نیو یارک میں مفت اور تیزرفتار وائی فائی، ہر گلی کے نکڑ پر

پرانی طرز کے "پے فون" یعنی  "پیسے ڈال کر استعمال کیے جانے والے ٹیلی فون" نیا روپ دھار رہے ہیں۔

نیویارک شہر میں ہزاروں ٹیلی فون بوتھوں کی جگہ 2.9 میٹر بلند کیوسک یعنی کھوکے بننا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کیوسکوں کے ذریعے مہیا کردہ برق رفتار اور مفت انٹر نیٹ ہر وہ شخص استعمال کر سکے گا جو اِن سے45 میٹر کے فاصلے کے اندر موجود گا۔

موبائل فون کے اس قدر عام  ہوجانے کی وجہ سے، "پے فون" فرسودہ ہوگئے ہیں۔  دوسری جانب  وائی  فائی کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔  انٹرنیٹ کے نئے کیوسکوں سے لوگ مفت فون بھی کرسکیں گے۔

Pay phones on city sidewalk (Shutterstock)
نیو یارک کی سڑکوں پر اس قسم کے "پے فون بوتھ " اب قصہ پارینہ بنتے جارہے ہیں۔ (Shutterstock)

"لِنکس" کہلانے والے 7,500 کیوسکوں کی تنصیب، اگلے کئی برسوں میں مکمل ہو گی۔ میئر بِل ڈی بلاسیو کے کہنے کے مطابق لِنکس کی صورت میں نیو یارک شہر کو دنیا کا سب سے بڑا، مفت اور تیزترین میونسپل وائی فائی نیٹ ورک میسر آ جائے گا۔ اس طرح عرف عام میں "بِگ ایپل" کہلانے والا نیویارک شہر اپنے مکینوں اور مہمانوں کے لیے یکساں طور پر "زیادہ برابری والا، زیادہ کشادہ دِل، اور انٹر نیٹ کی زیادہ سہولتوں والا شہر" بن جائے گا۔

کیوسک کی تنصیبات پر نیو یارک کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوگا، بلکہ ان سے شہر کو آمدنی ہوگی۔ لِنک این وائی سی [LinkNYC ] نامی انٹرنیٹ کمپنیوں کا ایک اتحاد  سرکاری فٹ پاتھوں پر یہ کیوسک تعمیر کررہا ہے۔ اس سہولت کے عوض وہ کیوسکوں پراشتہارات کے لیے فروخت ہونے والی جگہوں سے جو آمدنی ہوگی، اُس کا ایک حصہ نیویارک شہر کو دے گا۔ ایک تخمینے کے مطابق اس سے شہر کو 12 سال کے عرصے میں 50 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوگی۔

ہر کھوکے میں ایک ٹیبلیٹ ہے جسے لوگ ویب پر سرفنگ کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، نقشے حاصل کر سکتے ہیں، راستے ڈھونڈ سکتے ہیں اور شہر کی طرف سے مہیا کی جانے والی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔  وہ یہاں سے ملک کی 50 ریاستوں میں ٹیلی فون بھی کرسکتے ہیں۔ اس میں ہنگامی صورتحال میں مدد طلب کرنے کی خاطر 911  پر فون کرنے کے لیے ایک لال بٹن بھی لگایا گیا ہے۔ حتیٰ کہ لوگ یہاں اپنے سیل فون وغیرہ کی بیٹریاں بھی چارج کرسکتے ہیں۔

لنک این وائی سی کے مطابق، وائی فائی کی رفتار گھر کے نیٹ ورکس کے مقابلے میں 100 گنا تیز ہے۔ وی او اے کی کیٹی ویور کہتی ہیں کہ اس پروگرام پر نکتہ چینی کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ بعض ہمسایوں نے کیوسکوں سے آنے والی موسیقی کی بلند آوازیں، وڈیوز اور ٹیلی ویژن پروگراموں کے بارے میں شکایت کی ہے۔

Person holding USB cable next to charging station (Courtesy of CityBridge)
لِنک این وائی سی کی قریب سے لی گئی ایک تصویر۔ (Courtesy photo)

کچھ لوگوں نے شہر کی جانب سے ٹریفک اور جرائم پر نظر رکھنے کے لیے کیوسکوں پر نصب کیمروں کے استعمال سمیت، پرائیویسی یعنی نجی رازداری کے مسائل کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لِنک این وائی سی کا کہنا ہے وہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے یقینی طور پر محفوظ کنکشن مہیا کرتے ہیں اور صارفین کے ای میل  ایڈریس اور جن ویب سائیٹوں پر وہ جاتے ہیں ان کے بارے میں کسی تیسرے فریق کو نہیں بتایا جاتا۔

اضافی  رپورٹنگ –  از شئیر امریکہ ۔