نیویارک سٹاک ایکسچینج کا افریقہ کے پہلے 'یونی کارن' کا خیرمقدم

نائجیریا میں قائم آن لائن خوردہ فروش 'جمیا' 12 اپریل کو اس وقت افریقہ کی ٹیکنالوجی کی پہلی نئی کمپنی بن گئی جب اس کے حصص نیویارک سٹاک ایکسچینج پر خرید و فروخت کے لیے پیش کیے گئے۔

2013ء میں یہ کمپنی افریقہ کی پہلی 'یونی کارن' کمپنی بننے کی وجہ سے شہہ سرخیوں کا موضوع بنی۔ ٹیکنالوجی کی صنعت میں جب کسی نئی کمپنی کی مالیت ایک ارب ڈالر یا اس سے زائد ہوتو یہ 'یونی کارن' کہلاتی ہے۔

جمیا خرید و فروخت کی ڈیجیٹل مارکیٹ ہے جو افریقی براعظم کے 14 ممالک میں کاروبار کرتی ہے۔ ہر ملک کی مناسبت سے تیار کی گئی اس کی ویب سائٹوں پر دکاندار ٹیلی ویژن سے لے کر صابن سمیت 81,000 اشیا فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔ 2018ء میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اشیا میں سمارٹ فون اور جوتے شامل تھے۔

2012ء میں اپنے قیام کے وقت سے یہ کمپنی افریقہ کے زیریں صحارا کے اُن دور دراز علاقوں میں سامان پہنچانے کی وجہ سے مقبول ہوئی جہاں ای کامرس کی بڑی بڑی کمپنیوں کو ابھی بہت سا کام کرنا ہے۔

گو کہ 2018ء میں جمیا کی آمدن میں 39 فیصد اضافہ ہوا ہے مگر نئی مارکیٹ میں کاروبار بڑھانے پر اٹھنے والے اخراجات کا مطلب ہے کہ جمیا کو سالانہ منافع بڑہانا ہے۔ جمیا کی نیویارک سٹاک ایکسچینج میں شامل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

Man holding a parcel while seated on a motorbike (© Jumia)
جمیا نے ای کامرس میں افریقی سوچ وضح کی ہے۔ زیادہ تر سامان موٹر سائیکلوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔ (© Jumia)

اگر آپ وہاں تک پہنچ سکتے ہیں

جب کوئی کمپنی اپنے حصص عوام کو کسی جگہ فروخت کے لیے پیش کرنا چاہتی ہے تو نیویارک کی سٹاک ایکسچینچ یعنی این وائی ایس ای سے بڑی کوئی اور جگہ ہو ہی نہیں سکتی۔ این وائی ایس ای میں 2,300 کمپنیاں ہیں اور اِن کا مجموعی سرمایہ27.3  کھرب ڈالر کے برابر ہے۔ این وائی ایس ای پر کاروبار کرنے والی کمپنیوں کی مجموعی تعداد کا 90 فیصد غیر ملکی کمپنیوں پر مشتمل ہے جس کی وجوہات اس کا حجم اور تنوع ہیں۔

این وائی ایس ای میں سرمائے کی بین الاقوامی مارکیٹوں کے سربراہ، ایلکس ابراہیم کا خیال ہے کہ جس طریقے سے این وائی ایس ای میں حصص کی خرید و فروخت ہوتی ہے کمپنیاں اسے ترجیح دیتی ہیں: یعنی کمپیوٹر سے حساب کتاب کرنے والے نظام کی بجائے 'نامزد  مارکیٹ ساز' کہلانے والے چلتے پھرتے لوگ۔

Image of Jumia listed on the NYSE trading board (State Dept./ L. Rawls)
(State Dept./ L. Rawls)

انہوں نے کہا، "اگر آپ ہماری کارکردگی کا مقابلہ ہمارے مسابقت کاروں سے کریں، تو [ہمارے ہاں] مارکیٹ کا معیار بہتر ہے، نقصان کا خطرہ کم ہے، قیمتیں مستحکم اور مضبوط ہیں۔ یہ سب کچھ کمپنیوں کے لیے بہت پرکشش ہے۔" انہوں نے کہا کہ کمپنیاں این وائی ایس ای کی ابتدائی اور اختتامی گھنٹیاں بجانے سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ یہ ایک ایسا استحقاق ہے جو ایکسچینج کے اراکین کے لیے مخصوص ہے۔ جمیا کے شریک بانیوں کو افریقہ کی ٹکنالوجی کی ایک نئی کمپنی کو عالمی منڈی میں لانے کے اعزاز کے طور پر 12 اپریل کو ایکسچینج میں کام کے ابتدا کی گھنٹی بجانے کی دعوت دی گئی۔

ابراہیم نے کہا، "جمیا دنیا کے اس حصے [افریقہ] میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ایک وسیلے کا کام دے گی کیونکہ ہمارے ہاں امریکی مارکیٹ میں جمیا جیسی کوئی اور کمپنی نہیں ہے۔ بلکہ اب اوکلاہوما کے جان اور میری بھی جمیا میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔"