حالیہ برسوں میں زبانوں کی تعلیم سے متعلق خدمات تیزی سے بڑھی ہیں۔ اب امریکہ میں نتکلم (“ہم” عربی “بولتے ہیں) کے نام سے ایک پلیٹ فارم نے ایک قیمتی ذریعے کو استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ یہ ذریعہ مہاجرین ہیں جن میں سے بہت سے اعلٰی تعلیم یافتہ ہیں اور اپنی مادری زبانیں سکھانے کے خواہاں ہیں۔

 مائکروفون کے ذریعے بات کرتے ہوئے الین سارہ (Courtesy of Aline Sara)
الین سارہ (Courtesy of Aline Sara)

نتکلم کی شریک بانی اسے ایک ایسے سماجی کاروبار کے طور پر بیان کرتی ہیں جو مہاجرین اور اُن کی میزبان بستیوں کو آمدنی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اُن  ضرورت مند گاہکوں کی بھی میں مدد کرتا ہے جو اِن خدمات کی اجرت ادا کرتے ہیں۔ اِن خدمات کا تعلق ٹیوشن پڑہانے، تعلیم دینے اور ثقافتی تبادلے کے مواقع فراہم کرنے سے ہے۔

نتکلم کی بنیاد نیویارک میں رہنے والی لبنانی نژاد الین سارہ اور ان کے ایرانی نژاد والدین کے ہاں پیدا ہونے والے ایک سابقہ فرانسیسی  ہم جماعت، رضا رہنما نے 2015ء میں مل کر رکھی۔ سارہ کو اپنی عام بول چال کی عربی میں مدد کے لیے کسی استاد کی تلاش تھی۔ اسی اثنا میں انہیں پتہ چلا کہ شام میں خانہ جنگی سے بھاگ کر ہمسایہ ملک لبنان میں آنے والے شامیوں کو لبنان میں کام کرنے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔

باہمی طور پر ضروریات پوری کرنے کو ذہن میں رکھتے ہوئے سارہ اور رہنما نے دنیا بھر میں آن لائن زبان کی خدمات فراہم کرنے کے لیے انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھایا۔ امریکہ کے 200 پرائمری اور ثانوی سکولوں کے بچوں سمیت انفرادی طور پر زبانیں سیکھنے والے افراد اور تنظیمیں اس سہولت کو استعمال کر رہی ہیں۔ سارہ نے کہا کہ سکولوں کے 5 برس کی عمر کے چھوٹے بچے بھی مہاجرین کی کہانیاں سن سکتے ہیں۔

سارہ نے کہا، “ہمارے زیادہ تر پناہ گزین اور میزبان بستیوں میں رہنے والے اساتذہ اور مترجم مشرق وسطی، یورپ، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں رہتے ہیں۔ نتکلم عربی زبان کے کئی ایک مختلف لہجوں کے علاوہ، آرمینیائی، کرد، فارسی، ہسپانوی، فرانسیسی اور انگریزی زبان کی خدمات مہیا کرتی ہے۔

البتہ نتکلم مہاجرین کی پیسے کمانے میں مدد کرنے والی اکیلی کمپنی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، کافی ریستورانوں کے سلسلے کی سی ایتل میں قائم کمپنی، سٹار بکس نے 2022ء تک 10,000 مہاجرین کو ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا ہے۔ (حال ہی میں برطانیہ میں قائم کی جانے والی نئی کمپنی “چیٹر باکس” بھی زبان کی خدمات فراہم کرنے کے لیے مہاجرین کو ملازم رکھ رہی ہے۔)

ساڑھے پانچ سال پہلے قائم ہونے والی کمپنی، نتکلم دنیا بھر میں 200 افراد کو اجرت کے طور پر دس لاکھ  ڈالر ادا کر چکی ہے۔ سارہ نے کہا کہ بہت ساری تنظیمیں مہاجرین کو امداد محض امداد وصول کرنے والا سمجھتی ہیں مگر اُن کی کمپنی انہیں “معاشرے اور معیشت کے فعال اراکین کے طور پر دیکھتی ہے۔”

تعلقات پیدا کرنے

 غیث الحلق (Courtesy of Ghaith Alhallak)
غیث الحلق (Courtesy of Ghaith Alhallak)

نتکلم کے اساتذہ میں سے ایک، غیث الحلق کا آبائی ملک شام  ہے اور وہ سابقہ صحافی ہیں۔ آج کل وہ اٹلی کی پیدووہ یونیورسٹی میں پولٹیکل سائنس کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جب وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں سے فارغ ہوتے ہیں تو وہ عربی پڑہاتے ہیں۔

الحلق نے بتایا کہ انہوں نے عربی کے اپنے علم کو عربی کے ان مختلف لہجوں کے ساتھ ملایا جو انہوں نے ایک صحافی کی حیثیت سے سیکھے۔ نتکلم میں شمولیت کے بعد سے وہ 18 سے زائد ممالک کے طلبا کو پڑھا چکے ہیں۔ عربی کی مہارت حاصل کرتے ہوئے بہت سوں نے اُن کی ثقافت کے بارے میں جاننے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔ وہ اُن کی مدد نہ صرف مہاجر زندگی کو سمجھنے میں کرتے ہیں بلکہ وہ یہ سمجھنے میں بھی مدد کرتے ہیں کہ خانہ جنگی سے بے گھر ہونے سے پہلے شامی کیسے رہا کرتے تھے۔

الحلق نے کہا کہ اُن کے کام کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کی زندگیوں سے سیکھتے ہیں۔