ناسا کے چاند اور اس سے آگے کے آرٹیمس پروگرام کے لیے بائیڈن پرعزم

لانچ پیڈ پر موجود راکٹ کا تصویری خاکہ
ناسا کا نیا راکٹ "سپیس لانچ سسٹم" خلابازوں کو آرٹیمس مشنوں کے تحت چاند پر بھیجے گا۔ (NASA)

صدر بائیڈن چاند پر دوبارہ جانے اور خلابازوں کو مریخ پر بھیجنے کے ناسا کے کثیرالمملکتی مشن کے لیے پرعزم ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری، جین ساکی نے 4 فروری کو  بائیڈن انتظامیہ کی ناسا کے آرٹیمس پروگرام کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا، “آرٹیمس پروگرام کے تحت خلابازوں کو چاند کی سطح پر بھیجنے کے لیے امریکی حکومت صنتع اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام کرے گی۔”

آرٹیمس پروگرام کا مقصد 2024ء تک چاند پر پہلی عورت اور  ایک  مرد کو اتارنا اور مریخ کے لیے انسانی مشن کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔

انسانی خلائی پرواز کے بین الاقوامی دن کے موقع پر دنیا خلائی تحقیق کی تحسین کر رہی ہے۔ 12 اپریل سوویت یونین کے یوری گاگارین کی 1961ء میں خلا میں جانے والی پہلی انسانی پرواز کی ساٹھویں سالگرہ ہے۔ 20 جولائی 1969 کو امریکہ کے خلاباز نیل آرمسٹرانگ پہلے انسان تھے جنہوں نے چاند پر پاؤں رکھا۔

 سولڈ راکٹ بوسٹر کو جوڑنے کا فضائی منظر (NASA/Isaac Watson)
فلوریڈا میں کینیڈی خلائی مرکز میں خلا میں راکٹ بھیجنے والے مجموعی نظام کے بوسٹر استعمال کے لیے تیار ہیں۔ (NASA/Isaac Watson)

1972ء میں ناسا کے اپالو 17 مشن کے تحت انسانوں کے چاند پر پہنچنے کے بعد آرٹیمس کی یہ پہلی لینڈنگ ہوگی۔ اس وقت تک آرٹیمس اول کی روانگی نومبر میں طے ہے۔ آرٹیمس اول پر عملہ نہیں ہوگا۔ تاہم یہ مشنوں کے اُس سلسلے کا پہلا مشن ہوگا جو مستقبل میں چاند اور مریخ  کی تحقیق کے مشنوں میں آسانیاں پیدا کرے گا۔

ناسا نے حال ہی میں آرٹیمس کے مستقبل کے مشنوں کے لیے 18 خلابازوں کی ایک ٹیم کا اعلان کیا ہے۔ یہ ٹیم امریکہ میں تنوع اور وسیع سلسلوں پر پھیلے مواقع کی عکاسی کرتی ہے۔ اس ٹیم کے نصف ارکان کا تعلق عورتوں اور مختلف رنگ و نسل کے لوگوں سے ہے۔

آرٹیمس پروگرام بین الاقوامی شراکت کاریوں کو بھی تقویت پہنچا رہا ہے۔ 13 اکتوبر 2020 کو امریکہ اور سات دیگر ممالک نے آرٹیمس معاہدوں پر دستخط کیے۔ آرٹیمس معاہدے اُن راہنما اصولوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہیں جن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خلائی تحقیق پرامن، پائیدار اور سب کے لیے فائدہ مند ہو۔

آرٹیمس معاہدے 1967ء کے بیرونی خلا کے اُس معاہدے کے اصولوں کی پیروی کرتے ہیں جو دنیا کے ممالک کے  بیرونی خلا پر حاکمیت کا دعوی کرنے کی ممانعت کرتا ہے اور جس کا مقصد پوری انسانیت کے لیے تحقیق، سائنس اور تجارتی سرگرمیوں میں آسانیاں پیدا کرنا اور اِن سے فیضیاب ہونا ہے۔ اس معاہدے کے اراکین میں آسٹریلیا، کینیڈا، اٹلی، جاپان، لکسمبرگ، یوکرین، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مزید ممالک بھی اس پر دستخط کریں گے۔

ناسا کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ خلائی تحقیق میں شراکت کاری کرنے سے زمین پر مزید مثبت تعلقات کو تقویت پہنچائیں گے۔

اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد، صدر بائیڈن نے 18 فروری کو مریخ پر پرسویئرنس روور کے اترنے جیسے ناسا کے مشنوں کی یہ کہتے ہوئے تعریف کی کہ یہ مشن بین الاقوامی تعاون کی قدروقیمت کا ثبوت ہے۔ یہ روور مریخ پر قدیم زندگی کی علامات کی تلاش کرے گا جس کے دوران یورپ میں پھیلے ہوئے ممالک کی ٹکنالوجی استعمال کی جائے گی۔

بائیڈن نے 19 فروری کو میونخ سکیورٹی کانفرنس کو بتایا، “یہ تحقیق کا ایک مشن  ہے۔ اس پر ہماری کرہ ارض سے آگے زندگی کے امکانات کے ثبوتوں اور کائنات کے اسراروں کی تلاش کرنے کے لیے، ہمارے یورپی شراکت داروں کی جانب سے دیئے گئے آلات  موجود ہیں۔ ہم اکٹھے مل کر ایسا کچھ بھی کر سکتے ہیں۔”