ملکِ دانش: تصورات کا تحفظ کاروبار کے لیے اچھا ہوتا ہے

Bar graph showing number of patent applications filed by non-residents in different offices around the world (World Intellectual Property Indicators, 2017)

ملکِ دانش کا شمار جدید کاروبارکے بنیادی عناصر میں ہوتا ہے۔

ملکِ دانش کے عالمی فورم نے اس کی تعریف کچھ یوں کی ہے کہ ” ایجادات، ادبی و فنی کام، ڈیزائن، اور تجارت میں استعمال کیے جانے والی علامات، نام اور  تصاویر جیسی ذہنی اختراعات”  ملکِ دانش میں شمار ہوتی ہیں۔

ملکِ دانش کو عمومی طور پر تین زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں پیٹنٹ یعنی حق ایجاد کی سند، ادبی و فنی کاموں کے مالکانہ حقوق نیز “لوگو” یعنی نشان اور برانڈ نام کی اشیا کے ٹریڈ مارک شامل ہوتے ہیں۔

بنیادی طور پر  ملکِ دانش کا مطلب یہ ہے کہ موجدین، تخلیق کار اور کاروباری لوگ اپنے تصورات کی ملکیت کے اہل ہوں اور انہیں  اپنی کڑی محنت سے دولت  کمانے کی خاطر ان تصورات کو استعمال کرنے کا بلا شرکتِ غیرے حق  حاصل ہو۔

ملکِ دانش کا موثر تحفظ کیے  بغیر برے کرداروں کو ڈیزائنوں، ایجادات، سافٹ ویئر یا تجارتی راز چرانے سے نہیں روکا جا سکتا۔

دنیا کے ممالک جس انداز سے ملکِ دانش کا تحفظ کرتے ہیں اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کمپنیاں کیسے کاروبار کرتی ہیں اور کیا غیرملکی سرمایہ کار اپنے کاروباری تصورات کے حوالے سے مقامی اداروں پر اعتماد کریں یا نہ کریں۔ بہرحال اگر کاروبار کرنے والوں کو یہ یقین نہ ہو کہ ان کی ٹیکنالوجی یا بنائی ہوئی اشیا محفوظ نہیں ہیں تو پھر وہ وہاں کام کیوں کریں گے؟

چین اور امریکہ میں  ملکِ دانش کے حقوق

Line graph showing sources of fake goods seized in U.S. (Sources: 2017 IP Commission Report, National Bureau of Asian Research; Dept. of Homeland Security)

نقلی اشیا کی تیاری کے لیے دوسرے لوگوں کے تصورات کی چوری عالمی منڈی میں سب سے زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ ہوم لینڈ سکیورٹی [داخلی سلامتی] کے امریکی محکمے کے مطابق 2017 میں امریکہ آنے والی جعلی اشیاد کی مجموعی تعداد کے 78 فیصد کا تعلق چین اور ہانگ کانگ سے تھا۔

چین کی جانب سے  ملکِ دانش کے حقوق پر عملدرآمد میں کمزوری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں  ملکِ دانش سے متعلق عدالتوں کا قیام 2014 میں عمل میں آیا اور اس حوالے سے ابھی تک قوانین اور ضوابط کی تیاری پر کام ہو رہا ہے۔ تاہم ٹیکنالوجی کے حصول سے متعلق چین کی صنعتی پالیسیوں کا بھی اس ضمن میں ایک اہم کردار ہے۔ نیشنل بیورو آف ایشین ریسرچ کی تیار کردہ 2017 کی ‘آئی پی کمیشن رپورٹ’   (پی ڈی ایف، 351 کے بی) سے یہ بات سامنے آئی کہ چین آئی پی کی خلاف ورزی کے حوالے سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے اور غیرملکی ٹیکنالوجی اور معلومات کے زیادہ سے زیادہ حصول پر مبنی صنعتی پالیسیوں پر بھرپور طور سے کاربند ہے۔

اس کے برعکس امریکہ میں  ملکِ دانش کے تحفظ سے متعلق انتہائی مضبوط نظام موجود ہیں۔ ”مصنفین اور موجدین کو ان کی تحریروں اور ایجادات کے بلا شرکت غیرے حقوق دے کر ”سائنس اور مفید فنون کی ترقی” کا فروغ امریکہ کے آئین میں درج ہے۔

اس کا اثر اس حقیقت میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر کے بہت سے اختراع پسند اپنے تصورات امریکہ لے کر آتے ہیں۔ جیسا کہ 2017  کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے دنیا میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں غیرملکیوں کی جانب سے پیٹنٹ کے حصول کی سب سے زیادہ درخواستیں امریکہ میں دی گئیں تھیں۔

چین کو اپنے ہاں ملکِ دانش کا تحفظ مضبوط بنانا چاہیے اور اسے  غیرمنصفانہ صنعتی پالیسیاں ختم کرنی چاہئیں۔ نئے تصورات کے ظہور اور انہیں نقالوں اور چوروں سے محفوظ رکھنے کے لیے امریکہ کو ترجیحی ملک کی حیثیت حاصل ہے۔