نوبیل انعام جیتنے والے امریکی سائنسدانوں میں ہیپاٹائٹس سی کا وائرس دریافت کرنے والے سائنسدان بھی شامل ہیں

داڑھی والے آدمی کا سنہری لکیروں سے بنایا ہوا خاکہ (© Shutterstock)
(© Shutterstock)

امریکی محققین کی ہیپاٹائٹس سی کی دریافت کی کوششوں نے اُن نئے ٹیسٹوں اور علاجوں کے لیے راہیں ہموار کیں جن کی بدولت دنیا بھر مِیں لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بچانا ممکن ہوا۔ 5 اکتوبر کو دو امریکیوں نے اس بیماری کے علاج کی کوششوں کی بنیاد پر فزیالوجی یا میڈیسن کے شعبے میں نوبیل انعام وصول کیا۔

ہاروی جے ایلٹر اور چارلس ایم رائس نامی دو امریکیوں کی ہیپاٹائٹس سی وائرس کی دریافت کی کوششوں نے اس بیماری کے خون کے نئے ٹیسٹوں اور علاج کے نئے طریقوں  کو ممکن بنایا۔ یہ بیماری جگر کے بگاڑ اور جگر کے سرطان کا باعث بنتی ہے۔ رائس اور ایلٹر کے ساتھ اس نوبیل انعام میں محقق، مائیکل ہوٹن بھی شامل ہیں۔ ہوٹن ایک سائنسدان ہیں۔ اُن کا تعلق برطانیہ سے ہے اور آج کل کینیڈا میّ کام کر رہے ہیں۔

ان کی کوششوں سے وضح کیے گئے خون کے نئے ٹیسٹوں کی بدولت دنیا کے بہت سے حصوں میں لوگوں کو خون لگانے کے ذریعے وائرس کی منتقلی کا موثر طریقے سے ختم کر دیا گیا ہے۔ اس سے عالمی سطح پر صحت میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے۔

نوبیل اسمبلی نے کہا، "نوبیل انعام جیتنے والوں کی جانب سے ہیپاٹائٹس سی کی دریافت متعدی بیماریوں کے خلاف جاری جنگ میں ایک تاریخی کامیابی ہے۔ تاریخ میں پہلی بار اب اس بیماری کا علاج کیا جا سکتا ہے جس سے دنیا کی آبادی میں ہیپاٹائٹس سی کی بیماری کے خاتمے کی امیدیں روشن ہو گئی ہیں۔”

محققین کو ہیپاٹائٹس سی کے علاج میں حاصل ہونے والی کامیابیاں، بیماریوں کے خلاف جنگ میں طبی تحقیق اور کامیابیوں میں امریکی قیادت کی علامت ہیں۔ امریکہ آج کل دنیا بھر میں مختصر ترین وقت میں کوورونا وائرس کی ویکسین پہنچانے پر کام کر رہا ہے۔

نوبیل انعام  کا آغاز 1901ء میں ہوا۔ نوبیل انعامات فزیالوجی یا میڈیسن، فزکس، کیمسٹری، ادب اور امن کے شعبوں میں شاندار خدمات کے اعتراف کے طور پر دیئے جاتے ہیں۔ 1968ء میں سویڈن کے مرکزی بنک نے الفریڈ نوبیل کی یاد میں معاشی سائنسز کے انعام کا بھی اجراء کیا۔

نوبیل انعام حاصل کرنے والوں کی اس سال کل تعداد 12 ہے جن میں سے سات کا تعلق امریکہ سے ہے۔

چھ زمروں میں نوبیل انعام جیتنے والے مندرجہ ذیل افراد ہیں:

فزیالوجی یا میڈیسن

" ہیپاٹائٹس سی کی دریافت پر:”

  • ہاروی جے ایلٹر، صحت کا قومی ادارہ، میری لینڈ، ریاستہائے متحدہ امریکہ
  • مائیکل ہوٹن، البرٹا یونیورسٹی، ایڈمنٹن، کینیڈا
  • چارلس ایم رائس، راک فیلر یونیورسٹی، نیو یارک، نیویارک، ریاستہائے متحدہ امریکہ

فزکس

"یہ دریافت کرنے پر کہ بلیک ہول کی ساخت عمومی نظریہ اضافیت کی ایک بہت بڑی پیشگوئی ہے”: 

  • راجر پینروز، آکسفورڈ یونیورسٹی، آکسفورڈ، برطانیہ

"ہماری کہکشاں کے مرکز میں ایک انتہائی ضخیم ٹھوس قسم کی چیز کی دریافت کی دریافت پر”:

  • رچرڈ گینزل، کیلی فورنیا یونیورسٹی، برکلی، کیلی فورنیا، ریاستہائے متحدہ امریکہ، اور میکس پلینک انسٹی ٹیوٹ برائے ماورائے ارض فزکس، گارچنگ، جرمنی
  • اینڈریا گیئز، کیلی فورنیا یونیورسٹی، لاس اینجلیس، کیلی فورنیا، ریاستہائے متحدہ امریکہ

کیمسٹری

"جینوم کی تدوین کے لیے ایک طریقہ کار کی تیاری پر:”

  • ایمینوئل شارپینٹیئر،بیماریوں کے لگنے یا اِن کی نشوونما کا میکس پلینک یونٹ، برلن، جرمنی
  • جینیفر اے ڈاؤڈنا، کیلی فورنیا یونیورسٹی، برکلی، کیلی فورنیا، ریاستہائے متحدہ امریکہ

ادب

"اُس کی واضح شاعرانہ آواز جو خالص خوبصورتی کے ساتھ انفرادی وجود کو آفاقی بناتی ہے”:

  • لوئیز گلاک، ییل یونیورسٹی، نیو ہیون، کنیٹی کٹ، ریاستہائے متحدہ میں روزنکرانز عارضی مصنفہ

امن

"بھوک کے خاتمے کے لیے اس کی کوششوں پر، اس کی تصادموں سے متاثرہ علاقوں میں امن کے لیے حالات میں بہتری لانے کی کوششوں پر اور جنگ اور تصادم میں بھوک کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے روکنے کی کوششوں میں ایک متحرک قوت کے طور پر کام کرنے پر”:

  • خوراک کا عالمی پروگرام (ڈبلیو ایف پی)، اقوام متحدہ

اقتصادی سائنسز

"نیلامی کے نظریے میں بہتری لانے اور نیلامی کے نئے طریقوں کی دریافت پر”:

  • پال اے مِلگروم، سٹینفورڈ یونیورسٹی، سٹینفورڈ، کیلی فورنیا، ریاستہائے متحدہ امریکہ
  • رابرٹ بی ولسن، سٹینفورڈ یونیورسٹی، سٹینفورڈ، کیلی فورنیا، ریاستہائے متحدہ امریکہ