ملالہ یوسف زئی: اقوامِ متحدہ کی امن کی سب سے کم عمر پیغامبر

نوعمر  ملالہ یوسف زئی کو — جنہیں لڑکیوں کے حقوق کو فروغ  دینے کے اعتراف میں امن کا نوبیل انعام مل چکا ہے — اب اقوامِ متحدہ کے سربراہ کی طرف سے ایک عالمی شہری کو دیا جانے والا اعلیٰ ترین اعزاز ملا ہے۔

"یہ بات اہم ہے کہ لڑکیاں اِس چیز کو سمجھیں کہ وہ جو کچھ کرتی ہیں اور جس چیز کے لیے آواز بلند کرتی ہیں، وہ اہم ہے اور اس کی فوری ضرورت ہے۔” یہ وہ الفاظ تھے جو اس 19 سالہ لڑکی نے 10 اپریل کی اُس تقریب کے بعد کہے جس میں انہیں باقاعدہ طور پر اقوامِ متحدہ کی امن کی پیغامبر نامزد کیا گیا۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والی وہ سب سے کم عمر شخصیت ہیں۔

ان کے لیے یہ اعزاز کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 2014ء میں ملالہ یوسف زئی دنیا میں نوبیل انعام پانے والی اُس وقت سب سے کم عمر شخصیت بن گئیں جب سب بچوں کے تعلیم کے حق کے لیے اُن کی پُرزور وکالت کا اعتراف کیا گیا۔ اس سے قبل، لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ان کی بے باکی کی پاداش میں طالبان کے ایک رکن نے ان پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ شمال مغربی پاکستان میں ان کے گھر کے نزدیک کیے جانے والے اس قاتلانہ حملے میں وہ شدید زخمی ہوئیں۔ وہ اپنے علاج کے لیے برطانیہ گئیں اور اب وہیں سکول میں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔

ملالہ یوسف زئی نے جو اس سال موسمِ خزاں میں فلسفے، سیاست اور معاشیات کی تعلیم کے لیے یونیورسٹی میں داخلہ لیں گی، کہا، "یہ میرے لیے نئی زندگی ہے، دوسری زندگی ہے، اور یہ تعلیم کے لیے وقف ہے۔”

سیکرٹری جنرل انٹونیو گٹیرز نے لڑکیوں اور تمام انسانوں کے حقوق کے بارے میں ملالہ یوسف زئی کے عزم و حوصلے کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا، "لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں ان کی جرائتمندانہ سرگرمیوں سے پہلے ہی دنیا بھر میں بہت سے لوگوں میں توانائی کی لہر دوڑ گئی ہے۔”

امن کے دیگر پیغامبروں میں اداکار مائیکل ڈگلس اور لیونارڈو ڈی کیپریو، موسیقار ڈینیئل بارِنبوئم اور یویوما، اور بندروں کی نسل کے جانوروں کی ماہر، جین گُڈآل شامل ہیں۔