نائب صدر پینس نے انسانی بنیادوں پر ان ممالک کے لیے قریباً پانچ کروڑ ساٹھ لاکھ  ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کیا ہے جو وینیز ویلا میں بحران پر علاقائی ردعمل میں معاونت کر رہے ہیں۔ نائب صدر نے وینیز ویلا  کے سابق صدر نکولس مادورو کی غیرقانونی حکومت کے اتحادیوں پر اضافی پابندیوں کا خاکہ بھی پیش کیا ہے۔

نائب صدر پینس نے 25 فروری کو کولمبیا میں لیما گروپ کے اجلاس میں کہا، ” وینیز ویلا میں جدوجہد، آمریت اور جمہوریت کے درمیان ہے۔ مادورو کی جانب سے سینکڑوں ٹن امداد کو وینیز ویلا  کے طول و عرض میں غریبوں تک پہنچنے سے روکنا قطعی طور پر سمجھ  سے بالاتر ہے۔”

People in uniform standing in middle of road (© Ivan Valencia/AP Images)
مادورو کے فوجیوں نے 23 فروری کو برازیل اور وینیز ویلا کے درمیان سرحد کو بند کیا ہوا ہے۔ (© Ivan Valencia/AP Images)

سرحد پر تشدد

23 اور 24 فروری کے اختتام ہفتہ کے ایام میں مادورو کی وفادار فوجوں نے ان ہزاروں افراد پر گولیاں چلائیں جو عبوری صدر خوآن گوائیڈو کی جانب سے انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی امداد کو وینیز ویلا  میں داخلے کی اجازت دینے کے مطالبے کی حمایت میں نکلے تھے۔ پینس نے کہا کہ اس موقع پر سینکڑوں لوگ زخمی اور کم ازکم پانچ ہلاک ہوئے۔

نائب صدر پینس نے کہا، ”گزشتہ دو روز کے واقعات نے ہمارے عزم کو فولادی بنا دیا ہے۔” یہ ایک ”جابر کا مایوسانہ اقدام تھا۔”

Charred trucks and barrels on bridge (© Fernando Vergara/AP Images)
جلے ہوئے یہ ٹرک 23 فروری کو ککوتا، کولمبیا کے فرانسسکو دو پاؤلا ساتاندر بین الاقوامی پل پر کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ ٹرک اس قافلے کا حصہ تھے جو انسانی بنیادوں پر لائی جانے والی امداد کو وینیز ویلا لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ (© Fernando Vergara/AP Images)

سرحد پر روکی جانے والی اشیا وینیز ویلا  کے لاکھوں لوگوں کی مدد کے لیے لائی گئیں تھیں۔ مادورو حکومت کی جانب سے سالہا سال کی بدعنوانی اور بدانتظامی کے بعد لوگوں کو خوراک اور ادویات کی سنگین قلت کا سامنا ہے۔

نئی امداد اور پابندیاں

مالی سال 2017 سے اب تک امریکہ 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کر چکا ہے جس میں 15 کروڑ 20 لاکھ  ڈالر سے زیادہ انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی امداد بھی شامل ہے۔ اس کا مقصد وینیز ویلا کے عوام اور متاثرہ لوگوں کو زندگی کے تحفظ میں مدد دینے اور اپنے ملک میں پائی جانے والی افراتفری سے بھاگ کر آنے والے وینیز ویلا  کے شہریوں کو پناہ دینے والے ممالک کی کوششوں میں مدد فراہم کرنا ہے۔

People, including a man carrying a child, crossing rocky riverbed (© Fernando Vergara/AP Images)
25 فروری کو کولمبیا کے لا پرادہ کے مقام پر سیمون بولیوار بین الاقوامی پل کے قریب سے وینیز ویلا سے آنے والے لوگ کولمبیا میں داخل ہونے کے لیے دریائے تاکیرا عبور کر رہے ہیں۔ (© Fernando Vergara/AP Images)

تاہم نائب صدر پینس نے بتایا کہ امریکہ ناصرف امداد کے ذریعے وینیز ویلا  کے عوام کے مصائب میں کمی لانے کے لیے کام کر رہا ہے بلکہ یہ بدعنوانی اور انسانی امداد کی ترسیل روکنے والے چار گورنروں پر پابندیاں عائد کر کے مادورو اور اس کے حامیوں پر مسلسل دباؤ بھی بڑھا رہا ہے۔

نائب صدر پینس نے کہا، ”جہاں ہم وینیز ویلا  کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں وہیں ہم ان تمام لوگوں کے خلاف بھی کھڑے ہوں گے جو ان پر جبر روا رکھے ہوئے ہیں۔”

ایک عالمگیر کوشش

“دی لیما گروپ” شمالی، وسطی اور جنوبی امریکہ کے 14 ممالک کی ایک تنظیم ہے جس کے ارکان وینیز ویلا میں بحران سے نمٹنے کے لیے 2017 میں متحد ہوئے تھے۔ اگرچہ امریکہ لیما گروپ کا رکن نہیں ہے تاہم نائب صدر پینس کو اس کے حالیہ  اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور انہوں نے وینیز ویلا میں جمہوریت کی بحالی کے لیے گروپ کے کام کو سراہا۔

People in street with bicycles (© Rodrigo Abd/AP Images)
25 فروری کو ارینا کے مقام پر کولمبیا کے ساتھ ملنے والی وینیز ویلا کی سرحد کو قومی سرحدی محافظوں کی جانب سے بند کیے جانے کے بعد مقامی لوگ محافظوں کو دیکھ رہے ہیں۔ (© Rodrigo Abd/AP Images)

نائب صدر پینس نے کہا، ”دی لیما گروپ نے مادورو حکومت کے آمریت میں تبدیل ہونے پر اسے چیلنج کرنے کے حوالے سے اس ارضی کُرے کی کوششوں میں  فخریہ طور سے  قائدانہ کردار ادا  کیا۔ بڑی حد تک آج یہاں موجود قیادت کی بدولت 50 سے زائد ممالک عبوری صدر خوآن گوائیڈو کو وینیز ویلا  کے واحد قانونی صدر کے طور پر تسلیم کرکے ہمارے ساتھ شامل چکے ہیں۔”

نائب صدر پینس نے  “سیمون بولیوار کا قول دہراتے ہوئے کہا کہ آزادی سے پیار کرنے والے لوگ بالاآخر آزاد ہوکر رہیں گے۔”