نکارا گوا میں احتجاجوں کے آغاز کا ایک سال: امریکہ کی نکارا گوا پرعائد پابندیوں میں سختی

نکارا گوا کے اپنے ملک کے شہریوں کے خلاف کاروائیاں شروع کرنے کا ایک سال پورے ہونے کے بعد امریکہ ڈینیئل اورٹیگا کی جابر اور بدعنوان حکومت پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ ڈالنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

17 اپریل کو ٹرمپ انتظامیہ نے نکارا گوا کے ‘ بانکو کورپوراتیوو’ (بینکورپ)، صدر اورٹیگا کے بیٹے لارینو اورٹیگا اور صدر اورٹیگا کی بیوی اور نائب صدر روساریو موریلو پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا۔ اس اقدام سے امریکہ میں موجود بینکورپ اور چھوٹے اورٹیگا کی ملکیت اثاثوں کو منجمد کر دیا گیا ہے اور امریکی شہریوں پر اُن کے ساتھ کاروبار کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

امریکہ کی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا، “یہ اقدامات اِن سب کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ اورٹیگا حکومت کو سہارا دینے والوں کو نکارا گوا کی معیشت اور اس کے عوام کے ساتھ زیادتیاں کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔” نکارا گوا کی حکومت نے مارچ میں اسے اُس وقت خریدنے کی کوشش کی تھی جب امریکہ نے جنوری میں اس بنک کی مالک کمپنی، البا دو نکارا گوا (مخففاً البانیسا) پر پابندی لگائی تھی۔ البانیسا وینیز ویلا کی تیل کی سرکاری کمپنی ‘ پیٹرولیوس دو وینیز ویلا ایس اے’ (پی ڈی وی ایس اے) اور پیٹرولیوس دو نکارا گوا کی مشترکہ ملکیت ہے۔

Woman walking by large windows and glass door (© Oswaldo Rivas/Reuters)
نکارا گوا کے شہر ماناگوا میں ایک عورت بینکورپ کی ایک برانچ کے سامنے سے گزر رہی ہے۔ (© Anton Novoderezhkin/TASS/Getty Images)

2018 کے آخر میں صدر ٹرمپ نے نکارا گوا کے انسانی حقوق اور انسداد بدعنوانی ایکٹ 2018 کو منظور کر کے نکارا گوا میں جمہوریت کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ امریکی عزم کا اعادہ کیا تھا۔ اس قانون کی منظوری سے قبل وزارت خزانہ نے سرکاری اہل کاروں اور نائب صدر موریلو سمیت صدر اورٹیگا کے معاونین کی ایک بڑی تعداد پر انفرادی مالیاتی پابندیاں اور/ یا [امریکی] ویزہ دینے پر پابندیاں لگا دیں تھیں۔

نکارا گوا، وینیز ویلا اور کیوبا کی حکومتوں کو امریکہ ” ظلم کے ایک ایسے سہ ملکی گٹھ جوڑ” کے طور پر دیکھتا ہے جو تینوں ممالک کے شہریوں  پر ظلم کرنے اور اُنہیں پسماندہ رکھنے کے لیے ایک دوسرے کو سہارا دینے کے لیے قریبی تعاون کرتے ہیں۔ بین الاقوامی اور علاقائی شراکت کاروں کے تعاون سے امریکہ ہر ایک کو دوسرے دونوں سے الگ کرنے کے لیے اقتصادی اور سفارتی دباؤ کو ملا جلا کر استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔

جیل، جلاوطنی یا موت

یہ پابندیاں حکومت کی جانب سے اپنے شہریوں کے حقوق کی پامالیوں کا رد عمل ہیں۔ ٹیکس بڑہانے اور پنشنیں کم کرنے کی ایک حکومتی تجویز کے بعد 18 اپریل 2018 کو نکارا گوا میں پُرامن عوامی احتجاج شروع ہو گئے۔ بالاخر حکومت کو پسپا ہونا پڑا۔ مگر اس سے قبل حکومت نے درجنوں افراد کو مار ڈالا اور سینکڑوں کو گرفتار کر لیا جس کے نتیجے میں مزید ہنگامے پھوٹ پڑے اور صدر اورٹیگا کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ اس کے بعد حکومت نے ظلم و تشدد کی ایک طویل مہم شروع کر دی جس میں حکومت کی زیادتیوں کی مخالفت کرنے والے ہر شخص کو نشانہ بنایا گیا۔ اس میں صحافی، سول سوسائٹی کے لوگ اور ہر وہ شخص شامل تھا جس نے آزادی اظہار کے اپنے حق کو استعمال کرنے کی حراًت کی.

جمہوریت، انسانی حقوق، اور محنت کے نائب معاون وزیر خارجہ، راجر کارسٹنز نے جنیوا میں ایک شخص کو بتایا کہ حکومتی مخالفین کو تین میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوتا ہے: جیل، جلاوطنی یا موت۔

آج تک یہ حکومت کم از کم اپنے 325 شہریوں کو ہلاک کر چکی ہے، سینکڑوں کو جیلوں میں ڈال چکی ہے اور  60,000  سے زائد شہریوں کو ہمسایہ ممالک میں دھکیل چکی ہے۔ امریکہ اور بین الاقوامی شراکتدار، اورٹیگا کے ظلم کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے بحران کے ایک ایسے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں جس میں آزاد اور منصفانہ انتخابات بھی شامل ہوں۔