امریکی کمپنی کا تیار کردہ ایک پلیٹ فارم اُس طریقے کو آسان بنا دے گا جس سے زمین کے گرد چکر لگانے والے سیٹلائٹ (مصنوعی سیاروں) کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔

ہائپرجائنٹ انڈسٹریز کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو بین لیم نے کہا کہ "ہائپر انٹیلیجنٹ وہیکل انہانسمنٹ” (ایچ۔ آئی۔ وی۔ ای) نامی مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے، مصنوعی سیاروں کو زمین سے چلانے والے افراد کہیں سے بھی سیاروں کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے، "اس (نظام) نے زمین سے سیارے کو کنٹرول کرنے والے فرد کی (اب) محض دو سیاروں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو بڑھا کر سیکڑوں میں کر دیا ہے۔ ”

اس وقت زمین کے گرد 2,000 سے زائد مصنوعی سیارے چکر لگا رہے ہیں اور اس تعداد میں اُس وقت اضافہ ہوجائے گا جب نجی کمپنیاں اپنے سیارے فضا میں بھیجنا شروع کر دیں گیں۔ جیسے جیسے نجی اور سرکاری شعبے کے سیارے زمینی فضا میں بھیجے جائیں گے ویسے ویسے، بالخصوص بحرانوں کے دوران تیز تر مواصلاتی ضرورت میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔

مقام، برقی سطحیں، سیارے سے ملنے والی معلومات اور دیگر ڈیٹا دکھانے والی کمپیوٹر کی سکرین (Courtesy of Hypergiant)
ایچ۔ آئی۔ وی۔ ای کو استعمال کرنے والے کنٹرولر کے ٹیبلیٹ یا سمارٹ فون پر نظر آنے والا انٹرفیس کچھ اس طرح دکھائی دے گا۔ (Courtesy of Hypergiant)

لیم نے کہا کہ مثال کے طور پر کسی شہر میں آنے والے طوفان کی وجہ سے اگر بجلی چلی جاتی ہے تو اس کے باوجود ایچ۔ آئی۔ وی۔ ای کو استعمال کرنے والے شخص کو معلومات ملتی رہیں گیں اور وہ اپنے موبائل فون یا ٹیب لیٹ سے مصنوعی سیارے کو کنٹرول کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں حکومت تیزی سے حرکت میں آ سکتی ہے۔

ایچ۔ آئی۔ وی۔ ای پہلے سے موجود پلیٹ فارموں کو ایک ایسے پلیٹ فارم میں یکجا کر دیتی ہے جسے کسی کنٹرول روم کی بجائے دور سے سمارٹ فونوں یا ٹیبلٹوں سے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

ایچ۔ آئی۔ وی۔ ای ہنگامی حالات سے نمٹنے کے وفاقی ادارے (فیما) اور ٹوئٹر کی فیڈز کے ڈیٹا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا میں کسی بھی جگہ پیش آنے والی کسی (قدرتی) آفت کے دوران درجہ حرارت بتانے والے نقشے تیار کر سکتی ہے۔

لیم نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا، "جب ہم اس کام میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا دیکھیں گے تو ہم اِن شعبوں کی ذمہ داری آپریٹروں کے حوالے کر سکتے ہیں اور اس طرح خلا سے حاصل کی جانے والی تصویریں کے وقت کو گھنٹوں کی بجائے تیزی سے بڑھا کر دنوں میں لے جا سکتے ہیں۔”

ہائپر جائنٹ کے مطابق لاس اینجلیس میں واقع امریکی فضائیہ اور خلا اور میزائل کے نظاموں کا مرکز اپنے مشنوں میں اس ٹکنالوجی کو استعمال کرنے کے لیے پہلے ہی معاہدے کر چکا ہے۔ ہائپر جائنٹ مصنوعی سیاروں کے ذریعے ناسا مشنوں میں مدد کرنے والی بوئنگ اور سپیس ایکس جیسی نجی کمپنیوں کی صفوں میں شامل ہو جائے گی۔