نئی رپورٹوں میں چین میں وسیع پیمانے پر جبری مشقت کا انکشاف

قطار میں بیٹھے کام میں مصروف کارکنوں کی بلندی سے لی گئی ایک تصویر میں وہ میزوں کے قریب کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ (© CCTV/AP Video)

 

نئے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی ویغوروں، نسلی قازقوں اور دیگر مسلمان اقلیتوں کے لوگوں کو شمال مغربی چین کے علاقے شنجیانگ میں ہی نہیں بلکہ پورے چین میں ظالمانہ حالات کے تحت کام کرنے پر مجبور کرنے پر لگی ہوئی ہے۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کے مسلمان اقلیتوں پر کیے جانے والے جبر میں یہ اضافہ، مارچ میں جاری کی جانے والی دو رپورٹوں میں سامنے آیا ہے۔ اِن میں سے ایک رپورٹ کینبرا کے ‘آسٹریلیا کے تزویراتی انسٹی ٹیوٹ’ (اے پی ایس آئی) نامی تھنک ٹینک جب کہ دوسری ‘کانگریشنل ایگزیکٹو کمشن آن چائنا’ (سی ای سی سی یعنی چین کے بارے میں کانگریس کے انتظامی کمشن) کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ کانگریس کا انتظامی کمشن امریکہ کی دونوں سیاسی پارٹیوں کے کانگریس کے اراکین اور سرکاری اہل کاروں پر مشتمل ہے اور اسے چین میں انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

دونوں رپورٹوں میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے وسیع پیمانے پر اور منظم انداز سے مسلمان اقلیت کے لیے چلائے جانے والے جبری مشقت کے پروگراموں کے بارے میں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے ارتکاب کی مزید تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹ کے ری پبلکن رکن سینیٹر مارکو روبیو، سی ای سی سی کے مشترکہ چیئرمین ہیں۔ انہوں نے سی ای سی سی کی رپورٹ [پی ڈی ایف ، 1.9 ایم بی] کے اجرا پر 11 مارچ کو کہا، "ایک طویل عرصے سے چینی کمیونسٹ پارٹی شنجیانگ میں ویغور مسلمانوں اور ترک نژاد مسلمان اقلیتوں سے منظم جبری مشقت کے تحت کام کروانے کے باوجود بچتی چلی آ رہی ہے۔”

اپریل 2017 سے لے کر آج تک دس لاکھ سے زائد ویغور، قازق، کرغیز نسلوں اور دیگر مسلمان اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو شنجیانگ کے حراستی کیمپوں میں بند کر چکی ہے۔

کیمرے کی طرف رخ کیے ایک بچہ اور عورت کھڑے ہیں اور انہوں نے دو آدمیوں کی تصویر پکڑ رکھی ہے۔ (© Dake Kang/AP Images)
سالا جموبے اپنے بیٹے کے ہمراہ اپنے قازق النسل شوہر کی تصویر پکڑے کھڑی ہیں۔ جموبے کہتی ہیں کہ ان کے شوہر کو پہلے ایک حراستی کیمپ میں بند کیا گیا اور بعد میں ایک فیکٹری میں منتقل کر دیا گیا۔ (© Dake Kang/AP Images)

اِن کیمپوں کو حب الوطنی پیدا کرنے اور اُن کی مذہبی اور نسلی شناخت کو مٹانے کے لئے بنایا گیا ہے۔ اِن کیمپوں کے اندر محافظ مبینہ طور پر قیدیوں کو زدوکوب اور تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور انہیں اسلام ترک کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

اے ایس پی آئی نے کہا کہ اس کی رپورٹ "اقلیتی شہریوں کو نشانہ بنا کر، چین کی سماجی نظام میں تبدیلی لانے کی مہم میں ایک نئے مرحلے کو بے نقاب کرتی ہے۔”

جیسا کہ دونوں نئی رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں، چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اِن گروپوں کے ساتھ کی جانے والی اپنی زیادتیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اِن زیادتیوں میں کمیونسٹ پارٹی نے بہت کم یا تنخواہ کے بغیر ظالمانہ اور جابرانہ حالات میں کام کرنے کو بھی شامل کر لیا ہے۔ اور ہاں ایسا صرف شنجیانگ میں ہو رہا ہے۔

اے ایس پی آئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی حکام نے شنجیانگ کے "تعلیم نو کے کیمپوں” میں سے ایک کیمپ سے 80,000 سے زائد نظربندوں کو چین بھر میں پھیلی ٹیکسٹائل، الیکٹرانکس اور دیگر فیکٹریوں میں کس طرح منتقل کیا۔ سرکاری حکام فیکٹریوں میں کام کرنے والے کارکنوں کی سخت نگرانی کرتے ہیں۔ کارکن کام سے انکار نہیں کرتے کیونکہ انکار کی صورت میں اُن کے خاندانوں کے افراد کے لیے گرفتاری کے خطرات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اُن کی نقل و حمل محدود ہوتی ہے اور وہ آزادانہ طور پر شنجیانگ میں واقع اپنے گھروں میں واپس نہیں جا سکتے۔

11 مارچ کو سال 2019 کی انسانی حقوق کی رپورٹ جاری کرتے وقت امریکہ کے وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے کہا، "جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں شنجیانگ میں سی سی پی کا ریکارڈ اس صدی کا دھبہ ہے۔” اس رپورٹ میں چین کے اپنی نسلی اقلیتوں کے ساتھ "منظم تشدد اور یگر ہتک آمیز سلوکوں” کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔