نئی امریکی پابندیوں کا مقصد: ایرانی حکومت کے ہتھیاروں کے پروگراموں کو روکنا

امریکی وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو 21 ستمبر کو واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کے دفتر میں ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر رہے ہیں۔ (© Patrick Semansky/AP Images)
سٹیج پر وزیر خارجہ تقریر کر رہے ہیں اور دیگر لوگ اُن کے پیچھے کھڑے ہیں (© Patrick Semansky/AP Images)

امریکہ ایرانی حکومت کے جوہری، بیلسٹک میزائلوں اور روایتی ہتھیاروں کے پروگراموں کو روکنے اور ایران کی طرف سے مشرق وسطی اور اس سے آگے تشدد کے پھیلاؤ کو روکنے کی خاطر، ایران پر پابندیاں عائد کررہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے 21 ستمبر کو ایران پر اقوام متحدہ کی اسلحہ کی پابندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کی حمایت کرتے ہوئے ایک انتظامی حکمنامہ جاری کیا۔ امریکی قیادت کی جانب سے امریکی پابندیوں کے "سنیپ بیک” (پابندیوں کو دوبارہ لگانے) کے عمل کا آغآز کیا گیا۔ اس عمل کے نتیجے میں 19 ستمبر کو ایران پر درحقیقت اقوام متحدہ کی تمام پابندیاں دوبارہ عائد کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے اقدامات کی حمایت میں، امریکی حکومت نے 21 ستمبر کو ایران کی حکومت پر وسیع پیمانے پر نئی پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔ ۔

ٹرمپ نے 21 ستمبر کے انتظامی حکمنامے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، "میری انتظامیہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت کبھی بھی نہیں دے گی اور نہ ہی ہم ایران کو اجازت دیں گے کہ وہ بیلسٹک میزائلوں اور روایتی ہتھیاروں کی تازہ فراہمی سے باقی دنیا کو خطرات سے دوچار کرے۔”

امریکی پابندیوں میں اُن دو درجن سے زیادہ ایرانی عہدیداروں اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو (ایرانی) حکومت کے جوہری پروگراموں اور ہتھیاروں کے پروگراموں کو آگے بڑھانے میں ملوث ہیں۔ اِن پابندیوں میں وینزویلا کے ناجائز آمر، نکولس مادورو کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جو امریکی حکام کے کہنے کے مطابق ایران پر امریکی اسلحہ کی پابندیوں کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی پابندیوں کے "سنیپ بیک” یا دوبارہ عائد کیے جانے کے نئے اقدامات میں اقوام متحدہ کی اُن پابندیوں کی پیروی کی گئی ہے جو 2015ء کے ایران کے ناکام جوہری معاہدے کے نتیجے میں ختم ہو چکی تھیں۔ 19 ستمبر سے موثر ہونے والے اس سنیپ بیک سے اقوام متحدہ کی پابندیوں میں توسیع ہوگئی ہے اور ایران کی حکومت بیلسٹک میزائلوں کے تجربات سے باز رہنے اور افزودگی سے متعلقہ اُن سرگرمیوں کو معطل کرنے کی پابند ہوگئی ہے جو جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے 21 ستمبر کی ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ 2015ء کے ناقص جوہری معاہدے نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کا ایک راستہ فراہم کیا اور مشرق وسطی میں نیابتی جنگوں میں مدد کرنے کے لیے (ایرانی) حکومت کو اربوں ڈالر تک رسائی حاصل ہوئی۔

پومپیو نے کہا کہ اقتصادی پابندیوں کے ذریعے امریکہ نے 70 ارب ڈالر کی رقم ایران کی حکومت کی پہنچ سے باہر رکھ کر ان گنت انسانی جانیں بچائیں۔ بصورت دیگر، ایران یہ رقم دہشت گردی میں مدد کرنے کے لیے استعمال کرتا۔

ٹویٹ کا ترجمہ:

وزیر خارجہ پومپیو

بجائے اس کے کہ ایران کے دنیا کے لیے ایک خطرہ بننے کا انتظار کیا جائے، امریکہ دنیا میں دہشت گردی کے چوٹی کے سرپرست کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے جامع اقدامات اٹھا رہا ہے۔ ان اقدامات میں 25 اداروں اور افراد پر پابندیاں شامل ہیں۔ ہم امریکی  شہریوں اور دنیا کے لوگوں کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں!

نئی امریکی پابندیوں میں اُن اہم کرداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو حکومت کے جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کے پروگراموں میں مدد کرتے ہیں۔ اِن میں دیگر کے علاوہ، جوہری تحقیق کا انسٹی ٹیوٹ اور ماموت انڈسٹریل گروپ شامل ہیں۔

امریکہ کے محکمہ تجارت نے اپنے اداروں اور افراد کی فہرست میں اُن پانچ ایرانی سائنس دانوں کو شامل کیا ہے جو

حکومت کے جوہری پروگرام میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اس فہرست میں ان افراد کو شامل کیا جاتا ہے جو ایسی سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں جو امریکہ کی قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی کے منافی ہوتی ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ایران کی دفاع اور مسلح افواج کی رسد کی وزارت، اور ایران کی دفاعی صنعتوں کی تنظیم کو نامزد کیا۔ اِن دونوں اداروں نے امریکی ہتھیاروں کی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی۔

امریکہ نے یہ قدم اس لیے اٹھایا ہے کیونکہ ایران کی حکومت ایک ایسے وقت میں امریکی پابندیوں سے بچنے میں لگی ہوئی ہے جب اس کے پڑوسی ممالک امن کی جانب بڑھ  رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایران کی حکومت مشرق وسطی میں موجود اپنے نیابتی گروہوں اور دہشت گرد تنظیموں کو اسلحہ فراہم کرکے اقوام متحدہ کی اسلحے کی پابندی کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے حال ہی میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ کی معاونت سے طے پانے والے معاہدوں سے مشرق وسطی میں امن اور خوشحالی کے امکانات بہتر ہوں گے۔

ٹرمپ نے 21 ستمبر کو ایک بیان میں کہا، ” اگر ایرانی حکومت ایرانی عوام کو وہ کچھ فراہم کرنے کی امید رکھتی ہے جو ایرانی عوام شدت سے چاہتے ہیں اور جس کے وہ انتہائی مستحق ہیں: یعنی ایک پھلتا پھولتا اور خوشحال ایران، تو ایرانی حکومت کو اپنے طرز عمل کو تبدیل کرنا ہوگا۔”