آب و ہوا کے لیے خصوصی صدارتی ایلچی، جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ آب و ہوا کے بحران کو حل کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ شراکت داری کرے گا۔

جس دن یعنی 19 فروری کو امریکہ باضابطہ طور پر دوبارہ پیرس معاہدے میں شامل ہوا اس دن انہوں نے میونخ سکیورٹی کانفرنس (ایم ایس سی) کے خصوصی اجلاس میں کہا، “اگر ہم آنے والی نسلوں کو کرہ ارض کو ایک ایسی شکل میں منتقل کرنے کی توقع رکھتے ہیں جیسے کہ اسے ہونا چاہیے تو پھر حقیقی معنوں میں ناکامی ہرگز ایک متبادل نہیں ہے۔ لہذا ہم سب کو یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ کامیابی کی شکل کیا ہوگی، اسے کیسے حاصل کرنا ہے،  اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کام کو کرنے کے لیے ہم اپنے آپ کو وقف کر دیں۔”

ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنا بائیڈن انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ کیری نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ اور دنیا کے ممالک کو مل کر کرہ ارض پر عالمی درجہ حرارت کو 1.5 درجہ سینٹی گریڈ سے زیادہ گرم نہ ہونے دینے تک محدود رکھنے کے امکان کو برقرار رکھنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے اسی دن “یو این اے – یو ایس اے گلوبل انگیجمنٹ سمٹ” میں کہا، “درست راہ پر چلنا، حتی کہ عالمی درجہ حرارتوں کو 1.5 درجے سے زیادہ نہ بڑھنے دینے کے 66 فیصد امکان کو برقرار رکھنا، یہ کام کرنے کے لیے بھی ہمیں 2030ء تک عالمی اخراجوں میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔”

ٹویٹ: خصوصی صدارتی ایلچی، جان کیری

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتیرس کی شکل میں اتنا زیادہ مضبوط شراکت دار ہونے پر انتہائی مشکور ہوں۔ پیرس معاہدے میں امریکہ کی واپسی کا خیرمقدم کرنے اور 2050ء تک مجموعی اخراجوں کو کلی طور پر صفر پر لانے کے لیے کام کرنے پر آپ کا شکریہ۔

اس مقصد کے حصول کے لیے کیری نے جن اقدامات کا خاکہ پیش کیا اُن میں ذیل کے اقدامات شامل ہیں:-

    • پانچ گنا تیز رفتاری سے کوئلے کے استعمال کا مرحلہ وار خاتمہ۔
    • پانچ گنا تیز رفتاری سے درختوں کے رقبے میں اضافہ۔
    • چھ گنا تیز رفتاری سے قابل تجدید توانائی میں اضافہ۔
    • 22 گنا تیزرفتاری سے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی طرف منتقلی۔

کیری نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ کمزور ممالک کی مدد کرنے کی خاطر سرکاری اور نجی شعبوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ اِن مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کھربوں ڈالر کی فنڈنگ کا بندوبست کیا جا سکے۔

انہوں نے ایم ایس سی میں کہا، “ہمیں ایمانداری سے کام لینا ہونا گا کہ عالمی برادری کی حیثیت سے، ہمیں جہاں ہونے کی ضرورت ہے، ہم اس کے  کہیں قریب بھی نہیں ہیں۔ ہمیں انکساری سے کام لینا پڑے گا کیوںکہ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ ناقابل معافی طور پر چار سال غیر حاضر رہا۔ اور سب سے بڑھکر، ہمیں پرجوش ہونا پڑے گا — ہم سب — کیونکہ ہمیں یہ کام کرنا ہوگا۔”