چہرے کی شناخت کی ٹکنالوجی میں حالیہ ترین پیشرفت کی مدد سے سکیورٹی کے اہلکاروں نے واشنگٹن کے علاقے کے ایک ایئرپورٹ سے کسی دوسرے شخص کا پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے امریکہ میں چوری چھپنے داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک آدمی کو پکڑ  لیا۔

اس ٹکنالوجی میں بائیومیٹرک نظام کا استعمال کیا جاتا ہے جس میں مسافروں کے چہروں کو پاسپورٹوں پر لگی اُن کی تصویر سے ملا کر دیکھا جاتا ہے۔ جب ایک شخص کو دھوکے سے امریکہ میں داخل ہوتے ہوئے پکڑا گیا تو اس وقت اس ٹکنالوجی کو ایئرپورٹ پر لگے ہوئے صرف تین دن ہوئے تھے۔

امریکی کسٹمز اور سرحدوں کے تحفظ کے بالٹی مور کے فیلڈ آفس کے ڈائریکٹر کیسی ڈسٹ نے بتایا، "چہرہ شناخت کرنے کی نئی ٹکنالوجی نے حقیقی [سفری دستاویز] کے اصلی مالک کے علاوہ اس کی کسی دوسرے شخص کے استعمال کی اہلیت کو عملاً ختم کر کے رکھ دیا ہے۔"

بائیو میٹرک شناخت کسی کی شناخت کرنے کا ایک ایسا تصور ہے جس کی بازگشت مستقبل میں سننے میں عام ملا کرے گی۔ اس کی بنیاد ڈی این اے، چہرے یا آواز کے نمونے جیسی کسی شخص کی منفرد جسمانی خصوصیات پر ہوتی ہے۔ درحقیقت بائیومیٹرک شناخت کا نظام 1880 کی دہائی سے چلا آ رہا ہے جب انگلیوں کے نشانوں کو شناخت کی تصدیق کرنے کے لیے پہلی مرتبہ عدالت میں استعمال کیا گیا تھا۔ بائیو میٹرک شناخت کے نئے اور مختلف طریقے وہ اہم وسائل ہیں جنہیں  قانون کا نفاذ کرنے والے افراد آج کل استعمال کر رہے ہیں۔

چہروں کا تقابلی نظام اہم ہے کیونکہ لوگوں کے چہروں کا اُن کی شناختی تصاویر کے ساتھ ملا کر تقابلی جائزہ لینا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے جیسا کہ یہ بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ جب کسی کا وزن کم ہوجاتا ہے، وہ حجامت بنوا لیتا ہے یا عینک لگا لیتا ہے تو سرکاری اہلکاروں کے لیے اس امر کو یقینی بنانا مشکل ہوجاتا ہے کہ آیا وہ شخص اپنا ہی شناخت نامہ دکھا رہا ہے۔

نئی بائیو میٹرک ٹکنالوجی کو استعمال میں لاتے ہوئے سرحدوں پر تعینات سرکاری اہلکاروں کو اب جب کوئی شخص اپنا پاسپورٹ دکھائے گا تو وہ اسے ملک میں داخلے کی اجازت دینے یا شناخت کی جعلسازیاں کرنے والوں اور دھوکے بازوں کو روکنے کا فیصلہ کرنے میں قیاس آرائیوں سے کام نہیں لیں گے۔

چہرے کی شناخت کی ٹکنالوجی اس پروگرام کا حصہ ہے جسے امریکہ بھر کے 14 ایئرپورٹوں پر متعارف کرایا جائے گا۔