3 دسمبر کو معذوریوں کے حامل افراد کا عالمی دن مناتے ہوئے، صدر ٹرمپ نے معذوریوں کے حامل امریکیوں کے لیے وسیع مواقع پیدا کرنے کے ساتھ اپنی انتظامیہ کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ” جون میں معذوریوں کے حامل افراد سمیت مزید لوگوں  کے لیے تربیتی پروگراموں کو وسعت دینے کی خاطر، میں نے ایک انتظامی حکمنامے پر دستخط کیے تھے تاکہ ان سب کو متعلقہ مہارتوں تک رسائی حاصل ہوسکے اور اچھی ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے وسائل میسر آ سکیں۔”

امریکی کاروباری اداروں میں معذوریوں کے حامل افراد کی خدمات سے کم استفادہ کیے جانے کے احساس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ کثیر الملکی کمپنیوں کے ساتھ معذور لوگوں کی شمولیت کے لیے کام کرنے والے یو ایس بزنس لیڈرشپ نیٹ ورک گروپ کی صدر، جِل ہفٹن کہتی ہیں، “معذوریوں کے حامل افراد کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہے۔ جدت طرازی کے لیے معذور افراد کی ذہانت کو شامل کرنا انتہائی اہم ہے۔”

یو ایس بزنس لیڈرشپ نیٹ ورک معذوری کی مساوات کے اشاریے کا شریک بانی ہے۔ اس اشاریے کے تحت کسی کمپنی میں معذور لوگوں کی شمولیت کے نمبروں کو صفر سے لے کر 100 کے پیمانے پر جانچا جاتا ہے۔ ہفٹن نے بتایا، “ہم نے یہ [اشاریہ] اس لیے تیار کیا کیونکہ کمپنیاں ہم سے مطالبہ کر رہی تھیں کہ معذوریوں کے حامل افراد کی شمولیت کے سلسلے میں کام کرنے میں مدد کے لیے کوئی ذریعہ مہیا کیا جائے۔”

یہ اشاریہ کمپنیوں کی چار زمروں میں درجہ بندی کرتا ہے جن میں ثقافت اور قیادت، پوری کمپنی تک رسائی، ملازمت دینے کے طریقے، اور کمیونٹی کی شمولیت اور مدد کرنے کی خدمات شامل ہیں۔ اس سال ایک پانچواں زمرہ، یعنی سپلائر کا تنوع بھی متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت کسی کمپنی کے رسد کے سلسلے میں معذوریوں کے حامل افراد کے ملکیتی کاروباروں کی شمولیت کی تعداد کو شمار کیا جا سکے گا۔

جن کمپنیوں نے معذوری کی مساوات کے اشاریے پر 100 نمبر حاصل کیے ہیں اُن میں ویلز فارگو اینڈ کمپنی شامل ہے۔

کیتھی مارٹینیز [ویلز فارگو بنک] کی معذوریوں کے حامل افراد کی شمولیت کی ٹیم کی سربراہ ہیں۔ مارٹینیز پیدائشی طور پر نابینا ہیں اور انہیں اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر اُن خصوصیات کا علم ہے جو معذوریوں کے حامل افراد، افرادی قوت میں لے کر آتے ہیں۔ مارٹینیز نے بتایا، “چیزوں کو مختلف طریقے سے کرنے کی جدوجہد بالآخر کسی ایسے شخص پر منتج ہوتی ہے جو اچھا منصوبہ ساز ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہمیں انتہائی جدت طراز بننے کا موقع میسر آتا ہے۔ چونکہ ہم چیزوں کو مسلسل ایک ہی طریقے سے نہیں کر سکتے لہذا ہم دوسرے قسم کے طریقے تلاش کر لیتے ہیں۔”

ہفٹن اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں، “کیتھی مارٹینیز نابینا ہیں، ٹھیک؟ وہ دنیا کو ایک مختلف انداز سے دیکھتی ہیں اور وہ ایک ایسا کلیدی ترکیبی جز ہیں جسے کاروباری امریکہ نظرانداز نہیں کر سکتا۔ وہ ایک مسابقاتی فائدے کا اضافہ کر رہی ہیں۔”

اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے یہ پیشن گوئی کی کہ “ٹکنالوجی میں ترقی، کام کی تربیت اور تعلیمی مواقعوں، اور کاروباری اور کمیونٹی لیڈروں کی بڑھتی ہوئی شمولیت سے معذوریوں کے حامل افراد نئے اور اختراعی طریقوں سے ہمارے ملک اور ہماری دنیا کو مالامال کرنا جاری رکھیں گے۔”

ہفٹن اس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔

اُن کا کہنا ہے، “تمام کمپنیاں اپنے کم از کم معیاروں میں اختراعات لا رہی ہیں اور انہیں بہتر بنا رہی ہیں۔ اور اگر وہ معذوریوں کے حامل افراد کی ذہانتوں کو شامل نہیں کر  رہیں تو وہ قطعی طور پر ایک موقع ضائع کر رہی ہیں۔”