میلانیا ٹرمپ انسانی بہتری کے لیے کام کرنے والی خواتین اول کی صف میں شامل

خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے اس ہفتے جب 'بی بیسٹ' [بہترین بنیں] نامی پروگرام کا اعلان کیا تو اُن کا نام بھی اپنے  پسندیدہ نصب العین کے لیے اپنی طاقتور آواز اٹھانے والی صدور کی اہلیاؤں کی طویل فہرست میں ایک تازہ ترین اضافے کے طور پر شامل ہوگیا۔

خاتون اول نے 'بہترین بنیں' کو ان پروگراموں کے لیے آگاہی کی ایک ایسی مہم قرار دیا جن سے بچوں کی جذباتی، سماجی و جسمانی صحت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مہم میں تین بنیادی چیزوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی جن میں مجموعی بہتری، سوشل میڈیا اور افیون اور اس سے متعلقہ منشیات کا غلط استعمال شامل ہیں۔

ان کے منصوبے کے بنیادی مقاصد میں ذمہ دارانہ آن لائن طرز عمل کی حوصلہ افزائی اور فیصلہ سازی نیز افیون کے استعمال سے متاثرہ بچوں اور خاندانوں کی معاونت کرنا شامل ہیں۔

میلانیا ٹرمپ نے کہا، "ذمہ داری قبول کرنے اور اپنے بچوں کو درپیش بہت سے مسائل سے نبردآزما ہونے میں مدد دینا ہماری نسل کے لیے اخلاقی لحاظ سے لازمی ہے۔ میں شدت سے یہ محسوس کرتی ہوں کہ بڑوں کی حیثیت سے ہم اپنے بچوں کو صحت مند اور متوازن زندگی سے متعلق …  تعلیم دے سکتے ہیں اور تعلیم  دینی چاہیے۔"

ایک پرانی روایت کی پیروی

2005 سے 2009 تک امریکی ریڈ کراس کی خیرسگالی سفیر رہنے والی میلانیا ٹرمپ کے بارے میں امکان ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس میں اپنا ایجنڈا طے کرتے ہوئے انسانی بنیادوں پر کیے گئے اپنے رضاکارانہ کام کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں گی۔ ان کے اس اقدام نے انہیں عوامی جذبے سے سرشار ایسی خواتین اول کی صف میں لاکھڑا کیا ہے جنہوں نے اپنی پوزیشن کو استعمال کرتے ہوئے اُن امور کو فروغ دیا جن کے بارے میں وہ ہمدردی کے پرجوش جذبات رکھتی تھیں۔

1930 اور 1940 کی دہائیوں میں خاتون اول ایلینار روزویلٹ نے تاریخی معاشی بحران سے متاثرہ امریکیوں کی معاشی حالت کی جانب توجہ مبذول کرائی۔

1961 سے 1963 تک خاتون اول رہنے والی جیکولین کینیڈی نے وائٹ ہاؤس کی تاریخی اہمیت کی حامل آرائشی اشیاء کو محفوظ رکھنے کے لیے فنڈ جمع کیے۔ انہوں نے امریکی شعرا، لکھاریوں اور کلاسیکی موسیقاروں کے اعزاز میں ثقافتی تقریبات کا بھی اہتمام کیا۔

Jacqueline Kennedy standing next to a dining table in the White House (© CBS Photo Archive/Getty Images)
ٹیلی وژن پر جیکولین کینیڈی وائٹ ہاؤس اور اس میں موجود آرائشی سامان دکھا رہی ہیں۔ (© CBS Photo Archive/Getty Images)

1963 سے 1969 تک وائٹ ہاؤس میں رہنے والی لیڈی برڈ جانسن نے جنگلات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ  شاہراؤں اور شہروں کو خوبصورت بنانے جیسے ماحولیاتی مقاصد کے لیے کام کیا۔ 1970 کی دہائی میں خاتون اول بیٹی فورڈ نے چھاتی کے سرطان کے موضوع پر بات کی جس کے بارے میں بولنے کو اس وقت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنی چھاتی کی جراحی کے بارے میں کھل کر بات کی اور اس بیماری کے حوالے سے توہمات دور کرنے اور اس سے وابستہ بدنامی ختم کرنے  کی کوششیں کیں۔

1977 سے 1981 تک خاتون اول رہنے والی روزالین کارٹر نے ذہنی صحت پر کام کیا جبکہ نینسی ریگن (1981 تا 1989) نے غیرقانونی منشیات کے استعمال کے خلاف 'انکار کریں' نامی مہم  متعارف کرائی۔

خاتون اول باربرا بش (1989 تا 1993) نے ادب اور رضاکارانہ خدمت کو فروغ دیا جبکہ سابقہ لائبریرین اور 2001 سے 2009 تک خاتون اول رہنے والی ان کی بہو، لارا بش نے اپنے عالمگیر خواندگی  کے پروگرام کے ذریعے مطالعے کے فوائد کے بارے میں آگاہی پیدا کی۔

Barbara Bush sitting in a chair reading to children (© Charles Tasnadi/AP Images)
1989 میں باربرا بش بچوں کے ایک گروپ کو کتاب پڑھ کر سنا رہی ہیں۔ خاتون اول کی حیثیت سے باربرا بش نے 'گھریلو خواندگی کی فاؤنڈیشن' نامی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ (© Charles Tasnadi/AP Images)

حالیہ عرصے میں جسمانی مضبوطی اور صحت مند غذا کے حوالے سے کام کرنے والی خاتون اول، مشیل اوباما (2009 تا 2017) نے بچپن میں موٹاپے کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے 'آئیے چلیں' نامی مہم کا آغاز کیا۔

میلانیا ٹرمپ نے خاتون اول بننے کے بعد امریکہ کے طول و عرض کے دورے کیے اورسکولوں اور ہسپتالوں میں بچوں سے ملاقاتیں کیں۔ اس دوران انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے مل کر، ڈاکٹروں سے تبادلہ خیال کرکے اور بحالی کے مراکز کے دورے کرکے افیون سے متعلق بحران سے متعلق آگاہی حاصل کی۔

میلانیا ٹرمپ افیون استعمال کرنے والے والدین کے نومولود اور چھوٹے بچوں کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق اپنی واضح تشویش کے علاوہ ہر بچے کی صحت مندانہ نمو کی بھی حامی ہیں۔ انہوں نے کہا، "اگر ہم واقعتاً ان باتوں پر توجہ دیں جو ہمارے بچے کہنا چاہتے ہیں، خواہ یہ ان کے خدشات ہوں یا خیالات،  تو اس طرح بڑے انہیں مدد اور وسائل فراہم کر سکتے  ہیں۔ اس کے نتیجے میں انہیں ایسے خوش باش اور مفید انسان بننے میں مدد ملے گی جو معاشرے اور دنیا میں مثبت کردار ادا کر سکیں گے۔"