اپنے الوداعی خطاب میں صدر اوباما نے امریکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ متحد رہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ پرامن انتقال اقتدار کی خاطر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

جارج واشنگٹن نے 1796ء میں صدور کے الوداعی خطاب کی روایت ڈالی تھی۔

10 جنوری کو ایک آزادانہ طور پر منتخب صدر سے دوسرے  آزادانہ طور پر منتخب صدر کو پرامن انتقال اقتدار کا حوالہ دیتے ہوئے صدر نے کہا، ” 10 دنوں میں دنیا ہماری جمہوریت کی ایک عظیم نشانی کا مشاہدہ کرے گی۔ میں نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ میری انتظامیہ اسی طرح ہر ممکن حد تک بہترین طریقے سے اقتدار منتقل کرے گی جس طرح صدر بش نے میرے لیے کیا تھا۔”

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو نظریے کی یکسانیت کی ضرورت نہیں ہوتی مگر اس کو “یکجہتی کے ایک بنیادی احساس کی ضرورت ہوتی ہے — ایک ایسا نظریہ کہ اپنے تمام ظاہری اختلافات کے باوجود ہم سب اس پر متفق ہیں کہ ہمارا عروج و زوال ایک اکائی کی صورت میں ہوتا ہے۔”

اوباما نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں اُن کا امریکہ پر ایمان مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے کہا کہ وہ “اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہماری حکومت اُن بہت سی مشکلات سے نمٹنے میں ہماری مدد کرنے کی اہل ہو جن کا ہمیں سامنا ہے۔ … ہمارے پاس ہر وہ چیز موجود ہے جس کی ان مشکلات سے نمٹنے کی ہمیں ضرورت ہے۔” انہوں نے یہ بات اپنے آبائی شہر شکاگو میں 18,000  لوگوں کے ایک مجمعے کے سامنے کہی۔

اوباما نے اپنی اہلیہ اور اپنی بیٹیوں کی طرف سے دی جانے والی قربانیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ جب وہ صدر بنے تو اس وقت اُن کی بیٹیاں کم عمر تھیں۔ انہوں نے خاتون اول مشیل اوباما کو اُن کی “شان اور استقلال اور اسلوب اور حسِ مزاح” اور وائٹ ہاوًس کو “ایک عوامی مقام” بنانے پر تعریف کی۔

پہلے سیاہ فام صدر نے یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ ” نسل اب بھی ایک اہم اور اکثر تقسیم کرنے والے قوت ہے” کہا کہ نسلی تعلقات  گزشتہ 10، 20، یا 30 سالوں کی نسبت بہتر ہیں۔

انہوں نے تمام امریکیوں پر زور دیا کہ وہ جمہوریت کے متحرک سرپرست بنیں۔” اگر کسی چیز کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہو تو اپنی کمر کسیں اور تھوڑا سا نظم پیدا کریں۔”

” آج رات جب میں یہ سٹیج چھوڑ رہا ہوں تو میں اِس ملک کے بارے میں اُس وقت کی نسبت بہت زیادہ پرامید ہوں جب ہم نے آغاز کیا تھا۔ کیوںکہ میں جانتا ہوں کہ ہمارے کام نے نہ صرف اتنے سارے امریکیوں کی مدد کی ہے بلکہ بہت سے امریکیوں کو  —  بالخصوص بہت سے نوجوانوں کو —  یہ یقین پیدا کرنے کے لیے متاثر کیا ہے کہ آپ تبدیلی لا سکتے ہیں؛ اپنے آپ سے کسی بڑے کام میں کامیاب ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔”

ایک عشرے تک منظر عام پر رہنے کے بعد  اوباما ایک عام شہری بننے کے ساتھ ساتھ ایک 55 سالہ بزرگ مدبر بھی بن جائیں گے۔ اُن کا پروگرام ہے کہ وہ کچھ  فارغ وقت گزاریں اور ایک کتاب لکھیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ سے اس مضمون کی تیاری میں استفادہ کیا گیا۔