صدر ٹرمپ 2017 کے دعائیہ ناشتے میں تقریر کر رہے ہیں۔ (©Win McNamee/Getty Images)

ہر سال عموماً فروری کی پہلی جمعرات کو ہزاروں کی تعداد میں مذہبی رہنما، پالیسی ساز، کاروباری لوگ اور امریکہ کا صدر مذہب  پر بات کرنے کے لیے واشنگٹن میں جمع ہوتے ہیں۔ ناشتے سے پہلے اور بعد میں ملاقاتوں اور سیمیناروں پر مشتمل یہ تقریب، مذہبی برادری کے لیے سیاسی و کاروباری برادریوں سے باہمی تعلقات بنانے کا ایک موقع ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ اپنی صدارت کے دوران چوتھی بار 68ویں قومی دعائیہ ناشتے سے 6 فروری کو خطاب کریں گے۔

قومی دعائیہ ناشتے کا تصور پہلی مرتبہ ایک میتھوڈسٹ پادری نے پیش کیا تھا۔ تاہم آج دیگر عیسائی فرقوں، اسلام اور یہودیت سمیت بہت سے مذاہب کے رہنما اس میں شریک ہوتے ہیں۔ تاریخی طور پر یہ تقریب صدر کے لیے کمانڈرانچیف کی حیثیت میں اپنے عقیدے کے کردار کو تسلیم کرنے اور مذہب پر اثرانداز ہونے والے موضوعات پر بات کرنے کا ایک موقع ہوتا ہے۔ 2017 کے ناشتے میں صدر نے دہشت گردی کے ہاتھوں مذہبی آزادی کو لاحق خطرات اور عہدہ سنبھالنے کے بعد ابتدائی ہفتوں میں اس خطرے سے نمٹنے کے حوالے سے اپنی انتظامیہ کے عزم پر بات کی تھی۔

Three men standing with heads bowed before table (© AP Images)
صدر ڈوائٹ آئزن ہاور(درمیان میں) 1956 میں چوتھے قومی دعائیہ ناشتے پر تقریر کر رہے ہیں۔ (© AP Images)

قومی دعائیہ ناشتے کا آغاز 1953 میں اس وقت ہوا تھا جب صدر ڈوائٹ آئزن ہاور نے واشنگٹن کے مے فلاور ہوٹل میں 400 لوگوں کے ایک گروپ سے خطاب کیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ تقریب صدر کی مصروفیات میں مستقل حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ حالیہ برسوں میں اس تقریب کے شرکا کی تعداد 4000 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ابتدا ہی سے ہر صدر نے اس تقریب سے خطاب کیا ہے۔ 1970 تک اسے صدر کا دعائیہ ناشتہ کہا جاتا تھا۔

دعائیہ ناشتے کی روایات میں ایک مہمان مقرر کی تقریر بھی شامل ہوتی ہے جس کی شناخت تقریب سے پہلے ظاہر نہیں کی جاتی۔ ماضی میں مندرجہ مقررین نے بطور مہمان تقریریں کیں:

  • کیتھولک چرچ میں سینٹ ٹریسا آف کولکتہ کے نام سے جانی جانے والی کولکتہ کی مذہبی مبلغ مدر ٹریسا۔ انہوں نے اپنی زندگی بیماروں اور غریبوں کی نگہداشت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ (1994)
  • آئرلینڈ کے بینڈ یو2 سے تعلق رکھنے والے نمایاں گلوکار بونو۔ انہوں نے ایڈز کا مقابلہ کرنے اور افریقہ کے لیے قرضے معاف کرنے کی بات کی تھی۔ (2006)
  • بچوں کے دماغی سرجن بین کارسن۔ انہوں نے 2013 میں قومی دعائیہ ناشتے پر تقریر سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ میں ہاؤسنگ اور شہری ترقی کے وزیر ہیں۔

ٹرمپ نے 2017 میں قومی دعائیہ ناشتے کی تقریب سے خطاب میں کہا، "میری انتظامیہ ہماری سرزمین پر مذہبی آزادی کے دفاع اور تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ امریکہ کو ہرصورت میں ہمیشہ کے لیے ایک ایسا روادار معاشرہ رہنا چاہیے جہاں تمام مذاہب کا احترام ہو اور جہاں ہمارے تمام شہری خود کو سلامت اورمحفوظ سمجھیں۔”

اس مضمون کو ایک مختلف شکل میں 6 فروری 2018 کو ایک بار پہلے بھی شائع کیا جا چکا ہے۔