پھیل سکتی ہے” اور سماجی فاصلے جیسے مختلف (انسانی) رویوں کی بنیاد پر مختلف قسم کے نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔

کووڈ-19 کے خلاف جنگ

مراٹھے اور ان کے ساتھی پہلے ہی امریکہ کی ہر ایک کاؤنٹی میں کووڈ-19 کے مریضوں کی ممکنہ تعداد کی پیش گوئی کر چکے ہیں۔ وہ وینٹی لیٹروں اور انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں بستروں جیسے وسائل کی مستقبل کی ضروریات سے متعلق اپنی پیش گوئیوں میں تازہ ترین معلومات کا اضافہ کرتے رہیں گے۔

امریکہ کے وفاقی اداروں کی درخواست پر، کووڈ-19 کی حرکیات کو بہتر طور پر سمجھنے کی خاطر اُن کا انسٹی ٹیوٹ اٹلی، جرمنی، فرانس اور پولینڈ کے لیے بھی حساب کتاب لگا رہا ہے۔

اس امداد سے محققین، ووہان اور نیویارک کے تجربات سے سیکھے جانے والے اسباق کو سمجھنے کے لیے پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ یہ محققین میری لینڈ یونیورسٹی کے ساتھ بھی کام کر سکیں گے تاکہ اس بات پر تحقیق کی جا سکے کے وینٹی لیٹروں جیسے وسائل کا بہترین استعمال کس طرح عمل میں لایا جا سکتا ہے اور فیلڈ ہسپتالوں کو کہاں کہاں قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

کووڈ-19 کے مریضوں میں اضافے یا کمی کے ماڈل میں بہتری لانے کی خاطر محققین سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ساتھ مل کر ملکوں کے سماجی فاصلے کے اقدامات کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے ایک عوامی ایپ استعمال کریں گے۔

اس امداد سے یونیورسٹی آف ورجینیا کے محققین کو اُس وقت ایک اہم کردار حاصل ہوتا ہے جب وہ ذیل میں دیئے جانے والے اداروں میں اپنے ہم منصبوں سے تعاون کرتے ہیں: ایریزونا کی ریاستی یونیورسٹی کے بیماریوں کی حرکیات، معاشیات اور پالیسی کا مرکز، انڈیانا یونیورسٹی کی لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری، میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کی اوک رِج نیشنل لیبارٹری، پرنسٹن یونیورسٹی، سٹینفورڈ یونیورسٹی، البانی میں نیویارک کی ریاستی یونیورسٹی، میری لینڈ یونیورسٹی، ورجینیا ٹیک یونیورسٹی اور ییل یونیورسٹی۔