مصر میں عورتوں کو روزگار کی فراہمی میں مدد کرنے والی اے ڈبلیو ای کی ایک سابقہ طالبہ

لامیا صلاح کی عورت کی تصویر والے پوسٹر کے ساتھ تصویر (© Mahmoud Adly)
اکیڈمی فار ویمن انٹرپرینیورز کی سابق طالبہ لامیہ صلاح نے "تماکانی" نامی اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ یہ کمپنی مصر میں خواتین کو ملازمتیں تلاش کرنے میں مدد کرتی ہے۔

مصر کی لامیا صلاح اپنے والدین کے ساتھ مصر کے شہر اسیوط میں رہتی تھیں۔ جب صلاح نے اپنے والدین کو بتایا کہ اُنہوں نے قاہرہ میں تعلیم حاصل کرنے اور اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز کرنے کے لیے اسیوط چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے تو اُن کے والدین راضی نہ تھے۔

صلاح کا کہنا ہے کہ مصر کا قدامت پسند معاشرہ بعض اوقات ملازمتوں کی متلاشی خواتین کے لیے مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہو سکتا ہے کہ دیگر شہروں میں قاہرہ کے مقابلے میں خواتین کے لیے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع محدود ہوں۔

تاہم صلاح اپنے ارادے پر قائم رہیں اور انہوں نے اپنے والدین کو بھی اپنے ساتھ قاہرہ چلنے کی دعوت دے ڈالی۔ جب انہوں نے صلاح کے تعلیم حاصل کرنے کے جذبے کو دیکھا تو انہیں اپنی بیٹی کے ایک کامیاب کاروباری خاتون بننے کے  خواب پر یقین ہو گیا۔

کالج میں صلاح نے  پائیدار ترقی، بالخصوص عورتوں کے کردار میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔ جب صلاح نے دوسری عورتوں سے اُن کے حالات معلوم کیے تو انہوں نے بہت سی عورتوں کو ایسی ہی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے پایا جن کا سامنا وہ خود کر چکی تھیں۔ صلاح نے بتایا کہ “دیہی علاقوں کی نوجوان عورتوں میں تعلیم اور اپنی پیشہ وارانہ زندگیوں میں ترقی کی طلب پائی جاتی ہے مگر انہیں یہ معلوم نہیں کہ اس کا آغاز کیسے کرنا ہے۔”

 ایک عورت بڑی سکرینوں کے سامنے کمرے میں موجود عورتوں سے بات کر رہی ہے (© Mahmoud Adly)
صلاح کی کمپنی “تماکانی” مصری خواتین کو مصر میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے درکار مہارتوں کی تربیت دیتی ہے۔ (© Mahmoud Adly)

2021 میں صلاح نے تربیت کاری اور مینٹرشپ کا کاروبار شروع کرنے کے لیے “تماکانی” کے نام سے اپنی کمپنی کھولی۔ اُن کی کمپنی مصر کی لیبر مارکیٹ تک مساوی رسائی کو فروغ دیتی ہے۔ اس ضمن میں صلاح کی کمپنی عورتوں کو ملازمت کے لیے درکار مہارتوں اور مینٹرشپ کی تربیت فراہم کرتی ہے جس سے ان کے ملازمت حاصل کرنے کے امکانات  میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

عربی زبان میں تماکانی کا مطلب “بااختیار بنانا” ہوتا ہے۔ اس کمپنی کے اب 7,000 سے زائد شرکاء ہیں اور اس نے اب تک 150 خواتین کو ملازمتیں تلاش کرنے میں مدد کی ہے۔ اس کے کاروباری شراکت دارں کا تعلق مقامی تنظیموں سے ہے اور یہ نو مصری گورنریٹس [صوبوں]  میں پھیلے ہوئے ہیں۔

صلاح اپنی کمپنی تماکانی کے قیام میں مدد کرنے کا سہرا امریکی محکمہ خارجہ کے کاروباری خواتین کے “اکیڈمی فار ویمن انٹرپرینیورز (اے ڈبلیو ای) نامی پروگرام کے سر باندھتی ہیں۔ مصر میں اس پروگرام کا آغاز 2020 میں ہوا۔ صلاح کا شمار اے ڈبلیو ای کے 150 شرکاء میں ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں اے ڈبلیو ای 2019 سے لے کر اب تک 16,000 سے زیادہ خواتین کو علم حاصل کرنے، نیٹ ورکس بنانے اور رسائی فراہم کرنے میں مدد کر چکی ہے ۔ یاد رہے کہ  کسی کاروبار کی ترقی کے لیے مذکورہ سہولتوں کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔

صلاح نے کہا کہ “اس پروگرام میں برانڈ کا نام رکھنے سے لے کر املاکِ دانش سے متعلق قوانین تک  اُن تمام تفاصیل کا احاطہ کیا گیا ہے جن کا کسی نئے کاروبار کو شروع کرتے وقت ذہن میں رکھا جانا ضروری ہوتا ہے۔

 سروں پر سکارف باندھے اور لمبے کپڑے پہنے ہوئی عورتوں کا گروپ فوٹّ (© Mahmoud Adly)
اپنے کاروبار کے ذریعے اے ڈبلیو ای کی سابقہ طالبہ، صلاح 150 مصری خواتین کو ملازمتیں تلاش کرنے میں مدد کر چکی ہیں۔ (© Mahmoud Adly)

صلاح چاہتی ہیں کہ اُن کی کمپنی مزید مصری خواتین کو اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز کرنے کے لیے سیکھنے اور ترقی کے مواقع فراہم کریں۔ تماکانی میں 20 سے زائد پیشہ وارانہ مہارتوں کے تربیتی پروگرام پڑھائے جاتے ہیں۔ اِن میں مارکیٹنگ اور گرافک ڈیزائن کے ساتھ ساتھ  ملازمت کے لیے درخواست لکھنا اور انٹرویو کی تیاری کرنا بھی شامل ہیں۔ خواتین کے لیے موزوں کورسوں کا تعین کرنے کے لیے یہ کمپنی شرکاء کی تکنیکی مہارتوں، انگریزی زبان کی اہلیت اور سیکھنے کے انداز کا جائزہ لیتی ہے۔

کمپنی کے تربیت کار پورے پروگرام میں شرکاء کی ترقی کی کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور طالبات کا ملازمتوں، انٹرنشپ اور رضاکارانہ طور پر کام کرنے کی خاطر بھرتی کرنے کے لیے متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ رابطہ کراتے ہیں۔ تماکانی میں زیادہ تر تربیت کار خواتین ہیں۔

صلاح کا کہنا ہے کہ “ثقافتی اور روایتی ذہنیت کو تبدیل کرنا ایک اہم کام ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ بہت سی خواتین کو انہی  رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا سامنا میں کر چکی ہوں، میرا سب سے بڑا خواب مصر کی خواتین کی مدد کرنا اور انہیں بااختیار بنانا ہے۔”

یہ مضمون فری لانس مصنفہ، ایملی ژو نے لکھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا تعلیمی اور ثقافتی امور کا بیورو یہ مضمون ایک مختلف شکل میں ایک بار پہلے  شائع کر چکا ہے۔