نا انصافی کی تاریخ: ایرانی حکومت کی اپنے عوام کے ساتھ بدسلوکیاں

سر پر دوپٹہ لیے ایک عورت پولیس کی گاڑی کے قریب کھڑی ہے۔ (© AP Images)
ایک ایرانی پولیس افسر تہران میں 2007ء میں ایک عورت کو مناسب طریقے سے سر پر دوپٹہ نہ اوڑھنے کے جرم میں گرفتار کر رہا ہے۔ حکومت پردے کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر عورتوں کو جیل میں ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ (© AP Images)

اپنی پوری 41 سالہ تاریخ میں اسلامیہ جمہوریہ ایران اپنے ہی شہریوں کو اُن کی جانب سے اپنے شہری اور انسانی حقوق استعمال کرنے پر سزائیں دیتا چلا آ رہا ہے۔

20 فروری کو منایا جانے والا اقوام متحدہ کا سماجی انصاف کا عالمی دن اس سال ایک ایسے موقع پر آ رہا ہے جب ایرانی حکومت نے نومبر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پُرتشدد کاروائیاں کرتے ہوئے 1,500 کے قریب ایرانیوں کو ہلاک اور 8,600 سے زائد کو گرفتار کیا۔

حکومت کی نا انصافیاں بے شمار ہیں۔ اِن میں سے چند ایک کی مثالیں ذیل میں دی جا رہی ہیں:

اقلیتوں کے ساتھ زیادتیاں

ایرانی حکومت کی مذہبی اقلیتوں کے ساتھ زیادتیاں بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہیں۔ امریکہ کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے عمومی سفیر، سیم براؤن بیک نے جون 2019ء میں کہا، "دنیا میں مذہبی آزادی کے حوالے سے ایران بدترین ریکارڈ رکھتا ہے اور (ایران) افراد کی مذہبی آزادی کو کھلم کھلا نظرانداز کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔” اس ضمن میں انہوں نے بہائیوں، یہودیوں، آتش پرستوں، سنیوں اور دیگر اقلیتوں کو ان کے عقائد کی وجہ سے ہراساں کیے جانے اور جیلوں میں ڈالے جانے کا ذکر کیا۔

امریکی حکومت کی سال 2019 کی رپورٹ کے مطابق ایران میں 2018ء میں عیسائیوں کی گرفتاریوں میں 1,000 فیصد اضافہ ہوا۔ حتی کہ بعض کو گھروں میں کرسمس منانے کی وجہ سے بھی گرفتار کیا گیا۔ فروری 2018 میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران 300 صوفیوں کو ایران کی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا۔

براؤن بیک نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں ایران کی مذہبی اقلیتوں کو اپنے مذاہب سے منحرف ہونے پر مجبور کیا گیا۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو وہ حکومی مراعات سے محروم ہو جائیں گے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رپورٹوں، انسانی حقوق کے بین الاقوامی حامیوں اور حکومتی اور بین الاقوامی میڈیا کے مطابق حکومتی امتیازی سلوک اور زیادتیوں کا سلسلہ اہوازی عربوں، افغانوں، آزریوں، بلوچیوں اور کردوں، ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں، اور دو جنسی، متفرق جنسی اور بین جنسی رجحانات کے حامل افراد پر مشتمل کمیونٹیوں تک پھیلا ہوا ہے۔

عورتوں کو جیلوں میں بند کرنا

کھیلوں کے مقابلوں کو دیکھنے، عورتوں کے حقوق کے فروغ یا دیگر عورتوں کے ساتھ سماجی روابط کے دوران سروں پر دوپٹے نہ اوڑھ کر ایرانی عورتیں برسوں جیل میں گزارنے کا خطرہ مول لیتی چلی آ رہی ہیں۔

2019ء میں تین عورتوں کو حجاب کے قوانین کے خلاف احتجاج کرنے پر 55 سال قید کی سزا دی گئی۔ انسانی حقوق کی وکیل نسرین ستودے کو عوام میں اپنے سروں سے دوپٹے اتارنے کا مجرم قرار دی جانے والی تین عورتوں کا دفاع کرنے پر 33 سال قید کی سزا دی گئی۔ حال ہی میں شطرنج کی ایک ایرانی ریفری نے وطن واپس جانے کا خطرہ مول لینے سے انکار کر دیا کیونکہ شطرنج کے ایک بین الاقوامی میچ میں ریفری کے فرائض کی انجام دہی کے دوران لی گئی تصویروں میں وہ سر پر مناسب دوپٹے کے بغیر دکھائی دے رہیں تھیں۔

گزشتہ ستمبر میں ایک 29 سالہ ایرانی عورت نے حکومت کی طرف سے عائد کی جانے والی عورتوں کے فٹ بال کے میچ دیکھنے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے کے بعد ملنے والی ممکنہ قید کی سزا کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود کو آگ لگا کر اپنی جان لے لی۔

اس سال کے اوائل میں اولمپک تمغہ جیتنے والی واحد ایرانی خاتون اپنے ملک سے اپنے آپ کو "ایران کی لاکھوں مظلوم عورتوں میں سے ایک مظلوم عورت” قرار دیتے ہوئے منحرف ہوگئی۔

تصویری خاکہ جس میں دکھایا گیا ہے کہ کون کون سے کام کرنے پر آپ کو کوڑوں کی سزا دی جا سکتی ہے۔ (State Dept.) (Photo © Hossein Esmaeli/AP Images)

محنت کش اور لکھاری نشانے پر

ایران میں محنت کشوں کی ایک روز افزوں تعداد کو خاموشی سے مشقت کرنے یا واجب الادا تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کرنے پر کوڑوں کی سزا کا سامنا کرنے میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اِن سزاؤں میں ادا نہ کی جانے والی تنخواہوں کا مطالبہ کرنے پر اگست میں 16 محنت کشوں کو 30 کوڑوں اور آٹھ ماہ کی قید کی سزائیں بھی شامل ہیں۔

ایسے لکھاریوں اور سرگرم کارکنوں کو بھی قید کے خطرات کا سامنا رہتا ہے جو حکومت کی متواتر دست درازیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ مئی 2019 میں ایک جج نے تین لکھاریوں کو حکومت کی آرٹ پر سنسرشپ کی مخالفت کرنے پر ہر ایک کو تین تین سال قید کی سزا دی۔

حکومت کا اپنے عوام پر مظالم ڈہانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سرحدوں سے ماورا صحافیوں کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکومت 1979 میں اپنے قیام سے لے کر 2019 تک تہران کے علاقے میں اپنے ہی ملک کے 17 لاکھ افراد کو قید میں ڈال چکی ہے۔ اِن میں سے بہت سوں کو ہلاک کر دیئے گئے ہیں۔