میٹروپولیٹن میوزیم نے اپنے آرٹ کے دروازے سب کے لیے کھول دیے

حال ہی میں نیویارک کے میٹروپولیٹن میوزیم  آف آرٹ کی طرف سے اپنے فن پاروں کی کھلی رسائی کی پالیسی کو اپنانے پر آرٹ کے شیدائیوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے، جس میں ہر ایک کو پبلک ڈومین کے تقریباً 375,000 فن پاروں کے مجموعے کی مفت، ہائی ریزولیوشن تصاویر ڈاؤن لوڈ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

Painting of man and woman in boat (Metropolitan Museum of Art)
ایڈورڈ مینیٹ کی “بوٹنگ” نامی تصویر، 1874ء میں کینوس پر بنائی گئی۔ (Metropolitan Museum of Art)

اپنی تصاویر تک غیر محدود رسائی فراہم کر کے، میٹروپولیٹن میوزیم  دنیا بھر کے عجائب گھروں میں فروغ پانے والی کھلے مواد کی تحریک میں شامل ہو گیا ہے۔ عجائب گھروں کے منتظمین محض ناظرین کی وسیع تعداد تک رسائی کی قدر و قیمت کو ہی تسلیم نہیں کر رہے—  بلکہ وہ کھلی رسائی کو میوزیم کے مشن کے ایک لازمی جز کے طور پر بھی اپنا رہے ہیں۔

2013 میں، سمتھسونین انسٹی ٹیوٹ کے اُس وقت کے سیکرٹری، وین کلوہ  نے پیش گوئی کی تھی کہ ڈیجیٹل انقلاب سے ممکن ہے ایک دن عوام کو سمتھسونین کی باہمی متعامل نمائشوں کو ڈیزائن کرنے میں مدد دینے کا موقع  مل جائے۔

انہوں نے اِس کی مثال دیتے ہوئے کہا، “ہمارے پاس امریکہ کے مقامی قبائل کے قدیم دور کے بہت سے اوزار ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ [عوام] ہمارے مقابلے میں ان کے بارے میں زیادہ جانتے ہوں. … ہم چاہیں گے کہ وہ ہمیں ان چیزوں کے بارے میں بتائیں۔”

Woven collar (Metropolitan Museum of Art)
طوطنخ آمن کی حنوط شدہ دفینے کا پھولدار گلوبند۔ (Metropolitan Museum of Art)

ایمسٹرڈیم کے رِکس میوزیم نے 2011ء میں کھلے مواد کی پالیسی اُس وقت متعارف کرائی، جب اس کے ناظمین کو میوزیم کی ورمیر پینٹنگز میں سے ایک کی آن لائن 10,000  سے زائد، کم معیار والی کاپیوں کے سکین کیے جانے کا علم ہوا۔ اس کے ردعمل میں، رِکس میوزیم نے اپنی 300,000 ہائی ریزولیوشن تصاویر  بلا قیمت ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے پیشکش کی۔

متعدد امریکی عجائب گھروں نے ہالینڈ کی مثال کی تقلید کی جیسے::

آئیووا یونیورسٹی میں قدیم تمدن کی پروفیسر سارہ بونڈ  نے فوربس میگزین میں لکھا، “ایک  ایسی خاتون استاد کے طور پر جو قرون وسطیٰ کی لاطینی زبان پڑہاتی ہے، میں نے [والٹر کے] آن لائن قلمی نسخوں کے مجموعے کو طالب علموں کو قرون وسطیٰ کی تحریر اور طرزِ فکر کے بارے میں تعلیم دینے کے لیے ایک قابل قدر ذریعہ پایا ہے۔”

Box decorated with lotus scrolls (Metropolitan Museum of Art)
کوریا میں اٹھارویں صدی کا کنول کے نقش و نگار سے سجایا گیا ایک صندوق۔ (Metropolitan Museum of Art)

میٹروپولیٹن میوزیم اپنے فن پاروں کی تصاویر کی پبلک ڈومین میں، کریئٹو کامنز زیرو (Creative Commons Zero) یا سی سی0 کے طریقہِ کار کے مطابق شامل کرتا ہے۔ (سی سی 0 کے مطابق، کوئی ادارہ کسی زیرِ استعمال مواد پر کاپی رائٹ کا دعوٰی نہیں کرتا۔) وِکی میڈیا اور پِنٹرسٹ ڈیجیٹل رسائی کو بڑھانے کے لئے میٹروپولیٹن میوزیم کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔

اس کے تعلیمی فوائد واضح ہیں. اگر آپ اپنی ٹی شرٹ پر اپنے پسندیدہ قدیم فنکار کی پینٹنگ کی تصویر بنانا چاہتے ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ میٹروپولیٹن میوزیم اور دیگر بہت سے عجائب گھر ایسا کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔