نفاذ قانون کے امریکی اداروں کا دنیا بھر میں اپنے ہم منصب اداروں کے ساتھ تعاون

سرکاری اہلکار ٹی وی سکرین پر دکھائی دینے والے آپریشن ٹروجن شیلڈ کے نشان کے سامنے منہ پر ماسک لگائے کھڑے ہیں۔ (© Denis Poroy/AP Images)
جون میں سان ڈی ایگو میں ہونے والی اخباری کانفرنس میں امریکہ اور آسٹریلیا کے قانون نافذ کرنے والے اہلکار آپریشن ٹروجن شیلڈ کے نشان کے سامنے کھڑے ہیں جس میں ملزموں کو گرفتار کرنے کے لیے ایک مسیجنگ ایپ سے کام لیا گیا۔ (© Denis Poroy/AP Images)

جرم سرحدوں کا احترام نہیں کرتا۔ یہی وجہ کے قانون نافذ کرنے والے امریکی عہدیدار بین الاقوامی مجرموں کو پکڑنے کے لیے دوسرے ممالک میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے افسر اکٹھے تربیت حاصل کرتے ہیں، آپس میں معلومات اور وسائل شیئر کرتے ہیں اور گرفتاری کے پیچیدہ مشنوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔

سرحدوں کے آر پار ہونے والے جرائم کا ایک وسیع سلسلہ شامل ہے:

  • دہشت گردی
  • سائبر جرائم
  • ہتھیاروں کی سمگلنگ
  • منشیات کی سمگلنگ
  • انسانوں کی سمگلنگ
  • جنگلی حیات کی سمگلنگ
  • نقلی چیزیں بنانا
  • منی لانڈرنگ

ذیل میں چند ایک مثالیں دی جا رہی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکومت کے ادارے مجرموں کو تلاش کرنے اور اُن پر مقدمات چلانے کے لیے بین الاقوامی شراکت کاروں کے ساتھ کس طرح کام کرتے ہیں:

امریکی محکمہ خارجہ

محکمہ خارجہ کا بین الاقوامی منشیات اور نفاذ قانون کے امور کا بیورو (آئی این ایل) 90 ممالک میں منشیات کی سمگلنگ، بدعنوانی اور سرحدوں کے ارپار ہونے والے جرائم کے انسداد کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ شراکت داروں میں دوسرے ممالک، بین الاقوامی اور علاقائی تنظیمیں، غیر سرکاری تنظیمیں، اور امریکہ کے فوجداری مقدمات سے متعلق انصاف کے وفاقی، ریاستی اور مقامی ادارے شامل ہیں۔

یہ بیورو عکرہ، گھانا؛ بنکاک، بڈا پسٹ، ہنگری؛ گابورون، بوٹسوانہ؛ سان سلویڈور، ایلسلویڈور؛ اور امریکی ریاست نیو میکسیکو کے شہر روز ویل میں نفاذ قانون کی بین الاقوامی اکیڈمیاں (آئی ایل ای اے) چلاتا ہے۔

 سفید حفاظتی لباس، ماسک، اور دستانے پہنے ایک شخص کار بم دھماکے کے بعد ملبے سے کچھ تلاش کر رہا ہے (ILEA Budapest)
بوسنیا اور ہرزیگوینا، ہنگری، کوسوو اور مالدووا سے تعلق رکھنے والے زیرتربیت افسرایک کار بم کے دھماکے کے بعد موقع واردات سے شواہد جمع کر رہے ہیں۔ (ILEA Budapest)

1995ء سے لے کر آج تک یہ اکیڈمیاں 100 مملک سے تعلق رکھنے والے اعلٰی او درمیانے عہدوں پر کام کرنے والے 75,000  قانون نافذ کرنے والے افسروں کو تربیت دے چکی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے 15 وفاقی امریکی اداروں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ مخصوص کورس پڑہاتے ہیں۔ کارل بیکٹ آئی ایل ای اے سان سلویڈور میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں اور اُن کا تعلق امریکہ کے انسداد منشیات کے ادارے سے ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ” آئی ایل ای اے سان سلویڈور کی ہر ایک کلاس میں طلبا ایک دوسرے کے ساتھ ایسی جان پہچان اور دوستیاں بناتے ہیں جو [ان کی] پوری پیشہ ورانہ زندگیوں میں قائم رہتی ہیں اور ان سے سرحدوں کے آرپار منظم جرائم روکنے میں مدد ملتی ہے۔”

تربیت کے دیگر ذرائع کی طرح آئی ایل ای اے اکیڈمیاں بھی تربیت کا ایک ذریعہ ہیں۔ ائی ایل ای اے فوجداری کے انصاف کے بین الاقوامی اہکاروں کو تربیت دینے کے لیے امریکہ کے ریاستی اور مقامی فوجداری انصاف کے اداروں کے ساتھ اپنی شراکت داری کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ حالیہ چار سالہ مدت میں 3,100 ایسے اہلکاروں کو تربیت دی گئی۔

آئی این ایل کی پروگرام رابطہ کار، کیتھی مارچیز نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے پیشہ ور افراد زیرتربیت افراد کو بہترین طریقوں اور مشکلات کے بارے میں بتاتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “بیرونی ممالک میں فوجداری انصاف میں کام کرنے والے … ایک ایسے فرد سے بات کر رہے ہوتے ہیں جو وہی کام کرتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ اس سے فوری طور پر ایک خاص سطح کی پیشہ ورانہ بھائی بندی پیدا ہو جاتی ہے جو معلومات کو زیادہ بامعنی بنا دیتی ہے۔”

کیونکہ مجرم پکڑے جانے سے بچنے کے لیے ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہوتے رہتے ہیں، اس لیے محکمہ خارجہ انہیں پکڑنے کے لیے ضروری بین الاقوامی روابط پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے۔ پولیس کا 30 سالہ تجربہ رکھنے والی کارا روز کا شمار اُن  70 ماہرین میں ہوتا ہے جو آئی این ایل کی اِن پروگراموں کی تیاری میں مدد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو ساتتھ لے کر چلنا  “بیرونی ممالک سے تعلق رکھنے والے شراکت کاروں کو  جرائم کا پتہ چلانے اور سکیورٹی بڑہانے کے لیے اپنی کمیونٹیوں کے ساتھ کام کرنے کے طریقے تلاش کرنے کے قابل بناتا ہے۔”

آج کے مجرموں میں سائبر سپیس کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے۔ ذرا رینسم ویئر یا جملہ حقوق کی ڈیجیتل چوری کے بارے میں سوچیے۔ خارجہ اور انصاف کے محکموں کے زیرانتظام کام کرنے والا “سرحدوں سے ماورا اور جدید ٹکنالوجی کا نفاذِ قانون کا عالمی نیٹ ورک” مذکورہ قسم کی سرگرمیوں کی تحقیقات کرنے اور مقدمات قائم کرنے کی صلاحیتیں پیدا کرتا ہے۔ یہ قانون نافذ کرنے والے افسروں اور شراکت کار ممالک کے لیے امریکہ کے وفاقی سرپرستوں اور  ڈیجیٹل جرائم کے ماہرین کا ایک عالمی نیٹ ورک ہمیشہ دستیاب رکھتا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف

محکمہ انصاف میں امریکہ کا منشیات کے قوانین کے نفاذ کا ادارہ (ڈی ای اے) اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف بی آئی) سرحدوں سے ماورا کیے جانے والے جرائم سے نمٹتے ہیں۔

ڈی ای اے کا ہدف امریکہ اور اس کے شہریوں کو متاثر کرنے والی منشیات کی سمگلنگ، منی لانڈرنگ اور ان کاموں میں ملوث  بین الاقوامی مجرم تنظیمیں ہوتی ہیں۔


آپریشن ٹروجن شیلڈ نے وہ معلومات اکٹھی کیں جن کے نتیجے میں 800 مبینہ مجرموں کو گرفتار کیا گیا۔

اس کی تحقیقات کے دوران پیبلو ایسکوبار اور یواکن “ایلچاپو” گزمین سمیت منشیات کی دنیا کے سب سے بڑے سمگلروں کا پیچھا کیا گیا۔ کوئی بھی مہینہ لے لیں تو آپ کو ایسی خبریں مل جائیں گیں جن میں گرفتاری کے اُن آپریشنز کا حوالہ دیا گیا ہو گا جن میں یہ ادارہ اہم کردار ادا کر چکا ہوتا ہے۔

ڈی ای اے کے 91 دفاتر 69 ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ دفاتر امریکی عہدیداروں کے میزبان ممالک کے اپنے ہم منصبوں کو کورسوں کی پیش کش کرتے ہیں۔ یہ کورس منشیات سے متعلق اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات، قیادت، اہلکاروں کا انتظام، اخلاقیات اور بحران سے نمٹنے سے متعلق ہوتے ہیں۔

ایف بی آئی کا ادارہ 70 برس سے بیرونی ممالک میں اپنے اہلکار تعینات کرتا چلا آ رہا ہے۔ یہ بیورو اِن ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس اور سکیورٹی سروسز کے ساتھ تعلقات قائم کرتا ہے اور معلومات کے باقاعدہ تبادلے کو یقینی بناتا ہے۔ آج دنیا بھر میں 180 ممالک، علاقہ جات اور جزائر کے اہم شہروں میں لیگل اٹیچیوں کے 63 دفاتر اور دو درجن نسبتاً چھوٹے ذیلی دفاتر موجود ہیں۔ ہر ایک دفتر میزبان ملک کی رضامندی سے قائم کیا جاتا ہے اور یہ امریکی سفارت خانے یا قونصلیٹ میں واقع ہوتا ہے۔

 جیکٹیں پہنے دو آدمی یواکن "ایلچاپو" گزمین کو جہاز سے اتار کر لے جا رہے ہیں۔ (© U.S. law enforcement/AP Images)
2017ء میں نیویارک میں امریکہ اہلکار میکسیکو کے سمگلنگ کے بادشاہ یواکن “ایلچاپو” گزمین کو جہاز سے اتار کر لے جا رہے ہیں۔ (© U.S. law enforcement/AP Images)

حال ہی میں ایف بی آَئی نے آسڑیلیا کی وفاقی پولیس، یورپی یونین کے قانون نافذ کرنے والے ادارے، یوروپول اور لگ بھگ ایک درجن ممالک کے اداروں نے ایک ایسا انکرپٹڈ پلیٹ فارم تیار کیا جسے مجرم تنظیموں کے زیراستعمال 12,000 آلات میں استعمال کیا گیا۔ اسے آپریشن ٹروجن شیلڈ کا نام دیا گیا اور اس کے تحت ابھی تک 800 مبینہ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

امریکی کوسٹ گارڈ

کوسٹ گارڈ بھی غیرملکی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور غیرملکی اہلکاروں کو تربیت دیتا ہے۔ کوسٹ گارڈ باہر سے آنے والے بین الاقوامی طلبا کو کلاسوں کی پیش کش کرنے کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک میں موبائل تربیت دینے والی ٹیمیں بھی بھیجتا ہے۔

کوسٹ گارڈ کی بین الاقوامی تربیت، تکنیکی امداد اور پیشہ ورانہ تبادلوں سے علاقائی مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ اِن مقاصد میں غیرقانونی، چوری چھپے یا خلاف ضابطہ ماہی گیری کو ختم کرنے جیسے مقاصد بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس قسم کی ماہی گیری سے سمندری خوراک کے ذخیروں کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں اور قانونی طور پر مچھلیاں پکڑنے والوں کا نقصان ہوتا ہے۔

کوسٹ گارڈ کے شپ رائیڈر یعنی اہلکاروں کے غیرملکی جہازوں پر سفر کرنے سے متعلق سمجھوتوں سے اس کے افسروں یا شراکت کار ممالک کے افسروں کو دوسرے ممالک کی جانب سے مشکوک جہازوں کی تلاشی لینے کی اجازت ہوتی ہے۔ مثال کے طورپر ان سمجھوتوں کی وجہ سے غیرممالک کے جہازوں پرخدمات انجام دینے والے کوسٹ گارڈ کے یونٹوں نے گزشتہ چھ ماہ میں 4,466 کلوگرام کوکین اور 454 کلوگرام چرس برآمد کی ہے۔

 وردیوں میں ملبوس امریکی کوسٹ گارڈ کا عملہ جہاز سے ڈبے اتار رہا ہے (U.S. Coast Guard/Chief Petty Officer Charly Tautfest)
“ٹاہوما” نامی کوسٹ گارڈ کے جہاز سے عملے کے اراکین جون میں پورٹ ایورگلیڈز، فلوریڈا میں کوکین اتار رہے ہیں۔ (U.S. Coast Guard/Chief Petty Officer Charly Tautfest)

کوسٹ گارڈ کے برائن چیپ مین نے کہا، “شپ رائیڈر سمجھوتوں نے سمندروں میں قانون کے نفاذ کے لیے حکام کو اختیارات دیئے اور غیرقانونی کام کرنے والوں کو بین الاقوامی قانون اور علاقائی حدود سے ناجائز فائدہ اٹھانے سے روکا۔”