ریکس ٹِلرسن،جن کی 69ویں وزیر خارجہ کے طور پر توثیق کر دی گئی ہے یہاں تصویر میں 2011ء میں کیپیٹل ہِل کے ایک دورے کے دوران۔ (© AP Images)

دنیا بھر میں سفر کرنے والے تیل کی صنعت کے عہدیدار اور انجنیئر، ریکس ٹِلرسن امریکہ کے نئے وزیرخارجہ اور صدر ٹرمپ کے امورِخارجہ کے مشیرِ اعلٰی ہیں۔

ان کی امریکہ کے انہترویں وزیرخارجہ کی حیثیت سے یکم فروری کو توثیق کی گئی۔ اس عہدے پر سب سے پہلے تھامس جیفرسن فائز ہوئے اور حالیہ ترین دنوں تک جان کیری فائز رہے۔ ان کے پانچ پیشرووں نے نوبیل انعام حاصل کیے۔

Man sitting at desk (© Sebastian Meyer/Corbis via Getty Images)
ایکسون موبیل میں اپنی چار دہائیوں پر پھیلی ہوئی ملازمت کے دوران، وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن تیل کے ایک انجنیئر سے ترقی کرتے کرتے سی ای او کے عہدے تک پہنچے۔ (© Sebastian Meyer/Corbis via Getty Images)

ریاست ٹیکسس کے شہر وچیٹا فالز میں مارچ 1952 میں بوبی جو اور پیٹی سُو ٹِلرسن کے ہاں پیدا ہونے والے تین بچوں میں، ریکس وین ٹِلرسن دوسرے نمبر پر ہیں۔ ان کے والد روٹیاں بیچنے والے سیلزمین تھے۔ انہوں نے امریکہ کے بوائے سکاوًٹس کے لیے کام کرنے کی خاطر اپنی تنخواہ میں کٹوتی برداشت کی۔

سکاوًٹنگ اس خاندان کے خون میں شامل تھی۔ ٹِلرسن کے لیے اس کے حمیت سے متعلق ضابطے نے ہمیشہ کسوٹی کا کام کیا۔ وہ 13 سال کی عمر میں ایگل سکاوًٹ اور پھر اس تنظیم کے صدر بنے۔

ان کا خاندان وچیٹا فالز سے پہلے ریاست اوکلاہوما کے شہر سٹِل واٹر اور پھر ریاست ٹیکسس کے شہر ہنٹس وِل منتقل ہوا۔ 2015ء میں ٹیکسس ٹیک یونیورسٹی میں اپنی ایک تقریر میں انہوں نے کہا کہ ان کے حالات درمیانے درجے کے تھے۔

انہیں ہمیشہ کام ملتا رہا۔ انہوں نےلوگوں کے گھروں کے صحنوں سے گھاس کاٹی، بس بوائے کا کام کیا۔ جب وہ 16 برس کے ہوئے تو انہوں نے اوکلاہوما سٹیٹ یونیورسٹی کی انجنیئرنگ کی عمارت میں ایک نگران کے طور پر کام شروع کیا۔ ٹِلرسن کا کہنا ہے کہ، "مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ انجنیئر کیا ہوتا ہے،” مگر انہوں نے پڑھائی جاری رکھی اور اپنی توجہ انجنیئر بننے پر مرکوز کر دی۔

ڈھول بجانے والے ٹِلرسن کو آسٹن میں واقع یونیورسٹی آف ٹیکسس کے مارچنگ بینڈ میں انجنیئروں کے لیے مختص سکالرشپ پر داخلہ ملا۔ انہیں ابتدا میں جدوجہد کرنا پڑی اور ان کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ کیا انجنیئرنگ کالج ان کے لیے صحیح جگہ ہے۔ تاہم ایک پروفیسر نے ان کو سنبھالا دیا اور وہ اعلٰی نمبروں سے کامیاب ہوئے۔

Young boy wearing scout uniform (Boy Scouts of America)
ٹِلرسن 13 سال کی عمر میں ایگل سکاوًٹ کے عہدے پر پہنچے۔ (Boy Scouts of America)

ایکسون نے نئے نویلے انجنیئر کو کیٹی، ٹیکسس بھیج دیا۔ وہ کہتے ہیں، "مجھے ہر کام خود کرنا پڑتا تھا۔ میں تیل کی صنعت کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔ ” ٹِلرسن نے تیزی سے ترقی کی۔ 28 سال کی عمر میں وہ مینیجر بنے اور بلآخر ٹیکسس کے قلب میں واقع تیل کے علاقوں اور ہمسایہ ریاستوں میں تیل نکالنے سے متعلقہ تمام امور چلانے لگے۔

1995ء میں ایکسون نے انہیں خانہ جنگی کے بعد سنبھلتے ہوئے ملک، یمن بھیج دیا۔ انہوں نے صنعاء میں دو سال گزارے۔

جزیرہِ سخالین کے قریب اور بحیرہ کیسپین میں تیل کی تلاش کے سلسلے میں پیچیدہ معاملات طے کرنے کے لیے، ان کا اگلا پڑاوً،  روس تھا۔ ٹِلرسن کے وہاں قیام کے دوران روس میں چھ  وزرائے اعظم تبدیل ہوئے اور ان میں چھٹے وزیراعظم ولاڈیمیر پیوٹن تھے۔

ٹِلرسن کا کہنا ہے کہ یمن اور روس میں دونوں جگہ جو چیز ان کے لیے بہتر ثابت ہوئی وہ ان کا "بہت زیادہ شفاف ہونا تھا۔” اس سے ان کی اور ایکسون کی پوزیشن شکوک شبہات سے بالاتر رہی۔

ان کے روسی قیام کے بعد 1999ء میں ایکسون موبیل کے ضم ہونے کے نتیجے میں انہیں 120 منصوبوں کا انچارج بنا دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عملی طور پر "میں ہوائی جہاز میں رہتا تھا اور میرا سارا وقت …  حکومتوں کے ساتھ  تعلقات کے فروغ کے لیے … دنیا بھر میں سفر کرنے میں گزرتا تھا۔”

ٹِلرسن کہتے ہیں، "میں چیئرمین اور سی ای او بننے کا کبھی خواہشمند نہیں رہا۔” مگر کمپنی نے انہیں سینیئرنائب صدر بنایا اور اُس اعلٰی ترین عہدے کے لیے تیار کیا جس پر وہ 2006ء میں فائز ہوئے۔

ٹِلرسن اور ان کی اہلیہ رینڈا کے چار بچے اور پانچ پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں ہیں۔ ان کا گھر بارٹن وِل، ٹیکسس میں گھوڑوں کا ایک فارم ہے جہاں پر وہ گھوڑے پالتے ہیں اور ان کی تربیت کرتے ہیں۔ روڈیو گھوڑے اور [امریکی] فٹ بال ان کے پسندیدہ مشاغل ہیں۔

Rex Tillerson sitting in front of name plate and microphones (© AP Images)
سینیٹ کی امور خارجہ کی کمیٹی میں سماعت کے دوران ایک ہلکا پھلکا لمحہ۔ (© AP Images)

ٹِلرسن کے لیے واشنگٹن کوئی اجنبی جگہ نہیں ہے۔ وہ "تزویراتی اور بین الاقوامی مطالعات کے مرکز” کے ٹرسٹی اور فورڈ تھیئٹر کے نائب چیئرمین رہ چکے ہیں۔ انہیں 2013ء میں انجنیئرنگ کی شہرہ آفاق قومی اکیڈمی کے لیے منتخب کیا گیا۔